خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھنے پر وعیدیں

اَحَادِیْثِ لَیْسَ مِنَّا وہ ہم میں سے نہیں
مضمون نگار:   محمد ثاقب رضا قادری
اَحَادِیْثِ لَیْسَ مِنَّا
وہ ہم میں سے نہیں

مرتب و مترجم
مولانا محمد مجاہد حسین حبیبی
ایڈیٹر سہ ماہی تبلیغ سیرت کلکتہ

خوش اِلحانی سے قرآن نہ پڑھنے پر وعید
عَنْ أَبِی سَلْمَۃَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ ۔
ترجمہ : حضرت ابوسلمہ سے مروی ہے وہ روایت کرتے ہیںحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’وہ شخص ہم میںسے نہیںجوقرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے‘‘۔(بخاری:۷۵۲۷، ابودائود:۱۴۷۱، مسندامام احمدبن حنبل:۱۴۹۳ مصنف ابن ابی شیبہ:۲۹۹۴۲مصنف عبدالرزاق:۴۱۷۰)
یعنی مسلمان کوچاہیے کہ خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔خوش الحانی کامطلب یہ نہیںکہ قرآن راگ اورگانے کے اندازمیںپڑھاجائے بلکہ خوش الحانی یہ ہے کہ تجویدو قراء ت کی رعایت کرتے ہوئے خوش آوازی سے قرآن پڑھاجائے۔
قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ ْبنُ أَبِیْ یَزِیْدَ مَرَّ بِنَا أَبُوْلُبَابَۃَ فَاتْبَعْنٰاہُ حَتّٰیدَخَلَ بَیْتَہٗ فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ فَإِذَا رَجُلٌ رِثُّ الْبَیْتِ،رِثُّ الْہَیْئَۃِ فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ َیقُوْلُ لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ لِاِبْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ یَکُنْ حُسْنَ الْصَوْتِ ؟ قَالَ یُحَسِّنُہٗ مَا اسْتَطَاعَ .
ترجمہ : حضرت عبیداللہ بن ابویزیدکہتے ہیںکہ ہمارے پاس سے حضرت ابولبابہ گزرے توہم ان کے پیچھے چل پڑے۔یہاںتک کہ وہ اپنے گھرمیںداخل ہوگئے۔توہم بھی گھرمیںداخل ہوئے میںنے وہاں ایک نہایت ہی کمزورآدمی کودیکھاجو یہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جوخوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہم میںسے نہیں۔(ابودائود:۱۴۷۳، شعب الایمان :۲۵۰۶)
راوی کہتے ہیںکہ میںنے ابن ابی ملیکہ سے کہا:اے ابومحمد!آپ اس آدمی کے بارے میںکیاکہتے ہیںجس کی آوازاچھی نہ ہو۔ توانہوںنے کہاجہاںتک ہوسکے اچھی آواز میں پڑھنے کی کوشش کرے۔
یعنی قرآن پڑھنے والا ممکنہ حدتک اچھی آواز میںقرآن پڑھنے کی کوشش کرے۔
عَنْ اِبْنِ أبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ الْرَّحْمٰنِ بْنِ السَّاِئبِ قَالَ قَدِمَ عَلَیْنَا سَعَدُ بْنُ أبِیْ وَقَاصٍ وَقَدْ کَفَّ بَصَرُہٗ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ مَنْ أنْتَ ؟ فَأخْبَرْتُہٗ، فَقَالَ مَرْحَبَا بِاِبْنِ أخِیْ بَلَغَنِیْ أنَّکَ حُسْنُ الْصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَقُوْلُ إنَّ ہٰذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأتُمُوْہُ فَابْکُوْا فَإِنْ لَمْ تَبْکُوْا فَتَبَاکُوْا وَتَغَنُّوْا بِہٖ فَمَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِہٖ فَلَیْسَ مِنَّا۔
ترجمہ : حضرت رافع سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے اورانہیں عبدالرحمن بن سائب نے یہ کہاکہ ہمارے پاس حضرت سعدبن وقاص تشریف لائے جب کہ ان کی بینائی رخصت ہوچکی تھی۔ میںنے انہیں سلام کیا۔ آپ نے مجھ سے دریافت فرمایاتم کون ہو؟میںنے اپنے بارے میںبتایا۔اس پرآپ نے فرمایامرحبا! میرے بھتیجے۔مجھے خبرملی ہے کہ تم قرآن بہت ہی خوش الحانی سے پڑھتے ہو۔میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا’’ بے شک یہ قرآن حزن وملال کے ساتھ نازل ہواہے جب اسے پڑھوتورویاکرو۔ اگر رو نہ سکوتو رونے جیسی صورت بنالو۔(۳)اوراسے غنا(خوش الحانی )کے ساتھ پڑھو۔ جواسے غناکے ساتھ نہ پڑھے وہ ہم میںسے نہیں۔(سنن ابن ماجہ: ۱۳۳۷،کنزالعمال:۲۷۹۴،شعب الایمان:۱۹۹۱،مسندابویعلی:۶۶۲)
یعنی قرآن کی تلاوت کرتے وقت قرآن پڑھنے والے کوچاہیے کہ خشیت الٰہی کے سبب روئے اوراگررونہ سکے توکم از کم رونے جیسی صورت ہی بنالے۔
سنت سے رُوگردانی پر وعید
حَدّّثَنَاحَمِیْدُنِ الْطَوِیْلُ ، أَنَّہٗ سَمِعَ أَنَسَ بْنِ مَالِکٍ یَقُوْلُ جَآئَ ثَلاَثَۃُ رَہْطٍ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَسْأَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ الْنَّبِیْ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّم، فَلَمَّا أُخْبِرُوْا فَکَأَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا ، قَالُوْاأَیْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ؟ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا
تَأَخَّرَ قَالَ أَحَدُہُمَا: أَمَا أَنَا فِإِنِّیْ أُصَلِّی الْلَّیْلَ أَبَدًا، وَقَالَ اْلآخَرُ إِنِّی أَصُوْمُ الْدَہْرَ أَبَداً وَلَا أَفْطِرُ ، وَقَالَ الآخَرُأَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَائَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ أَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ؟ أَمَا وَاللّٰہِ إِنِّیْ َلأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ ، وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ ، لٰکِنِّیْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ َوأُصَلِّیْ وَأَرْقَدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَائَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی ۔
ترجمہ: حضرت حمید الطویل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ میںنے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کویہ کہتے ہوئے سناکہ تین آدمی حضورکی ازواج مطہرات کے پاس پہنچے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میںان سے دریافت کریں۔جب انہیںحضورکی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوںنے اسے بہت ہی کم سمجھا۔اورکہاکہاںہم اورکہاںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ اللہ نے توان کے سبب امتیوں کے اگلے پچھلے گناہوںکومعاف فرمادیاہے۔ پھر ان میںسے ایک نے کہا۔ میں ہمیشہ شب بیداررہ کرعبادت کروں گا۔ دوسرے نے کہامیںہمیشہ روزہ رکھوںگا۔تیسرے نے کہا۔ میں عورتوں سے کنارہ کش رہوںگااورکبھی نکاح نہیں کروں گا۔(٭) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اورآپ نے ارشادفرمایا:تم لوگوںنے ایسا ایسا کہاہے ۔قسم خداکی! میںتم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہوں۔لیکن میںروزہ بھی رکھتا ہوںاور کبھی ترک بھی کرتاہوں میںرات کو نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتاہوںتوجومیری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ۔ (صحیح بخاری:۵۰۶۳،شعب الایمان :۵۲۳۹)
(٭)یعنی ان تینوںنے سمجھاکہ ہمیشہ شب بیداررہ کرعبادت کرنا،روزہ رکھنااور غیر شادی شدہ زندگی گزارناہی سب سے بڑی عبادت ہے۔لیکن حضورسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیںبتادیاکہ اللہ کے بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والامیں ہوں اس کے باوجودمیںرات جاگ کرعبادت بھی کرتاہوں اورسوتابھی ہوں۔روزہ بھی رکھتا ہوں اورکبھی روزہ سے نہیںبھی رہتاہوں۔نکاح بھی کرتاہوں۔اس لیے امتی ہونے کے ناطے مسلمانوںپر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کے طریقے سے انحراف نہ کریںاوراچھی طرح سمجھ لیںکہ دنیاسے کنارہ کش ہوکررہبانیت کی زندگی گزارنے کی اسلام میںکوئی گنجائش نہیں ہے۔
یعنی جوحضور علیہ السلام کی سنت اورآپ کے طریقے کوچھوڑ کردوسروں کے طورطریقے اپناتے ہیں حضور ان سے ناراض اوربیزارہیں۔
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہُِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَّمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ وَمَنْ کَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْیَنْکِحْ وَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَعَلَیْہِ بِالصِّیَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَاء ٌ .
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے وہ کہتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نکا ح میری سنت ہے جومیری سنت پرعمل نہ کرے اس کامجھ سے کوئی تعلق نہیں۔نکاح کرواس لیے کہ میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امت پرفخرکروں گا ۔ اورجوخوش حال ہواسے چاہیے کہ نکاح کرے اورجونکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے اس لیے کہ روزہ اس کے لیے بمنزلہ ڈھال کے ہے۔اور روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔(سنن ابن ماجہ:۱۹۱۹)
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ شُرْبَ الْخَمْرِ وَثَمَنِہَا وَحَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَثَمَنِہَا وَحَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْخَنَازِیْرَ وَأَکْلِہَا وَثَمَنِہَا قَصُّوْا الشَّوَارِبِ وَاعْفُوْا الْلُحٰی وَلَا تَمْشُوْا فِیْ الْاَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَیْکُمُ الْاُزُرْ إِنَّہٗ لَیْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّۃَ غَیْرِنَا.
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ بیشک اللہ نے شراب اوراس کی قیمت کوحرام فرمادیاہے اورتم پرمرداراوراس کی قیمت اور خنزیرکھانااوراس کی قیمت بھی حرام کردیاہے۔مونچھوںکوپست کرو، داڑھی کوبڑھائواورتم بازارمیںاِزار(تہبند)کے بغیرنہ گھوماپھراکرو۔اس لیے کہ جو میری سنت کے علاوہ کسی اورکے طریقے پرچلے وہ ہم میںسے نہیں۔(کنزالعمال:۱۳۲۰۹،مجمع الزوائد:۶۴۱۷)
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَصُّوْا الشَّوَارِبَ وَأعْفُوْا اللُّحٰی وَلَا تَمْشُوْا فِی الأَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَیْکُمْ الأُزُرْ إِنَّہٗ لَیْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّۃَ غَیْرِنَا ۔
ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مونچھوںکوپست کرو،داڑھی کوبڑھائواورتم بازاروںمیںبغیرازار(تہبند)کے نہ پھراکرواس لیے کہ جوہمارے غیرکے طریقے کو اپنائے وہ ہم میںسے نہیں۔(معجم الاوسط طبرانی:۱۱۴۸۳)
مسلمانوں کی خیر خواہی نہ کرنے پر وعید
عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ الْنَّبِّیُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ وَہَمُّہٗ الْدُّنْیَافَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ وَمَنْ لَّمْ یَہْتَمَّ بِالْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنْہُمْ وَمَنْ أَعْطَی الْذِّلَّ مِنْ نَفْسِہٖ طَاِئعًا غَیْرَ مُکْرِہٍ فَلَیْسَ مِنَّا ۔
ترجمہ: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس نے اس حال میںصبح کی کہ اس کی فکرصرف دنیاکی ہو۔اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی چیزنہیں۔(۱) اورجومسلمانوںکی خیرخواہی کاارادہ نہ رکھتاہووہ ان میںسے نہیں۔(۲)اورجواپنی خواہش نفس سے بغیرکسی کے مجبورکیے ہوئے خودکوذلت میں ڈالے وہ ہم میںسے نہیں۔(۳)(معجم الاوسط:۴۷۸)
(۱)یعنی مسلمانوںکی ذہنیت یہ ہونی چاہیے کہ صبح وشام ہروقت ان کے قلوب واذہان دوسرے مسلمانوںکی خیرخواہی کے جذبے سے لبریزہوںاورجوصرف دنیاکے لیے فکرمند رہتاہے وہ اللہ اوراس کے رسول کی بارگاہ کاسخت مجرم اورناپسندیدہ بندہ ہے۔
(۲)یعنی جس مسلمان کے دل میںدوسرے مسلمانوںکی خیرخواہی اوربھلائی کاجذبہ نہ ہووہ مسلمانوں میںسے نہیںہے۔
(۳)یعنی مسلمان کوچاہیے کہ اپنی عزتِ نفس کاخیال رکھے۔

عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا یَہْتَمَّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنْہُمْ،وَمَنْ لَمْ یُصْبِحُ وَیُمْسِیْ نَاصِحاً لِلّٰہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِکِتَابِہٖ وَلِإِمَامِہٖ وَلِعَامَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنَّا۔
ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو مسلمانوںکے معاملات میںخیرخواہی کاجذبہ نہ رکھتاہووہ ان میںسے نہیںاورجوصبح وشام اس حال میںنہ کرے کہ اللہ اوراس کے رسول کی رضاکے لیے مسلمانوںکے امام اورعام مسلمانوںکونصیحت نہ کرے وہ ہم میںسے نہیں۔(مجمع الزوائد:۲۹۴)
ظالم حکام کی اِمداد و اِعانت پر وعید
عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -صَلَّیاللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّم- قَالَ إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَاء ُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَأَعَانَہُمْ عَلَی ظُلْمِہِمْ فَلَیْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْہُمْ وَلاَ یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلَی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ ۔
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب ایسے حکام ہوںگے جوجھوٹ بولیںگے ۔ظلم کریںگے توجس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پران کی مددکی وہ ہم میںسے نہیں اورنہ میںان میںسے ہوں۔اور نہ قیامت کے دن وہ میرے حوض کوثرپر آئیںگے ۔(۱)اورجس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کے مظالم پران کی مدد نہ کی وہ مجھ سے ہیں اور میںا ن سے ہوںاوروہ میرے پاس حوض کوثرپرآئیںگے۔(۲) (مسنداحمد:۲۳۹۶۱)
(۱)یعنی جھوٹ بولنااورجھوٹے کی تائیدکرنا،ظلم کرنااورظالم کی مدداورحمایت کرنایہ کام اللہ ورسول کونہایت ہی ناپسندہیںاس لیے ایسے گناہوں میں مبتلا لوگوںکوقیامت کے دن حوضِ کوثر سے سیراب ہونے نہیں دیا جائے گا ۔
(۲) یعنی جھوٹ سے بچنااورجھوٹے کی حمایت نہ کرنااللہ اوراس کے رسول کوپسند ہے اسی طرح دوسروںپرظلم کرنے سے خودکوروکنااورکسی ظالم کی مددنہ کرنایہ بھی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبہت ہی پسندہے ۔اس لیے جھوٹ اورظلم کی تائیدنہ کرنے والے کااللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعزازفرمائے گااورحضورایسے آدمی کوکوثر کاجام پلائیں گے ۔
عَنْ عَبْدِ الْرَحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ الْنَّبِیَّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلْمَ قَالَ یَا کَعَبَ ْبنِ عُجْرَۃَ ، أُعِیْذُکَ بِاللّٰہِ مِنْ إِمَارَۃِ السُّفَہَآئِ ، إنَِّہَا سَتَکُوْنُ أُمُرَائً مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ فَأَعَانَہُمْ عَلَی ظُلْمِہِمْ وَصَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ، وَلَسْتُ مِنْہُ وَلَنْ یَّرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَّمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ وَلَمْ یُعِنْہِمْ عَلَی ظُلْمِہِمْ وَلَمْ یُصَدِّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ فَہُوَ مِنَّیْ وَأَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضِ ۔
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ روایت کرتے ہیںحضرت جابربن عبداللہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے کعب بن عجرہ!میںتیرے لیے اللہ سے بیوقوفوںکی حکومت سے پناہ مانگتاہوں۔عنقریب کچھ حکام ہوںگے۔ جوان کے پاس جائے گااوران کے ظلم میںان کی مددکرے گااوران کے جھوٹ کی تصدیق کرے گاوہ مجھ سے نہیںاورنہ میراان سے کوئی تعلق ہے۔ایسے لوگ میرے حوض کوثرپرنہیںآئیںگے اورجوان کے پاس نہ جائے ان کے ظلم میںمددنہ کرے اورنہ ان کی جھوٹ کی تصدیق کرے۔ تووہ مجھ سے ہے اورمیںان سے ہوں۔عنقریب وہ میرے حوض کوثرپر حاضر ہوںگے۔(صحیح ابن حیان:۱۷۵۱)
عَنْ کَعْبِ بن عُجْرَۃَ، قَالَ قَالَ لِیْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُعِیذُکَ بِاللَّہِ یَا کَعْبُ بن عُجْرَۃَ مِنْ أُمَرَاء ٍ یَکُونُونَ بَعْدِی، فَمَنْ غَشِیَ أَبْوَابَہُمْ، وَصَدَّقَہُمْ فِی کَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلَی جَوْرِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی، وَلَسْتُ مِنْہُ، وَمَنْ غَشِیَ أَبْوَابَہُمْ أَوْ لَمْ یَغْشَہَا فَلَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلَی جَوْرِہِمْ، فَہُوَ مِنِّی، وَأَنَا مِنْہُ، وَسَیَرِدُ عَلَّی الْحَوْضَ۔
ترجمہ: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے کعب بن عجرہ !میںتیرے لیے اللہ سے پناہ مانگتاہوںایسے حکام اوراُمراسے جومیرے بعدہوںگے۔جوان کے دروازے پرجائے اوران کے جھوٹ کی تصدیق کرے اوران کے ظلم پران کی امداد و اعانت کرے وہ مجھ سے نہیںہے اورنہ میںان میںسے ہوں۔اورجوان کے دروازے میںجائے یانہ جائے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اورظلم پران کی مدد نہ کرے وہ مجھ سے ہے اورمیںاس سے ہوں۔عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثرپرآئے گا۔(معجم کبیرطبرانی:۱۵۵۶۱)
عَنْ عَبْدِ الْرَحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِِ صَلَّی اللّٰہُِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعَاذَکَ اللّٰہُ مِنْ أُمُرَائً یَکُوْنُوْنَ بَعْدِیْ قَالَ وَمَا ہُمْ یَارَسُوْلُ اللّٰہِ ؟ قَالَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ فَصَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ وَأَعَانَہُمْ عَلَی جَوْرِہِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَا یَرِدُ عَلَیحَوْضِیْ اِعْلَمْ یَا عَبْدِ الْرَحْمٰنِ أَنَّ الْصِیَامَ جُنَّۃٌ وَالْصَلَاۃُ بُرْہَانٌ یَا عَبْدِ الْرَحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ إِنَ اللّٰہَ تَعَالٰی أَبٰی عَلَی أَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، اَلنَّارُ أَوْلٰی بِہٖ ۔
ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تمہیںایسے حکام اوراُمرا سے بچائے جومیرے بعدہوںگے۔راوی کہتے ہیںکہ میںنے عرض کیایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے ہوںگے؟فرمایا:جوان کے پاس جائے اوران کی جھوٹ کوسچ کہے اوران کے ظلم پران کی مددکرے وہ مجھ سے نہیںوہ حوض کوثرپرمیرے پاس نہیں آئے گا۔جان لو!اے عبدالرحمن! بے شک روزہ ڈھال ہے۔ نماز برہان (دلیل) ہے۔اے عبدالرحمن اللہ نے اس آدمی کوجنت میںداخل کرنے سے انکار فرمادیا ہے جوحرام کمائی سے پلابڑھاہو۔جہنم ہی اس کے لیے مناسب ٹھکانہ ہے۔(معجم الاوسط طبرانی:۴۱۸۳)
یہود و نصاری سے مشابہت کرنے پر وعید
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا لاَ تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ وَلاَ بِالنَّصَارَی فَإِنَّ تَسْلِیْمَ الْیَہُوْدِ اَلْإِشَارَۃُ بِالْأَصَابِعِ وَتَسْلِیمَ النَّصَاریٰ اَلْإِشَارَۃُ بِالأَکُفِّ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ ہم میںسے نہیںجوغیروںکی مشابہت اختیارکرے۔(۱) تم یہودونصاری کی مشابہت سے بچواس لیے کہ یہودیوں کاسلام انگلیوںکے اشارے سے ہے اورنصاریٰ (عیسائیوں ) کاسلام ہتھیلی کے اشارے سے ہے۔(۲)(ترمذی :۲۹۱۱، کنزالعمال: ۲۵۳۳۳)
(۱) مسلمان کی دینی ومذہبی ذمہ داری تویہ ہے کہ وہ اسلام وایمان کی دولت دوسروںتک پہنچائے خود حضورکی سنت وشریعت پرعمل کریںاوردوسروںکوبھی اس کی ترغیب دیں۔لیکن اگرکوئی اپنے فرائض منصبی کوبھول کردوسرے مذاہب کی تہذیب وطریقے کواپنالے تویہ کم نصیبی کی بات ہے اسی لیے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے لوگوںسے براء ت ظاہر فرمائی ہے۔
(۲)سلام کے آداب میںسے یہ ہے کہ سلام کرنے والااتنی بلندآوازمیںسلام کرے کہ جسے وہ سلام کررہاہے وہ سن لے ۔انگلی کے اشارے سے سلام کرنایہودیوں کا طریقہ ہے۔ اورہتھیلی کے اشارے سے سلام کرناعیسائیوںکا طریقہ ہے۔اسی طرح سرکے اشارے سے سلام کرنایہ بھی غیراسلامی طریقہ ہے اس لیے مسلمانوںکوچاہیے کہ اس طرح کی عادتوں سے بچیں۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہٖ ، أَظُنُّہٗ مَرْفُوْعًا قَالَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا لاَ تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ وَلَا بِالنَّصَارٰی فَإِنَّ تَسْلِیْمَ الْیَہُوْدِ اَلْإِشَارَۃُ بِالْأَصَابِعَ وَإِنَّ تَسْلِیْمَ الْنَّصَارٰی بِالْاَکُفِّ ، وَلَا تَقُصُّوْا النَّوَاصِیَّ ، وَأحْفُوْا الشَّوَارِبَ ، وَأعْفُوْا اللُّحٰی ، وَلاَ تَمْشُوْا فِیْ الْمَسَاجِدِ وَالْأَسْوَاقِ وَعَلَیْکُمُ الْقُمُصْ إِلَّا وَتَحْتِہَا الأُِزُ ْر۔
ترجمہ : حضرت عمروبن شعیب سے مروی ہے ۔وہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیںاوروہ ان کے داداسے روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ ہم میںسے نہیںجودوسروںسے مشابہت اختیارکرے ۔تم یہودو نصاری کی مشابہت اختیارنہ کرو۔یہودکے سلام کاطریقہ انگلیوںکے اشارے سے اور نصاری (عیسائیوں)کاسلام ہتھیلی کے اشارے سے ہے اورتم پیشانی کے بال نہ چھوٹا کرو،مونچھوںکوپست کرو ۔داڑھیوں کوبڑھائو۔ (۱) مسجد اوربازاروں میں صرف قمیص میںنہ جایاکروبلکہ اس کے نیچے ازار (تہبند)بھی ہو۔(لمعجم الاوسط طبرانی:۷۵۹۳)
(۱)سنت یہ ہے کہ مونچھیںپست کی جائیں۔داڑھی ایک مشت تک رکھنا واجب ہے۔ دین سے دُوری کانتیجہ ہے کہ مسلمان مونچھیںبڑی کررہے ہیں جب کہ داڑھیاں صاف کی جارہی ہیں۔العیاذ باللہ منہ
عورت اور مرد کا ایک دوسرے سے مشابہت کرنے پر وعید
عَنْ رَجُلٍ مِّنْ ہُذَیْلٍ قَالَ رَأَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ عَمْرو بنِ الْعَاصِ وَمَنْزِلُہٗ فِی الْحِلِّ وَمَسْجِدُہٗ فِی الْحَرَمِ، قَالَ فَبَیْنَا أنَا عِنْدَہٗ رَاَی أُمَّ سَعِیْدٍ اِبْنَۃَ أبِیْ جَہْلٍ مَُتَقَلِّدَۃً قَوْساً، وَہِیَ تَمْشِیْ مَشْیَۃِ الْرِّجَالِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ مَنْ ہٰذِہٖٖ؟ فَقُلْتُ ہٰذِہٖ أُمُّ سَعِیْدٍ بِنْتِ أبِیْ جَہْلٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْل:\\\\\\\"
لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِالْرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ وَلَا مَنْ تَشَبَّہَ بِالنِّسَائِ مَنِ الْرِّجَالِ۔
ترجمہ : قبیلۂ ہذیل کے ایک آدمی سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ میںنے حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص کودیکھاجن کاگھراورمسجد،حرم مکہ میںہے۔ راوی کہتے ہیںکہ میںحضرت عبداللہ کے پاس تھا کہ انہوںنے ام سعیدبنت ابوجہل کو دیکھاجوکمان کاندھے پررکھے ہوئے تھی اورمردوںکی چال چل رہی تھی۔ حضرت عبداللہ نے دریافت کیایہ کون ہے؟قبیلۂ ہذیل کے اس شخص نے جواب دیاکہ یہ ابوجہل کی بیٹی اُمِّ سعیدہے۔اس پر حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص نے کہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا’’وہ ہم میںسے نہیںجوعورت ہوکر مردوںسے مشابہت کرے اورنہ وہ ہم میںسے ہے جومردہوکرعورتوںسے مشابہت اختیار کرے‘‘۔ (مسنداحمد:۷۰۵۴)
یعنی عورتوںکے لیے ناجائزہے کہ وہ مردوںسے مشابہت اختیارکریں یہ مشابہت کئی طرح سے ہو سکتی ہے ۔مثلا چلنے پھرنے ،پہننے اوڑھنے،رہنے سہنے اورگفتگوکے معاملے میں۔ اسی طرح مردوںپربھی ناجائز ہے کہ رہنے سہنے،پہننے اوڑھنے،چلنے پھرنے اوردیگرمعاملات میں عورتوںسے مشابہت اختیار کریں۔

عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثَی الْرِّجَالِ اَلَّذِیْنَ یَتَشَبَّہُوْنِ بِالنِّسَائِ ، وَالْمُتَرَجَّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ اَلْمُتَشَبَّہَاتِ بِالْرِجَالِ، وَرَاکِبِ الْفُلَاۃِ وَحْدَہٗ.
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوںپرلعنت فرمائی ہے جو مخنث(ہجڑا)بنتے ہیں تاکہ عورتوںسے مشابہت اختیارکریں۔اورمردبننے والی عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جومردوںسے مشابہت اختیار کرتی ہیں۔(مجمع الزوائدومنبع الفوائد:۱۳۱۹۹)
مسلمانوں کو دھوکہ دینے پر وعید
عَــنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ یَبِیْعُ طَعَاماً ، فَقَالَ کَیْفَ تَبِیْعُ ؟ فَأخْبَرَہٗ ، فَأوحٰی إِلَیْہِ أنْ أُدْخُلْ یَدَکَ فِیْہِ ، فَأدْخَلَ فَإِذَا ہُوَ مَبْلُوْلٌ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جوغلہ بیچ رہاتھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :کیسے بیچتے ہو؟اس نے بتایاکہ وہ کیسے بیچ رہاہے (یعنی قیمت بتائی)اللہ تعالیٰ نے آپ پروحی فرمائی کہ آپ اس میںہاتھ ڈال کر دیکھیں آپ نے دیکھاکہ غلہ اندرسے بھیگاہواہے اس پرآپ نے فرمایا:وہ ہم میںسے نہیںجودھوکہ دے۔(شعب الایمان بیہقی:۵۰۷۳)
یعنی سامان تجارت مثلاًاناج،کپڑایادیگرچیزوںمیںکوئی خرابی ہوتوبیچنے والے پرضروری ہے کہ خریدار پراس کی خرابی کوظاہرکردے۔اور کسی چیز کا وزن بڑھانے کے لیے اسے پانی سے تر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَقَدْ حَسَّنَہٗ صَاحِبُہٗ فَأدْخَلَ یَدَہٗ فِیْہِ فَإِذَا طَعَامٌ رَدِیٌّفَقَالَ بِعْ ہَذٰا عَلَی حِدَۃٍ وَہٰذَا عَلَی حِدَۃٍ فَمَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔ (۲)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ایسے ڈھیرکے پاس سے گذرے کہ بیچنے والااسے اچھابتارہاتھا۔حضورنے غلہ کے ڈھیرکے اندرہاتھ ڈالا۔آپ نے دیکھاکہ اندرخراب قسم کاغلہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھے کوالگ اورخراب کوالگ کرکے بیچو۔اس لیے کہ جوہمیںدھوکہ دے وہ ہم میںسے نہیں۔( مجمع الزوائد:۶۳۳۸)
یعنی بیچنے والے کے پاس اگراچھی چیزہواور گھٹیااور ردی چیزبھی ہوتو دکان دار کو چاہیے کہ اچھی چیز کو گھٹیااورردی چیزوںسے الگ کرکے بیچے تاکہ خریداروںکودھوکہ نہ ہو۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِی النَّار۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جوہمیںدھوکہ دے وہ ہم میںسے نہیںاورمکروفریب جہنم سے ہے۔(معجم کبیرطبرانی:۱۰۰۸۶،مجمع الزوائد:۶۳۴۱)
یعنی مکراورفریب اللہ ورسول کونہایت ہی ناپسندہے۔اس لیے مسلمانوں کولین دین اوردیگرمعاملات میںان بری عادتوںسے بچناچاہیے ورنہ انجام کارجہنم میںجانا پڑے گا۔
عَنْ قَیْسِ بْنِ أبِیْ غَرْزَۃْ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ یَبِیْعُ طَعَاماً فَقَالَ یَا صَاحِبَ الْطَّعَامِ أسْفَلُ ہٰذَا مِثْلَ أعْلَاہَ؟فَقَالَ نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنْہُمْ ۔
ترجمہ : حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جوغلہ بیچ رہاتھا۔آپ نے اس غلہ بیچنے والے سے دریافت فرمایا۔اے غلہ بیچنے والے !کیااس غلہ کانچلہ حصہ ویساہی ہے جیسا اوپر کا غلہ ہے۔غلہ بیچنے والے نے عرض کیا۔جی ہاںنیچے کاغلہ اوپرہی کی طرح ہے اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جومسلمانوںکودھوکہ دے وہ مسلمانوں میںسے نہیں۔(معجم کبیرطبرانی، مجمع الزوائد:۶۳۴۴)
عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی السُّوْقِ فَـــــرَأَی طَعَاماً مُصْبِراً (مجموعاً کالکومۃ)فَأدْخَلَ یَدَہٗ فِیْہِ فَأصَابَ طَعَاماً رَطَباً قَدْ أصَابَتْہُ السَّمَائُ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ مَا حَمَلَکَ عَلَی ہَذٰا؟ قاَلَ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِ إِنَّہٗ لَطَعَامٌ وَّاحِدٌ قَالَ \\\\\\\"أفَلَا عَزَلْتَ الرَّطَبَ عَلَی حِدَۃٍوَالْیَابِسْ عَلَی حِدَۃ فَیَبْتَاعُوْنَ مَا یَعْرِفُوْنَ؟ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازارکی طرف نکلے آپ نے غلہ کاایک ڈھیردیکھا۔ اس میںاپناہاتھ ڈالاتوآپ نے دیکھاکہ غلہ بارش کی وجہ سے بھیگاہواہے۔اس پرآپ نے غلہ بیچنے والے سے فرمایا:تمہیںکس چیزنے ایساکرنے پرآمادہ کیا؟غلہ بیچنے والے نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجاہے یہ ایک ہی قسم کاغلہ ہے۔آپ نے فرمایا:تونے بھیگے ہوئے غلہ کوالگ اورسوکھے ہوئے کوالگ الگ کیوں نہیںکردیاکہ لوگ دیکھ کرخریدیں جودھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔(معجم اوسط طبرانی،مجمع الزوائد:۶۳۴۹)
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا ، وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِی النَّارِ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوہمیںدھوکہ دے وہ ہم میںسے نہیں۔فریب اوردھوکہ جہنم سے ہے۔(صحیح ابن حبان:۵۶۵۰)
خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھنے پر وعیدیں خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھنے پر وعیدیں Reviewed by Belal Barkati on 1:37 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.