جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور نیپال کی عظیم تباہی

جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور نیپال کی عظیم تباہی



بتاریخ : 2/اپریل 2019 کو جلسۂ برکات النبی صلی اللہ علیہ وسلم لوہنہ شریف جانے کا اتفاق ہوا جلسے میں شرکت کے بعد شہر جنکپور کا دورہ کیا جہاں *جامعہ حنفیہ غوثیہ* اک عظیم عمارتوں کی شکل میں موجود ہے  کے اندر چند احباب کے ساتھ داخل ہوا کیونکہ جامعہ ہمارا مادر علمی ہے جہاں سے سیکڑوں کی تعداد میں علماء و مفتیان کرام کی جماعت کو تیار کرکے ہند و نیپال کے کونے کونے میں اساعت دین کے لئے وقف کیا ، جوکہ زمانۂ قدیم سے سرزمین جنکپور پر محقق عصر سیاح یورپ و ایشیاء مفتی اعظم نیپال الشاہ علامہ جیش محمد صدیقی البرکاتی المعروف بہ حضور شیر نیپال کی سرپرستی و صدارت میں جامعہ عروج کی طرف رواں دواں تھا ،
اچانک دین کے اس مظبوط قلعہ پر نہ جانے کس کی نظر لگی جو برسوں کی محنتوں کو لمحوں میں خاکستر کر دیا ، کچھ بدخواہ افراد دنیا کی لالچ میں جامعہ کو تباہ برباد کرکے رکھ دیا ،

جب میں مدرسہ پہونچا اور نماز عصر سے فارغ ہوکر بچوں کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ پندرہ سے بیس بچے اس وقت مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں ، جہاں اڈھائی سو بروونی طلبہ دور حدیث تک کی تعلیم حاصل کرکے علم و فضل کا تاج لیکر اپنے گھروں کو جاتے تھے آج وہاں پندرہ بیس بچے ناظرہ کے موجود تھے ،

اور جس جامعہ میں تقریباً پندرہ اساتذہ علوم نبویہ تشنگان علوم کو عطا کررہے تھے آج وہاں صرف تین استاد کو دیکھا جن میں سے ایک کو تو میں دوران طالبعلمی سے ہی جانتا پہچانتا تھا اور ان کے ساتھ دوستی بھی تھی یعنی *حافظ و قاری مولانا محمد رضا ضیائی* جوکہ مدرسہ کے بازو کے ہی ہیں، اس جامعہ میں بحیثیت استاذ ہیں ،
اور اسی تین استاد کے تعلق سے جاننا چاہا تو مولانا موصوف نے بتایا کہ یہ دو مولانا ہیں جن کا میں ابتک نام بھی نہیں جانتا ہوں اور نہ ہی کبھی ان سے ان کا نام پوچھا کیونکہ یہ لوگ متکبر قسم کے لوگ ہیں ، یہ حالت تھی وہاں کے استادوں کی ، اللہ خیر فرمائے ،

جو ادارہ کبھی مفتی ، عالم ، حافظ ، قاری ، پیدا کرتا تھا آج وہ اصطبل بنا ہوا ہے ، جو اپنے وقت میں ملک نیپال کا مرکزی حیثیت رکھتا تھا آج وہی ادارہ مکتب سے بھی کم درجے میں جا پہونچا ،

یہ ساری تباہیاں تب شروع ہوئی جب مفتی اعظم نیپال علامہ جیش محمد صدیقی البرکاتی وہاں سے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی بدخواہوں کی وجہ سے چلے گئے ،

لوگوں نے سمجھا کہ یہ چلے جائیں گے تو اسے اور بڑا ادارہ بنائیں گے لیکن جاہلوں کو پتہ ہونی چاہئے کہ جامعہ عمارتوں کی بلندیوں سے نہیں چلتا ہے بلکہ وہ کسی بزرگ شخصیت کے فیض و کرم سے چلتا ہے ،

اب اخیر میں میں یہی کہوں گا کہ وہ ادارہ جو ملک نیپال میں مرکز کی حیثیت رکھتا تھا اسے دوبارہ وہ مقام عطا کیا جائے اور ان بلند عمارتوں کو نشان عبرت بننے سے بچایا جائے ورنہ اگر یہی حال رہا تو پھر ملک نیپال سے علم کا فقدان ہوجائے گا ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور نیپال کو دوبارہ عروج بخشے آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ ✒ محمد بلال برکاتی نیپالی
25/4/2019
جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور نیپال کی عظیم تباہی جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور نیپال کی عظیم تباہی Reviewed by Belal Barkati on 11:41 PM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.