اصلاح معاشرہ کانفرنس کھڑہی ٹولہ کی حقیقت

 
لك الحمد يا الله والصلوٰة والسلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه و آله و بارك وسلم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اصلاح معاشرہ کانفرنس کی حقیقت

گزشتہ روز مورخہ 10/اپریل/2021 بروز سنیچر بمقام کھڑہی ٹولہ ہرینگر گاؤں پالیکا 4 سنسری نیپال *جو کہ اہلسنت والجماعت مسلک اعلیٰ حضرت کے ماننے والوں کا ایک محلہ ہے جہاں اکثریت سنی حنفی بریلوی حضرات آباد ہیں* اس میں جناب کریم الدین کے دروازے پر ایک پروگرام بنام *اصلاح معاشرہ کانفرنس* منعقد ہوئی اس پروگرام کی حقیقت حقیقت اور اس کا پس منظر 
،
پروگرام دن کے دو بجے سے رات کے تقریبا دس بجے تک جاری رہا جس میں چند علماء جماعت اسلامی ( دیوبندی) نے انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے موضوعات پر خطاب کیا جس میں مختلف موضوعات تھے مثلا *جہیز کا خاتمہ ، نوجوانوں سے خطاب ، اتحاد بین المسلمین ، معاشرے کی اصلاح* وغیرہ بظاہر موضوعات تو بہت اچھا تھا مگر پس پردہ جو ان لوگوں نے اتحاد بین المسلمین کے نام پر جو باتیں کیں وہ ہمارے لئے ناقابل یقین ہے میں راقم السطور نے تین مولاناوں کی تقریر سنی مولانا رضوان فلاحی ، مولانا مبشر حسین ندوی ، مولانا شبیر ندوی ان تینوں حضرات کے خطاب کا محصل جو تھا وہ یہ ہیکہ ان لوگوں نے اتحاد کے نام پر اپنا باطل نظریہ ہم پر زبردستی تھوپنے کی کوشش کی ایک مولانا کا کہتا تھا کہ *ہمارا بازار ایک ہمارا سیاسی لیڈر ایک ہمارا رہن سہن ایک جیسا پھر ہمارے درمیان یہ دوری کیوں؟ لھذا ہمیں اب اتحاد کر لینا چاہیئے اور مل جل کر رہنا چاہئے* بات تو بظاہر بہت میٹھی اور پیاری ہے جس سے جہلاء کو کوئی متاثر تو کر سکتی ہے مگر اہل علم کو نہیں ، 

چلئے آپ نے اتحاد کی بات کی ہم ویلکم کرتے ہیں مگر ہماری چند شرائط ہیں ،
نمبر ایک اگر اتحاد چاہتے ہیں تو آپ سب سے پہلے اپنے اکابرین کی ان کتابوں میں سے جن میں اللہ رسول کی شان میں توہین کی گئی ان تمام عبارتوں کو کتابوں سے نکال باہر پھینکیں یا پھر ان کتابوں کا جلا دیں ، اور ان لوگوں سے جنہوں نے گستاخیاں کیں اپنا رستہ توڑ لیں ،
نمبر دو ۔ ہمارے جو معمولات اہلسنت جو کہ قرآن و احادیث کی روشنی میں چودہ سو سالوں سے ہم کرتے آرہے ہیں اس پر متفق ہو جائیں ،
اور تیسری یہ کہ اگر واقعی اتحاد چاہتے ہیں تو محبت رسول کو اپنے سینے سے لگائیں اور محبت رسول کی بنیاد پر متحد ہو جائیں ، 
اگر ایسا نہیں کر سکتے ہیں تو ہمارا آپ کا اتحاد ناممکن نہیں محال ہے لھذا آئندہ ہمیں اتحاد کی دعوت نہ دیں ، 
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جن معمولات اہلسنت کو آپ شرک بتا رہے ہیں وہ تمام باتیں آج سے تیس چالیس سال پیچھے جائیں تو آپ کے ہمارے آباؤ اجداد ان تمام معمولات کو بڑے ہی احسن طریقے سے نبھاتے رہے ہیں اور ایک دو دہائی سے آپ اسے شرک و بدعت بتا رہے ہیں تو *بتائیے کہ آپ کے اس نظریے سے آپ کے آباؤ اجداد کیا ٹھہرے؟* آپ کے نظریے کے تحت وہ مشرک ٹھہرے یا نہیں ؟ یقینا ٹھہرے تو گویا کہ آپ اپنے آباؤ اجداد کو مشرک کہہ رہے ہیں جب آپ اپنے باپ دادا کو نہیں بخشے تو آپ نے ہم سے یہ امید کیسے کرلیا کہ ہم آپ سے ان نظریات کو شرک و بدعت سمجھتے ہوئے آپ سے اتحاد کر لیں ، 

ایک مولانا صاحب نے دوران خطاب شرک کی تعریف کرتے ہوئے اس کا مفہوم بتانے کی کوشش کر رہے تھے مگر شرک کہ جو انہوں نے تعریف کی ہمارے یہاں کے بچے بھی اسے سن کر قبول نہ کرے چہ جائیکہ آپ نے علماء سے توقع کرلیا ، آپ شرک کی تعریف میں جو مثالیں دے رہے تھے دودھ کو پانی میں ملانا ، اور پانی کو دودھ میں اور پھر دودھ میں چینی کو ملا رہے تھے شرک کا سمجھانے کے لئے ہمیں تو لگا کہ آپ چائے بنانے کی ترکیب بتا رہے ہیں ، تعجب ہوا آپ کی تعریف سن کر اور ہنسی بھی آئی ، ان شاءاللہ تعالیٰ ہم آپ کو اس کی تعریف و مفہوم ضرور سمجھائیں گے ، مناسب وقت پر ، 

ایک دوسرے مولانا صاحب دوران خطاب فرما رہے تھے کہ قرآن نے میں متحد رہنے کا حکم دیا اور ہم آج منتشر ہو گئے ، اور قرآن کی آیات بھی آپ نے پیش کی ، 
*وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا*
یعنی اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو اور آپس میں پھوٹ مت ڈالو 
الحمدللہ ہمارا بھی یہی نظریہ ہے کہ 
*اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت* 
مگر آپ نے اس کی جو تشریح و توضیح کی وہ بالکل خلاف شرع کیا ، آپ سے اس سے فرقہ بندی کی بھی مخالفت کی اور اسے حرام قرار دیا ، آپس میں پھوٹ ڈالنا یہ تو حرام ہے اس سے کسی کو انکار نہیں مگر جس نظریے کے تحت آپ نے یہ باتیں کی اس سے ہمیں اختلاف ہے ، 
اللہ کے رسول علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں ، 
*عن عبد الله بن عمرو قال رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إن بني إسرائيل تفرَّقت على ثِنْتين وسبعينَ مِلَّة، وتفترق أمتي على ثلاثٍ وسبعين مِلَّة، كلُّهم في النار إلا ملَّة واحدة »، قالوا : ومَن هي يا رسول الله؟ قال : «ما أنا عليه وأصْحابي* (جامع الترمذی حدیث نمبر 2641)
یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی جماعت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے، 
آپ مذکورہ حدیث کو ہضم ہی کر گئے جیسے بیان کرتے کرتے ، 
اس حدیث رسول کے تحت کے جنتی فرقہ وہ ہے جو نبی کریم اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر ہے اس پر ان شاءاللہ تعالیٰ تفصیلی گفتگو مناسب وقت پر کی جائے گی ،

ایک اور مولانا صاحب اپنے خطاب میں فرمارہے تھے کہ یہ فرقہ بندی کہ کوئی دیوبندی ہے کوئی سلفی ہے کوئی بریلوی ہے یہ سب قبر میں نہیں پوچھا جائے گا بلکہ قبر میں جو سوالات ہوں گے وہ اللہ اور دین اسلام اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا جائے گا ، اور انہوں نے ایک سوال کا اضافہ بھی کیا کہ قبر میں چوتھا سوال بھی ہوگا اور یہ حدیث میں بھی ہے مگر آنہوں نے وہ حدیث پیش نہیں کی تاکہ ہم بھی اس حدیث کی زیارت کرتے ، خیر 
قبر میں *من ربک ، مادینک ، اور ما تقول فی حق ھذا الرجل* یہ تین سوالات ہوں گے اور الحمدللہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ الحمدللہ ہم تینوں سوالوں کا جواب دیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ ،
یہاں میں بتاتا چلوں کہ پہلے والے دو سوالات کا صحیح صحیح جواب دے دینے پر نجات نہیں بلکہ نجات کا دارومدار تیسرے سوال پر اللہ نے رکھا ہے کہ *ما تقول فی حق ھذا الرجل* یعنی تم اس مرد کے بارے میں کیا کہتے تھے ؟ 
یعنی دنیا میں کیا کہتے تھے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ، اپنی طرح کہتے تھے ، یا محض مجبور کہتے تھے ، یا یہ کہتے تھے کہ جن کا نام محمد یا علی وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں معاذ اللہ ، کیا کہتے تھے؟ 
تو یقینا آپ وہاں ناکام ہو جائیں گے کیونکہ آپ کا جو نظریہ ہے وہ یہی ہے کہ معاذ اللہ حضور کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ، وہ ہماری طرح بشر تھے وہ محض مجبور تھے معاذ اللہ ، اور پھر آپ امتحان میں ناکام ہوں گے اور اس کا جو نتیجہ ہوگا وہ بھگتنا ہوگا ، 

ایک مولانا صاحب نے تو حد ہی کردی وہ کہہ رہے ہیں کہ حضور شیر نیپال بہت بڑے عالم تھے بہت بڑے مولانا تھے ہم انہیں مانتے ہیں ، 
اور اس حوالے سے ایک واقعہ کا ذکر کیا کہ ان کی اور حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ والرضوان کی ملاقات براٹنگر کے کسی مسجد میں ہوئی اور انہوں نے حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ پر سلامتی بھیجی یعنی سلام کیا اور حضور شیر نیپال نے بھی ان پر سلامتی بھیجی یعنی سلام کیا ، یہ بات کہاں تک درست ہے جبکہ براٹنگر کے کئی پروگرام جس میں حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ کی شرکت ہوئی میں موجود تھا پر ایسا کوئی واقعہ کہیں پیش نہیں آیا ، جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے ، شاید آپ کا گمان ہو کہ کھڑہی ٹولہ والے سب حضور شیر نیپال علیہ الرحمۃ کے مریدین و معتقدین ہیں لھذا اس طرح کے منگھڑت کہانی سنا کر اہل کھڑہی تولہ کو اپنی طرف کھینچ لیں گے تو یہ غلط فہمی آپ اپنے ذہن سے نکال دیجئے ، ابھی شیر نیپال علیہ الرحمۃ کا غلام زندہ ہے، 

ایک بات اور کسی مولانا نے بیان کیا تھا کہ مساجد اللہ کا گھر ہے لھذا مسجدوں میں بورڈ وغیرہ نہیں لگانا چاہیے کہ یہاں کون آسکتا ہے اور کون نہیں ، اس بابت میں جانکاری کے طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے علاقے ہی میں نہیں بلکہ پورے ملک نیپال میں کہیں کسی بھی مساجد میں اس طرح کا کوئی بورڈ لگا ہوا نہیں ہے ، اب یہ جھوٹی بات بول کر آپ کیا کہنا اور کرنا چاہتے تھے وہ اختتام پروگرام پر پتہ چلا کہ جب آپ ہماری نوری جامع مسجد میں نماز کے لئے آئے ، 
یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ ہماری مسجدیں ہم نے اپنے حلال کی کمائی سے اکٹھا کرکے بنایا ہے کسی سعودیہ ریال یا امریکہ کے ڈالر سے نہیں بنایا ہے لھذا ایسی باتوں سے گریز کریں ، 

اور آپ حضرات بار بار ایک اعلان کررہے تھے کہ مجمع میں لوگ زیادہ نہیں ہے تو کیا ہوا ہماری باتیں اہل محلہ تک پہنچ رہی ہے سب ان رہے ہیں جبکہ ہم اہلسنت مسلک اعلیٰ حضرت والے ایسی لایعنی باتوں پر توجہ نہیں دیا کرتے ہیں ، 

(نوٹ) یہ چند مختصر باتیں صرف تین مولانا صاحب کے خطاب پر کی گئی ہے ان شاءاللہ مزید پروگرام کی ویڈیوز آڈیوز سماعت کرنے کے بعد تبصرے کئے جائیں گے ،

البتہ اگر واقعی آپ اتحاد کے خواہاں ہیں تو اوپر موجود شرائط کے ساتھ تشریف لائیں پھر ان شاءاللہ تعالیٰ ہم اس پر غور و فکر کریں گے ، 
اور اگر ہماری شرائط آپ کو منظور نہیں ہے تو خدا کے واسطے اس طرح ہمارے بیچ آکر فساد پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ ہمارا نظریہ آپ کے نظریے سے کافی مختلف ہے ،
وما توفیقی الا باللہ،،،،

از قلم ✍🏻: محمد بلال برکاتی نیپالی

11/04/2021

اصلاح معاشرہ کانفرنس کھڑہی ٹولہ کی حقیقت اصلاح معاشرہ کانفرنس کھڑہی ٹولہ کی حقیقت Reviewed by Belal Barkati on 1:16 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.