ہندوستان میں آر ایس ایس کے ذریعے مدرسے کا قیام اور اس کا پس منظر
چند سال پہلے ایک مضمون میری نگاہوں سے گزرا تھا جسے پڑھ کر کافی حیرت ہوئی تھی مضمون نگار کا نام تو یاد نہیں پر جنہوں نے وہ مضمون لکھا تھا وہ خود امریکہ سیر و سیاحت کے لئے گیا تھا اور ٹرسٹ بن کر وہاں کا جائزہ لیا تو انہیں پتہ چلا کہ وہاں یہود و نصارٰی نے کئی ایک مدرسے کھول رکھے ہیں جس میں باضابطہ طور پر ادادیہ اولی سے دور حدیث اور تخصص تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور پھر وہاں ذہن سازی کی جاتی ہے بتانے والے نے بتایا کہ یہاں مدرسہ سے فارغ ہونے والے لوگوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور پھر خزانے کا دروازہ کھول کر دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے جو سچے پکے مسلمانوں کو دین کے نام پر اکھٹا کرکے انہیں دھیرے دھیرے اپنے قریب لاتے ہیں اور پھر انہیں گمراہ اور بددین بنادیا جاتا ہے جس کی تازہ ترین مثال آپ انڈیا کے ذاکر نائیک کو لے لیں یہ شخص امریکہ کے انہیں مدارس میں تعلیم حاصل کیا اور پھر امریکہ کی مدد سے ہندوستان آیا اور ڈالروں کے زور پر اپنا ٹیوی چینل کھولا اور اسکے ذریعے بھولے بھالے عوام کو گمراہ کرنا شروع کردیا اور آج تک کررہے ہیں جس نے امت مسلمہ کے شیرازہ کو بکھیر کے رکھ دیا اسی طرح کے سیکڑوں ایسے افراد ہیں جو امریکہ سے پڑھ کر آیا اور اسی کے ٹریننگ کے تحت ہند و پاک و نیپال و بنگلا دیش اور دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا کام کررہے ہیں ، ان لوگوں کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے انہیں جتنی دولت چاہئے اسلام دشمن ممالک انہیں مہیا کرتی ہے اور یہ بے دروغ خرچ کرکے عوام کو دین سے دور کرتا چلا جارہا ہے ،
آج اسی امریکہ کے یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوستان میں آر ایس ایس والوں نے ہندوستان میں مدرسہ کھولنے کی پلاننگ بنائی اور اب مدرسہ جلد ہی کھولا جائے گا جس کی افتتاح ہونے والی ہے اس مدرسہ کے ذریعے وہی کام لیا جائے گا جو امریکہ کے مدرسوں میں پڑھنے والے دین فروشوں سے لیا جارہا ہے ،
اس لئے مسلمانان ہند و پاک و نیپال و اکناف و اطراف کے ممالک کے مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے مدرسوں میں اپنے بچوں کو قطعی نہ ڈالیں ورنہ مستقبل ہمارا بہت بڑا خطرناک ہوگا ،
اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم مسلمانان اہلسنت والجماعت کو ایسے بدترین فتنے سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین،
کتبہ ✍️ : بلال برکاتی نیپالی
١٩/٥/٢٠١٩
ہندوستان میں آر ایس ایس کے ذریعے مدرسے کا قیام اور اس کا پس منظر
Reviewed by Belal Barkati
on
2:43 PM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
2:43 PM
Rating:


No comments: