کانٹے کو پھول دریا کو سحرا لکھا گیا

ماہانہ طرحی نشست کے طرحی مشاعرہ میں کہی گئی غزل
_________________________
   
                مصرعہ طرح
کانٹے کو پھول دریا کو سحرا لکھا گیا
________________________

تھا ہی نہیں جو اپنا اسے اپنا لکھا گیا
کانٹے کو پھول دریا کو سحرا لکھا گیا


الجھا تھا کس خیال میں یہ کیا لکھا گیا
لکھنا دعـــــــا تھا عین پر نقطہ لکھا گیا


عشق و وفا خلوص محبت کا تذکرہ
تھا جو فریب پیــار کا نغمہ لکھا گیا


ان کی محبتوں کا نشہ اس قدر چڑھا
سمجھا جسے وفـا تھا دھوکا لکھا گیا


ہر ظلم سہ کے ساتھ نبھاتا رہا مگر
میری وفا کو ظلم کا سہرا لکھا گیا


نظریں چـرا کے پاس سے وہ خود گزر گئی
حیرت ہے یہ کہ مجھ کو ہی اندھا لکھا گیا


سوچا تھا ان سے عشق کا اظہار نہ کرو
پاگل پنا تو دیکھئے جــــــذبــہ لکھا گیا


آجا کہ تیرے بن میں تڑپتا ہوں رات دن
دل کی تڑپ کو میــــرے بہانہ لکھا گیا


اس کی محبتوں کا تقاضہ نہ پوچھئے
جیسے ہی لکھا عشق فســـانہ لکھا گیا


دے دوں گا جان تجھ پہ کہا تھا اسے بلال
مجھ کو کتاب عشق میں مـــردہ لکھا گیا
________________________

نتیجۂ فکر : محمد بلال برکاتی نیپالی
کانٹے کو پھول دریا کو سحرا لکھا گیا کانٹے کو پھول دریا کو سحرا لکھا گیا Reviewed by Belal Barkati on 2:52 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.