قوم کی تباہی کا ذمہ دار کون؟ اسلام کو نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ ہاتھ
موجودہ پیران عظام اور پیشہ ورانہ خطباء و شعراء کا ہے
موجودہ دور کے پیران عظام ، سجادہ نشین ، خانقاہوں کے مجاورین ان میں سے 99.9فیصد کا حال یہ ہیکہ یہ بنیاد مسائل شرعیہ سے بھی نابلد ہوتے ہیں ، اسی لئے ان لوگوں نے ایک سسٹم بنا کر رکھا ہوا ہے ، جس کے تحت ، پیشہ ور خطباء ، شعراء ، اور نقباء موجود ہیں ، تمام بزرگوں کے اعراس میں انہیں پیشہ ور خطباء و شعراء اور نقباء کو بلایا جاتا ہے اور پھر یہ لوگ اسٹیج پر آکر ان جاہل پیروں ، سجادہ نشینوں کی شان میں فرضی منقبت پڑھتے ہیں ، فرضی فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں اور پیر صاحب جو علم عمل اور سوچ و فکر اور علمی فہم و فراست سے نابلد ہوتے ہیں وہ اسٹیج پر جبہ قبہ لگا کر بیٹھے رہتے ہیں اور اخیر میں اپنا رعب برقرار رکھنے کے لئے دس منٹ کی لمبی دعائیں کرتے ہیں اور پھر سب اپنا اپنا طے شدہ نذرانوں کے لفافے کمیٹی والوں سے وصول کرتے ہیں اور پھر چلتے بنتے ہیں اس کے بعد قوم کہیں مرے کٹے تباہ ہوجائے اس سے ان سب کو کوئی مطلب نہیں ، پھر دوبارہ جلسہ عرس ہوگا پھر وہی پرانا طریقہ نئے انداز میں جس سے آمدنی زیادہ ہو اپنا کر پیسے کمائیں گے ،، اور یہی سلسلہ جاری و ساری ہے ،،مشاہدے کی بات ہے کہ جب پیر صاحب اپنے مریدین کے علاقے گاؤں میں جاتے ہیں تو پیر صاحب جبہ قبہ لگا کر ایک عالیشان کرسی پر بیٹھتے ہیں اور پھر مریدین کو بیچارہ دن بھر محنت و مشقت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کے لئے راشن لانے کے پیسے جمع کرتے ہیں وہ پیسے لے کر پیر صاحب کو نذرانہ دینے کے لئے لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں اور پھر باری آنے پر پیسے قدموں میں ڈال دیتے ہیں اور پیر صاحب کا ہاتھ پیر چوم کر دعائیں لے کر چلے جاتے ہیں ، مگر اس دعا کا کوئی اثر پوری زندگی میں نظر نہیں آتا مرید کی حالت وہی رہتی ہے بیچارہ محنت مزدوری کرکے کھاتے ہیں اور پیر صاحب جو سائیکل پر آئے تھے وہ موٹر سائیکل سے ماروتی کار اور اسکارپیو تک پہونچ جاتے ہیں اور جھوپڑ پٹی سے بنگلہ تک پہونچ جاتے ہیں ،،اور نادان قوم نادان کے نادان رہتی ہے ، بلکہ ہمارے پڑھے لکھے طبقے بھی اسی مرض میں مبتلا ہیں کیونکہ مدرسوں میں انہیں تعلیم بھی اسی طرز پر دی جاتی ہے ،، اگر تعلیمات رسول ، تعلیمات قرآن اور تعلیمات صحابہ دی جاتی اور اس کی اصل روح تک رسائی کی جاتی تو آج اس امت کا یہ حال نہ ہوتا ، اب اس قوم کو سمجھانا بھی ناممکن سا ہوگیا ہے ، کیونکہ یہ وہ قوم ہے جو حقائق سن کر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ان اندیکھی بنا دلیل و برہان کی باتوں پر عمل کرنے ہی میں اپنا بڑک ہم سمجھتی ہے جب کہ یہ ہوتی ہے نادانی ،ہم اس وقت ایسے دور میں گزر رہے ہیں کہ اگر اس وقت حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام ، اور حضرت سیدنا امام مہدی علیہ السلام بھی تشریف لے آئیں تو یہ قوم انہیں تسلیم نہیں کرے گی ، بلکہ ہمارے علماء ہی انہیں تسلیم نہیں کریں گے بلکہ ان پر فتوے داغ دیں گے ، اللہ ہمارے علماء اور ہماری قوم مسلم کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین ،مسلمانوں اپنی آنکھیں کھولو اور حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرو اور جب حق واضح ہو جائے تو اس پر عمل کرو اندھے بہرے گونگے نہ بنے رہو ،،اور میں اپنے حق گو خداترس علماء سے گزارش کروں گا کہ آپ گونگے شیطان نہ بنیں رہیں ، آپ حق کے داعی ہیں تو اپنی مخالفت کے باوجود آپ حق بات کریں کیونکہ عزت و ذلت اللہ رب العزت کے دست قدرت میں ہے ،اللہ جل و علا ہمارا حامی و ناصر ہو،✍🏼: بلال برکاتی نیپالی13/11/2023
قوم کی تباہی کا ذمہ دار کون؟
Reviewed by Belal Barkati
on
11:05 PM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
11:05 PM
Rating:


No comments: