انگوٹھا چومنے کی شرعی حیثیت دلائل کی روشنی میں


رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اسمِ مبارکہ کو سنتے ہی انگوٹھے چومنا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کچھ لوگ اس عمل کو اپنے بغض اور نادانی میں عجب عجب نام دیتے ہیں اور جو لوگ انگوٹھوں کوئی
1.
چومتے ہیں ان کو بدعتی، کافر اور مشرک تک بک دیتے ہیں، یا کہتے ہیں یہ تو بریلویت ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ ذرا غور سے پڑھیئے گا۔

اس سے تو ہم سب واقف ہیں کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی تبرکات کو صحابہ اپنے پاس حرز جاں بنا کر رکھتے تھے۔کتب دینیہ کے مطالعہ سے بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ اعمال جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم پر دلالت کرتے ہیں ان کے لیئے اگرچہ شرعی دلیل نہ بھی ملے تب بھی کرنے والے کو اجر و ثواب ملتا ہے۔ امام مالک رضی اللہ عنہ کے پاس کونسی شرعی دلیل تھی جس کی وجہ سے وہ حدیث کو بحالتِ قیام اور نہایت زیب و زینت میں پڑھاتے ہیں اور مدینہ شریف سے باہر نہیں جاتے اور نہ ہی مدینہ شریف میں سواری پر ہوتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی مجبور ہوکر کہنا ہی پڑے گا کہ تعظیمِ مصطفی علیہ التحیہ والثناء میں جو عمل کیاجاتا ہے اس پر اجر وثواب ہے۔

منجملہ ان کے انگوٹھے چومنا یہ بھی ایک تعظیم ہے کہ کسی کے نام پر انسان جھوم جائے اور عقیدت کا اظہار کرے تو وہ محبت کی ایک دلیل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ اقدس کو سن کر عاشقِ نبی جھوم جاتا ہے اور محبت وعقیدت سے سر جھکا رہا ہے اور انگوٹھے چوم رہا ہے۔ اس پر اگرچہ اس کے پاس دلیل نہ بھی ہوتی تب بھی شرعاً گرفت نہ تھی کیونکہ ایسے عمل سے شرعاً کسی قانونِ شرعی کے خلاف نہیں کرنا پڑتا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ ایسے عاشِ صادق کے لیئے بہت بڑے دلائل ہیں، اسے مجبور کرتے ہیں کہ اپنے محبوب کا نام سنتے ہی عقیدت کا نذرانہ پیش کرے۔ اگر کوئی روکے تو اسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ شعر سنا دیجئے

نجدی کہتا ہے کہ کیوں تعظیم کی ،
یہ ہمارا دین تھا پھر تجھ کو کیا؟
ہمارا عقیدہ:۔

نبی پاک صاحب لولاگ سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی بوقتِ اذان و اقامت سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا مستحب ہے۔ یہی ہمارا مذہب ہے اسی پر ہمارے دلائل قائم ہوتے ہیں۔ بہتان تراشی کا جواب ہمارے پاس نہیں کہ بڑی دلیری سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ اہلسنت انگوٹھے چومنا واجب مانتے ہیں۔یہ نرا جھوٹ اور افتراء سے زیادہ کچھ نہیں، ہم چونکہ اس عمل مبارک کو (مستحب) مانتے ہیں اس پر احادیث واقوال ،فقہاء وصلحاء موجود ہیں جو کہ درج کیئے جارہے ہیں۔

۱۔ قال علیہ الصلوٰۃ والسلام من سمع اسمی فی الاذان فقبل ظفری ابھامیہ ومسح علی عینیہ لم یعم ابدا۔ (مضمرات)

یعنی ؛۔ جس نے اذان میں میرا نام سن کر انگوٹھوں سے لگا کر چوما اور آنکھوں سے لگایا تو وہ کبھی اندھا نہیں ہوگا۔

۲۔ قال علیہ السلام من سمع اسمی ووضع ابھامیہ علیٰ عینیہ فانا طالبہ فی صفوف القیامۃ وقائدہ الی الجنۃ (صلوٰۃ مسعودی)۔

یعنی ؛۔ جس نے میرا نام سن کر انگوٹھوں کو آنکھوں سے لگایا تو میں اس کو قیامت میں صفوں سے تلاش کرکے بہشت میں لے جاؤں گا۔

۳۔ قال الطاؤس انہ سمع من الشمس محمد بن ابی نصر البخاری حدیث من قبل عند سماعہ من المؤذن کلمۃ الشھادۃ ظفری ابھامیہ ومسھا علیٰ عینیہ وقال عند المس ۔ اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونورھما لم یعم۔ (المقاصد الحسنہ۔ ص285)۔

یعنی؛۔ طاؤس فرماتے ہیں انہوں نے خواجہ شمس الدین ابی نصر البخاری سے یہ حدیث سنی کہ جو شخص مؤذن سے کلمہ شہادت سن کر انگوٹھوں کے ناخن چومے اور آنکھوں سے لگائے اور یہ دعا پڑھے (اللھم احفظ حدقتی الخ) تو وہ اندھا نہ ہوگا۔

۴۔ عن الخضر علیہ السلام انہ قال حین یسمع المؤذن یقول اشھدان محمداً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرحباً بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ثم یقبل ابھامیہ ویجعلھما علیٰ عینیہ لم یرمد ۔ (بحوالہ عقائد حسنہ)۔

یعنی؛۔ حضرت خضر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جس نے مؤذن کے قول (اشھد ان محمدا! الخ) سن کر مرحبا بحبیبی الخ کہہ کر انگوٹھوں کو چوما اور ان کو آنکھوں پر پھیرا تو اس کی آنکھیں کبھی نہیں دکھیں گی۔

۵۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مؤذن کے قول اشھد ان محمد رسول اللہ کو سن کر انگوٹھوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا تو رسولِ کریم علیہ السلام نے فرمایا؛۔

من فعل فعل خلیلی فقد حلت لہ شفاعتی

کشف الخفاء، باب الجز۲، الجز ۲، الصفحۀ ۲۰۶ . مقاصد حسنه ص ۳۸۴

یعنی جس طرح میرے خلیل صدیق نے کیا جو بھی ایسے ہی کرے گا اس کے لیئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (موضوعاتِ کبیر)

۶۔ عن الفقیہ ابی الحسن علی بن محمد من قال حین یسمع المؤزن یقول اشھد ان محمدا رسول اللہ مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویقبل ابھامیہ ویجھلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمد

کشف الخفاء، الباب الجز ۲، الجز ۲، ص ۲۰۷، و مقاصد حسنه ص ۳۸۴

یعنی حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو شخص اشھد ان محمداً الخ

لم یرمد

کشف الخفاء، الباب الجز ۲، الجز ۲، ص ۲۰۷، و مقاصد حسنه ص ۳۸۴
انگوٹھا چومنے کی شرعی حیثیت دلائل کی روشنی میں انگوٹھا چومنے کی شرعی حیثیت دلائل کی روشنی میں Reviewed by Belal Barkati on 10:45 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.