حضور شیر نیپال مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی کی شخصیت


کھڑہی ٹولہ سنسری اور حضور شیر نیپال

آج سے تقریبا ٢٥-٣٠ سال پہلے کی بات ہیکہ حضور شیر نیپال صاحب قبلہ سنسری ضلع نیپال کےمشہور شہر دھران  تشریف لے گئے تھے پروگرام میں اس وقت ہمارے عم محترم (چچا) جناب ڈاکٹر پیر سلیمان صاحب قبلہ دھران کے مشہور ہوسپیٹل گھوپہ کمپ میں نوکری کررہے تھے جب ہمارے چچا کو معلوم ہوا کہ دھران کی سرزمین پر حضور شیر نیپال تشریف لائے ہیں تو بغرض زیارت و ملاقات ہمارے چچا بھی پہونچے اس وقت میرے والد محترم جناب عبدالرحمن صاحب فریدی بھی دھران میں ہی کام کررہے تھے بہر حال حضرت کی بارگاہ میں پہونچے سلام و کلام کے بعد جان پہچان ہوئی پھر چچا جان نے اپنے گائوں گھڑہی ٹولہ کے بارےمیں بتایا اور وہاں کے حالات سے آگاہ کیا کیونکہ اس وقت پورا سنسری ضلع وہابی بدعقیدہ ہوچکا تھا صرف گنے چنے لوگ ہی اسی کھڑہی ٹولہ گائوں میں بچے تھے چچا نے حضرت کی بارگاہ میں دعوت پیش کیا کہ حضور ہمارے یہاں تشریف لے چلیں اور اسلام و سنیت کو زندہ فرمائیں
حضور شیر نیپال نےخوشی خوشی دعوت قبول فرمالیا اور فرماتے بھی کیوں نہیں کیونکہ اللہ نے انہیں دین کی خدمت کے لئے چن جو لیا تھا خیر جس دن کی دعوت تھی وہ دن بھی آیا گائوں میں پہلے سے خبر پہونچا دیا گیا کہ شیر نیپال تشریف لا رہے ہیں جب حضرت کی آمد ہوئی تو پورے گائوں والوں نے پرجوش استقبال کیا پھر شام ہوئی بعد مغرب میلاد النبی کا پروگرام شروع ہوا جب گھر سے میرے والد میلاد میں جانے لگے تو میں بھی ساتھ پکڑ لیا چونکہ میں يعنى (بلال بركاتى) اس وقت بچہ ہی تھا میرے والد بتاتے ہیں کہ تم اس وقت تین چار . 3-4 سال کے تھے خیر کسی طرح میرا پیچھا چھڑاکر ابو چلے گئے مجھے نہ لےجانے کا مطلب تھا کہ وہاں جب شیرنیپال کا نام لوگوں نے سنا تو تقریبا 25 ہزار سے زیادہ وہابی دیوبندی لوگ بھی جمع ہوگئے چھگڑا فساد کا اندیشہ تھا اور وہی ہوا
والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب پروگرام شروع ہوا حضرت کے ساتھ جو مولانا آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک کھڑے ہوئے اور اعلی حضرت کی لکھی ہوئی نعتیہ کلام سب سے اعلی وہ اولی ہمارا نبی پڑھنا شروع کئے تو آگے سے لوگوں کا حجوم آگے کی طرف بڑھنے لگا لگتا تھا کہ حضرت کے اوپر چڑھ جائےگا پھر صورت حال سے نپٹنے کے لئے کچھ حساس لوگوں نے حضرت کو مسجد کے دوسرے دروازے سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کردیا گیا حجوم کی وجہ سے لوگوں کو پتہ نہیں چلا لوگ اگے کی طرف بڑھتے ہی جارہے تھے جب دیکھا کہ معاملہ ختم ہونے والا نہیں تو ہمارے گائوں کے صدر جناب ابراہیم مرحوم صاحب اللہ ان کے قبر پہ رحمت برسائے انہوں نے حکم دیا کہ آپ لوگ دیکھتے کیا ہیں جیسے ہی اجازت ملی پھر کیا تھا نیا نیا جو بانس کا بتی بناکر مسجد کے آنگن کی بانڈری کی گئی تھی دیکھتے دیکھتے سب غائب اور جو جنگ بدر کا نقشہ پیش ہوا اللہ اکبر 50 سنی 25 ہزار وہابی پر بھاری پڑ گئے پتہ نہیں چلا کہ کون کہاں گیا اور کچھ نوجوان لوگ ایک اینٹ کی ڈھیری پر چڑھ گئے جوکہ قریب میں ہی مدرسہ کے بنڈری وال کے لئے لایا گیا تھا اور اینٹ اٹھاتے پھر اس حجوم میں پھینک دیتے جس کے سرپر گرتا پھر اس کا پتہ نہیں چلتا
اور کچھ عجیب واقعہہ پیش آیا اس دن وہ یہ کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی ہمارے گائوں میں رشتہ داری بھی تھی جب وہ لوگ وقت سے پہلے ہی پہونچنے لگے اور اپنے اپنے رشتہ دار کے یہاں گئے تو کوئی کسی کا پھوفا ہے کوئی خالو ہے کوئی مامو ہے وغیرہ وغیرہ کئی لوگوں نےتو یہ بھی کہا کہ آپ اگر مہمانی آئے ہیں تو کھانا کھائے اور سو جائے نہیں اگر پروگرام میں آئے ہیں تو نکلئے یہاں سے پروگرام میں جائے بہر حال جب مار پیٹ شروع ہوگئی تو کچھ لوگ اپنے اپنے رشتہ دار کے یہاں چھپنے کے لئے بھاگ نکلے لیکن ایمانی جذبہ اللہ اکبر ایک آدمی اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں چھپنے گئے تو دیکھ کر پہچان لیا گیا پھر کیا تھا اس کو پکڑکر بیل گاڑی میں باندھ دیا گیا اور پھر وہ دھلائی ہوئی کہ میدان بدر کا نقشہ یاد آگیا اس نے چلایا اور کہنے لگا آپ مجھے نہیں پہچانتے میں آپ کا خالو ہوں تو سنی نے کہا آج کوئی خالووالو نہیں
اور ایسا کئ لوگوں کے ساتھ ہوا
ایک دل چسپ بات جلپاپور سنسری میں جو ایک مدرسہ ہے ابھی دیوبندیوں کا نورالاسلان جوکہ دیوبندیوں کا مرکز ہے نیپال میں اس کا پرنسپل جو ابھی بھی ہے مولوی حیدر دیوبندی وہ بھی تھا اس میں جب مار چلنے لگی تو وہ بھی بھاگاہمارے مسجد کے بغل میں ایک ندی ہے جو کہ نئی نئی کھدائی ہوئی تھی اسی ہوکر شیخ الحدث صاحب بھاگ رہے تھے کہ میرے ایک جو رشتہ میں میرے پھوفا لگیں گے ان کا نام عظیم انصاری ہے اتفاق سے اسے مل گیا پھر وہ اس کو پکڑے اور دھلائی شروع اور خوب دھلائی ہوئی
ایک اور دلچسپ بات کہ جب حضرت کو مسجد سے نکال کر دوسری جگہ لے جایا جارہا تھا تو راستے میںایک عورت ایک بوجھا لاٹھی لیکر مسجدکی طرف آرہی تھی حضرت نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ لوگوں کو دینےجارہی ہے تاکہ وہابیوں کی درگت بنائے
بالآخر جب جھگڑاختم ہوگیا سب لوگ بھا گ گئے
اور جب صبح ہوئی لوگ آپس میں ملے اور بات چیت ہوئی تو پتہ چلا کہ اتنی زبردست مار پیٹ ہوئی اور ایک بھی سنی کو اس میں خراچ تک نہیں آیا اللہ اکبر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ حضرت نے فرمادیا تھا کہ تم لوگوں کو کچھ نہیں ہوگا پھر معلوم ہوا کہ یہ میرے حضور شیر نیپال کی کرامت تھی .....
پھر حضرت کو براٹنگر کے راستے جنکپور پہونچا دیا گیا حضرت جنکپور پہونچنے کے دو تین دن بعد مولانا عیسی کپٹول والے جوکہ اس وقت حنفیہ غوثیہ میں پڑھا رہے تھے ان کو کھڑہی ٹول بھیجا کہ جاکر ان لوگوں سے کہئے کہ فلاں تاریخ کو پروگرام کا انتظام کریں ہم لوگ آئیں گے پھر ایک مہینہ بعد حضرت نے کاٹھمنڈو راج دربار میں ڈاکٹر محسن جوکہ راج دربار میں رہتے تھے ان کو فون کیا اور بتایا کہ ہمارا پروگرام سنسری میں فلاں گائوں میں ہے آپ راجہ سے کہکر وہاں فلاں تاریخ کو فورس کا انتظام کروادیں پھر ڈکٹر محسن نے کاٹھمانڈو سے سارا انتظام کیا پھر وقت مقررہ پر براٹ نگر انروا دھران لہان ہر جگہ سے پولیس فورس آگئ اور حضرت اپنے ساتھ میں ابوالحقانی صابرالقادری مولانا عبدالجبار منظری وغیرہ کو لیکر تشریف لائے اور پھر ہزار و ہزار کی تعداد میں وہابی دیوبندی بھی آیا لیکن پولیس فورس کا کافی مضبوط انتظام تھا کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تین دن تک پروگرام چلا بتایا جاتا ہیکہ وہابی حضرات بیل گاڑی پر کتب احادیث لوڈ کرکے لایا ہوا تھا جب حضرت ابوالحقانی صاحب کی تقریر شروع ہوئی تو اس وقت جوانی کا عالم تھا 360 احادیث انہوں نے بیان کیا چونکہ وہ حوالہ کے ساتھ حدیث پیش کرتے ہیں ادھر حقانی صاحب حدیث بیان فرماتے ادھر وہابی کتاب کھول کر دیکھتا جب تک وہ ایک حدیث دیکھتا تب تک حقانی صاحب کئی حدیث پڑھ دیتے پھر کیا تھا
علم چنداں کہ بیستر خوانی چوں عمل در تو نیست نادانی پھر ساری کتاب سر پر اٹھایا اور بھاگ کھڑا ہوا اس طرح سے سنسری میں سنیت بچی یہ سب میرے پیر و مرسد  مفتی اعظم نیپال الشاہ جیش محمد صدیقی برکاتی کا فیضان ہے اہل کھڑہی ٹولہ پر جو اج 30 سال تقریبا گزر جانے کے بعد بھی وہابیت کے ایوان باطل میں زلزلہ برپا ہے
اور آج بحمدہ تعالی سرزمین کھڑہی ٹولہ پر ایک عظیم درسگاہ قائم ہے
مدرسہ رضویہ جیشیہ مسعودالعلوم کھڑہی ٹولہ ہرینگرا 1 سنسری نیپال
جس کو پروا انچل کا مرکز کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کیونکہ اس علاقے میں اس سے بہتر ادارہ ابھی تک نہیں ہے اور سرزمین کھڑہی ٹولہ اور متصل بھوٹہا سے تقریبا 40 علماء حفاظ تیار ہو چکے ہیں جوکہ نجدیت کے لئے وبال جان بنے پوئے ہیں
یہ سب حضور شیر نیپال مفتئی اعظم نیپال کا فیضان ہے

(طالب دعا - بلال برکاتی نیپالی)

حضور شیر نیپال مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی کی شخصیت حضور شیر نیپال مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی کی شخصیت Reviewed by Belal Barkati on 6:57 AM Rating: 5

1 comment:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.