کاش ! نوجوانوں کو معلوم ہوتا


نوجوان ہی در اصل کسی قوم کا قیمتی اثاثہ ، نفع بخش سرمایہ اور تابناک مستقبل ہوتے ہیں ۔
وہ چاہیں تو اپنے حسن عمل اور جذبئہ خیر و صلاح سے دنیا کو رشک فردوس بنا دیں اور چاہیں تو نمونیہ جہنم ۔ اسی لئے کہاجاتا ہے کہ کسی قوم کی حقیقت و ماہیت معلوم کرنے کے لئے اس کے سیم و جواہرات اور دیگر اشیاء کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا ، بلکہ اس کے نو جوان دیکھے جاتے ہیں کہ وہ کس کاموں میں مشغول ہیں اگر وہ اصحاب تقوی وورع ہوں دین کے اوامر و نواہی پر کما حقہ کاربند ہوں عظیم مقاصد میں شب و روز بسر کرتے ہوں اور فضل و کمال کے دامن سے وابستہ ہوں تو سمجھنا چاہئے کہ وہ قوم بڑی عظیم اور جلیل قوم ہے اور اس کی عظمت و رفعت کو دنیا کی کوئی طاقت کبھی چیلنج نہیں کر سکتی
علامہ ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب کہا ہے
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہو کاری
لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس ہو  نوجوان اخلاق و کردار سے عاری ہو ، گھٹیا سوچ کے مالک ہوں لایعنی کاموں سے دلچسپی رکھتے ہوں ، رذیل اور اخلاق سوز پر اس طرح ٹوٹے پڑتے ہوں جس طرح مکھیاں غلاظت پر گرتی ہیں تو پھر یقین کرلینا چاہئے کہ اس امت کا مستقبل تاریک ہے ، اس کی بنیادیں کھوکھلی ہوئی جاتی ہے ، پرزے کمزور پڑ رہے ہیں اور کسی بھی وقت اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جاسکتی ہے ۔ ایسے نوجوان در اصل ننگ قوم و ملت ہوتے ہیں ، ان کی وجہ سے امت کے مقدسات کی تحقیر ہوتی ہے اس کی عظمتیں گہنا جاتی ہیں اور اس کی تاریخ اور ثقافت کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے۔
نوجوان بلاشبہ قوموں کا مقدر ہیں وہ چاہیں تو درخشندہ مستقبل اور روشن امیدوں کے سورج اجال دیں اور چاہیں تو ان پر جہالت و رذالت کی کبھی نہ ختم ہونے والی شب تیرہ مسلط کردیں تاریخ کی پشت ایسی شہادتوں سے بوجھل ہے
آئیے میں آپ کو دکھاؤں کہ قرآن کریم نے خیر و تقویٰ کے حامل نوجوانوں کی حکایات پرشوق اور داستان دعوت و عزیمت کتنے اچھوتے انداز میں بیان فرمائی ہے ۔
یہ ہیں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام جنہوں نے اپنی قوم سے داعیانہ خطاب فرمایا خیر و شر کے نمایاں فرق کو سمجھایا اور انہیں نہ صرف بت پرستی سے روکا بلکہ ان کے بتوں کو پاش پاش کر ڈالا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ بالکل عنفوان شباب میں تھے قرآن گواہی دیتا ہے

قالوا سمعنا فتى يذكر هم يقال له ابراهيم (سورة انبياء)
کچھ لوگ بولے : ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے و ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہے ۔

یوں ہی آل فرعون کا وہ نوجوان بندہ جس کے دل میں ایمان نے گھر کرلیا تھا اور جسے حق کا اجالا نصیب ہوگیا تھا وہ ظلم و ستم کی طویل شب کو برداشت نہ کر سکا اور ایمان و عرفان کی نکھری ہوئی صبح دیکھنے کا شدت سے منتظر تھا سو وہ برسر عام آکر کہنے لگا ، اس جوان کی باتیں در اصل اتنی پیاری تھیں کہ قرآن نے اسے ہمیشہ کے لئے اپنے سینے میں محفوظ کرلیا :

وقال رجل مؤمن من أٰل فرعون يكتم إيمانه أ تقتلون رجلاً أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم ، (سورة مؤمن)
اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور بےشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے ۔ ( کنزالایمان)

اور اسی طرح بہت سی مثالیں موجود ہیں جن کو پڑھ کر نوجوان طبقہ کی روح میں تازگی پیدا ہوسکتی ہے
اور اس طرح کے واقعات سے احادیث مبارکہ بھرے پڑے ہیں
حضرت بلال حبشی کو کون نہیں جانتا ہے ذرا ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جب عشق رسول اور ایمان کی شمع حضرت بلال حبشی رضہ اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں موجزن ہوا تو تاریخ گواہ ہے کہ امیہ بن خلف نے ظلم و ستم کے پہاڑ تو دئے لیکن حضرت بلال حبشی ٹس سے مس نہیں ہوئے
اسی دیکھیں حضرت مالک بن انس رضہ اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اپنے عہد شباب کا حال بیان فرماتے ہیں کہ میری والدہ ماجدہ نے جو اصلا طلحہ بن عبیداللہ کی کنیز تھیں مجھے موٹا کھردرا کپڑا پہنا کر سرپر سفید عمامہ باندھا اور میری آستین سے دینار کی ایک تھیلی لٹکاتے ہوئے فرمایا جاؤ مسجد میں چلے جاؤ اور اس وقت تک گھر واپس نہ آنا جب تک علم و فضل میں کمال حاصل نہ ہو جائے اور لوگ تمہیں شیخ کہکر نہ پکارنے لگے ۔
کہتے ہیں کہ میں علم کی طلب میں  تن تنہا گھر سے نکل پڑا اور مختلف حلقہ ہائے دروس سے خود کو وابستہ کرلیا کبھی حضرت ربیعہ کے درس سے فیضیاب ہوتا کبھی عطا بن یسار کے حلقے سے مستفید ہوتا اور کبھی نافع مولی ابن عمر کی مجلس سے اپنی تشنگئی علم بجھاتا اسی بیچ محمد بن مسلم بن شہاب زہری ملک شام سے تشریف لے آئے اب ان سارے حلقات دروس کے مشائخ تحصیل علم کے لئے مسجد میں ان کے گرد آکر جمع ہوگئے اور ان سے حدیث رسول بیان کرنے کی درخواست پیش کی ۔
امام مالک کہتے ہیں کہ ان کی فرمائش پر انہوں نے اپنی سند کے ساتھ کوئی ساٹھ حدیثیں بیان فرمائیں فرمان رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سن کر اہل علم کی پیاس فزوں ہوتی جارہی تھی اور وہ مزید کا مطالبہ کررہے تھے مگر انہوں نے فرمایا پہلے آپ لوگ بیان کردہ حدیثیں یاد کرلیں پھر مزید روایتیں پیش کردی جائیں گی ۔
یہ سن کر حضرت ربیعہ بن عبد الرحمن معروف بہ ربیعۃ الرائی نے عرض کی اے امام زہری اس حلقئہ علم میں ایک ایسا نوجوان بھی موجود ہے جس نے آپ کی پیش کردہ ساری حدیثیں از اول تا آخر یاد کرلی ہیں ۔
پوچھا کون ہے وہ ؟ عرض کیا مالک بن انس بن ابی عامر یعنی انہوں نے میری طرف اشارہ کیا چنانچہ حضرت محمد بن شہاب زہری نے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا واقعتا یہ ساری حدیثیں تم نے حفظ کرلی ہیں؟ میں نے عرض کیا ہاں الحمدللہ پھر ان کے حکم پر میں نے وہ ساٹھ حدیثیں بالکل اسی ترتیب سے انہیں سنادیں اس دن سے ان کی نگاہ میں میری قدر و قیمت پڑھ گئی ۔
(سبق) اس سے ہمیں طلب علم کا ایک حوصلہ پیدا ہوتا ہے ہر نوجوان کو چاہئے کہ علم دین حاصل کریں
آج ہمارے معاشرے کے نوجوانوں  کا حال دیکھ کر ترس آتا ہے بالغ ہوچکے لیکن انہیں اب تک غسل کا طریقہ نہیں پتہ نوجوان جب تک علم کی لذتوں سے آشنا نہیں ہوں گے تب تک انہیں ایمان کی حلاوت محسوس نہیں ہوگی اس لئے آج آپ دیکھیں کہ ایک مسلمان نوجوان کے سامنے اس کے نبی کی شان میں توہین کی جاتی ہے اور وہ خاموش تماشائی بنا بیٹھا رہتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ اللہ و رسول کی شان کیا ہے اس لئے مسلم نوجوانوں کو اس کی طرف توجہ دلانا نہایت ہی ضروری امر ہے ورنہ مستقبل بہت ہی افسوس ناک ہوگا
نوجوانوں کا جذبہ بیدار ہونا چاہئے آپ کو میں ماضی میں نہیں لے جاؤں گا آپ سوشل میڈیا دیکھیں اور حالیہ پاکستان کو دیکھیں آج ۔ ١٨/١١/٢٠١٧ کو میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں اس وقت پاکستان میں جو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پہ حملہ ہوا جس کے لئے نوجوان طبقہ جب سراپا احتجاج ہوئے تو وہ منظر دیکھنے کے قابل ہے اسی وقت کے لئے کہاگیا تھا کہ
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتا ہے ان اپنی منزل آسمانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کے چٹانوں میں
وہی جذبہ آج نیپالی مسلم نوجوانوں میں ہونا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ قوم اصل سرمایہ قوم کا نوجوان ہے جس کی تفصیل اوپر گزری
اسی کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ

یارب دل مســــــــــلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے


محـــــــــــــــــــروم تماشـــــــــــا کو پھر دیدئہ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو  بھی دکھلا دے

طالب دعا ۔ محمد بلال برکاتی ۔ کھڑہی ٹولہ سنسری نیپال
حال مقیم ۔ دوحہ قطر – موبائيل نمبر : 97431418731+




کاش ! نوجوانوں کو معلوم ہوتا کاش ! نوجوانوں کو معلوم ہوتا Reviewed by Belal Barkati on 2:27 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.