بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حسد یا جہالت؟
از قلم: محمد بلال برکاتی نیپالی
گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچی ہوئی ہے ،، Northe Nepal یعنی دھنوشہ ، مہوتری ، کے علماء کو لگتا ہیکہ وہ جو کررہے ہیں یہی دین کا سب سے بڑا کام ہے جبکہ حقیقت میں قوم تباہ و برباد ہوتی جارہی ہے ،
اتری نیپال میں تین طرح کے لوگ رہتے ہیں ایک حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کے ماننے والے دوسرے ، حافظ زاہد حسین کے ماننے والے اور تیسرے قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ کے ماننے والے ،، حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کے ماننےوالوں کو جیشی کہا جاتا ہے اور حافظ زاہد حسین کے ماننے والوں کو زاہدی کہا جاتا ہے ، جبکہ قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب کے ماننے والوں کو عثمانی کہا جاتا ہے ،،
اصل اختلاف جیشی اور زاہدی میں ہے جو کہ اظہر من الشمس ہے جسے بیان کرنے کی یہاں حاجت نہیں ،، عثمانی کی تو قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب معتدل مزاج ہیں اور وہ تمام سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں جو کہ بہت ہی عمدہ کام ہے ،، اور ملک نیپال میں اس کی اشد ضرورت ہے ، لیکن علماء جیشی اور علماء زاہدی کو اتحاد راس نہیں آرہی ہے ، اور دونوں مل کر قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب پر دن رات حملہ آور رہتے ہیں ،،
حملہ کرنے میں جہاں زاہدی پیش پیش رہتا ہے وہیں جیشی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے ہیں ،،
یہ لوگ اتحاد کے دشمن ہیں ،، انہیں لوگوں کی وجہ سے اس اطراف میں بدعقیدگی پھیل رہی ہے ،، جب جنکپور جیسے سنیوں کے گڑھ میں وہابی اہلحدیث نے الکٹرانک میڈیا ایف ایم کے ذریعے اہلسنت والجماعت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی تو اس وقت نہ کوئی جیشی نظر آرہے تھے اور نہ ہی کوئی زاہدی ایسے سخت ترین حالات میں وہی مرد مجاہد جن کو دنیا قاضی نیپال کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے سامنے آئے اور اہلحدیث سلفی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور الیکٹرانک میڈیا ایف ایم ہی کے ذریعے وہابیوں کے باطل نظریے اور گمراہ کن باتوں کا مکمل جواب دیا اور وہابیوں کو ناکے چنے چبوا دیا اور اس طرح باطل خائف و خاصر ہوکر میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا اور پھر جنکپور اور اس اطراف میں سنیت بچی ،،
مجھے نہایت افسوس اس وقت ہوا جب ایک لقب کو لے کر ہمارے ہی جیشی بھائیوں نے قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ پر طرح طرح کے الزامات عائد کرنے لگے یہاں تک کہ جب کچھ نہیں ملا تو ان کی ذات پر حملہ آور ہوگیا ، جو کہ نہایت کی غلیظ حرکت ہے ، ایک ایمان والا مسلمان ایسا قطعی نہیں کر سکتا ،،
جب حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصال پر ملال ہوا تو زاہدیوں نے ایسی ایسی حرکتیں کیں کہ شیطان بھی شرما جائے زاہدیوں نے پرچے بازی کی فتوی بازی کی یہاں تک کہ یہ اعلان کردیا کہ جو حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کے جنازے میں جائے گا سب کا ایمان چلا جائے گا سب پر تجدید ایمان و نکاح ضروری ہوگا ، اور یہ اعلان پرچے میں چھپواکر گاؤں گاؤں بانٹا گیا ، شہر شہر پھیلایا گیا ، انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا کے ذریعے واٹس ایپ فیسبک یوٹیوب کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلایا گیا ، اور عوام کو حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کی نماز جنازہ میں آنے سے روکا گیا ،، ایسے حالات میں *وہی مرد مجاھد قاضی نیپال علامہ مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ نے ان زاہدیوں کے اس اوچھے حرکتوں کا منہ توڑ جواب دیا اور مولانا ارشاد رضا کے ذریعے ایک واٹس ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا جس میں زاہدیوں کے اس حرکت کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور عوام و خواص سے حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کے جنازے میں شرکت کی دعوت دی اور خود بھی حاضری ہونے کا یقین دہانی کروائی اور پھر اس طرح عوام کو زاہدی فتنہ سے بچایا گیا، جو گاؤں کا گاؤں جنازے میں آنے سے ڈرنے لگی تھی قاضی صاحب کی وائس وائرل ہوتے ہی سارے لوگوں نے جنازے میں شرکت کی* ،، یہی وجہ بنی کہ یہ زاہدی حضرات قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ کا دشمن بن گیا ، کیونکہ ان زاہدیوں کے مشن کو قاضی نیپال صاحب قبلہ نے چور چور جو کردیا ،،
ایسے وقت میں ایک بھی ہمارے جیشی علماء سامنے نہیں آئے جو اس زاہدی کا فتنہ کر رد کرتے ،، مگر اس کا صلہ قاضی نیپال صاحب قبلہ کو یہ ملا کہ ہمارے جیشی علماء خود زاہدیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ کا مخالف بن گیا ،،
یہ زاہدی آج بھی ہمارے پیر و مرشد حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کو کافر کہہ رہا ہے ان کی شان اقدس میں توہین کررہا ہے ،، مگر آج تک کوئی بھی جیشی علماء میں سے زاہدیوں کے مغلظات کا جواب نہیں دیا ،، اب کیوں جواب نہیں دے رہے ہیں وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ،،
جبکہ قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی صاحب قبلہ نے آج تک حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کی شان میں کوئی نازیبا الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ حضور شیر نیپال کے معتقد ہی رہے ہیں اور آج بھی معتقد ہی ہیں پھر بھی نہ جانے ہماری جیشی علماء کو کس بات کی دشمنی ہے ،،
، یقینا یہ *حسد* ہے ورنہ کوئی بھی ایسا کرہی نہیں سکتا ہے ، ایک کہاوت ہے کہ حسد میں کرے دھرم کا ناس وہی حالات اس وقت چل رہے ہیں ، اللہ سب کو ھدایت دے آمین،
لکھنے کو تو لاتعداد باتیں ہیں مگر میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ضرورت پڑی تو ان شاءاللہ تعالیٰ مکمل جواب دیا جائے گا ،، وما توفیقی الا باللہ ،، فقط والسلام

No comments: