ملک نیپال میں حالات حاضرہ پر ایک نظر


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ملک نیپال میں حالات حاضرہ پر ایک نظر
التاريخ : 7/11/2017
چند روز قبل میں نے ایک تحریر پیش کی تھی لیکن اس پر کسی نے اپنا رد عمل کا اظہار نہیں کیا لیکن کچھ لوگوں نے اسے ضرور سراہا تھا خیر میں ان کا شکر گزار ہوں
آج ملک نیپال میں مسلکی اعتبار سے جو حالات بنے ہوئے ہیں وہ ہر کس و ناکس پر ظاہر و باہر ہے
اس لئے اس وقت ملک نیپال میں سنیت کو بچانے کے لئے جس چیز کی سخت ضرورت ہے وہ ہے علماء اہلسنت والجماعت کا اتحاد ویسے تو یہ اتحاد مشکل نظر آرہا ہے لیکن اگر کوشش کریں تو کچھ حد تک اس میں سودھار آسکتی ہے کیونکہ اس وقت اور زمانہ ماضی میں بھی ملک نیپال میں اگر دیکھا جائے تو جنکپور اور اس کے مضافات میں ہی علماء کی کثرت رہی ہے اور ہے اور عوام اہلسنت نیپال اسی اطراف کے علماء کو آج بھی فالو کرتے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ علماء کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اختلاف انتشار کا سبب بن جائے اختلافی باتوں کو اگر دیکھا جائے تو ملک نیپال میں اختلافی اعتبار سے دو ہی پارٹی ہے ایک (...........)  اور دوسری پارٹی (.........) کیونکہ ملک نیپال میں میچی سے لیکر مہا کالی تک کا اگر جائزہ لیا جائے تو کوئی ........... ہے اور کوئی ........... ہے بس اتنا ہی اختلاف ہے اب چونکہ علماء جدید میں جذ بئہ اتحاد بیدار ہوا ہے اور سبھوں نے وقت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس کیا ہے کہ اگر اب بھی اتحاد نہیں ہوا تو پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے اگر کوئی ذاتی طور پر کسی سے کوئی اختلاف رکھتا ہے تو میں اس کی بات نہیں کرتا ہوں کیوں کہ ایسا ہوسکتا ہے لیکن اس ذاتی اختلاف کو کوئی اجتماعی اختلاف بنادے میں اسے ہرگز سپورٹ نہیں کرتا
کیوں کہ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے علاقے میں سب سے پہلے جنکپور سے کوئی عالم پہونچے تھے تو وہ تھے حضرت مولانا محمد عیسیٰ برکاتی صاحب اور ان کے ہی ذریعے سے حضور شیر نیپال صاحب بھی تشریف لائے اور پھر وہاں سنیت بچی اور ہمارے علاقے میں آج بھی اگر کوئی بڑا پروگرام ہوتا ہے تو مفتی عثمان صاحب وغیرہ کو مدعو کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے بھی بہت سے فالورز ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان سے ایک بات میں میں بھی اختلاف رکھتا ہوں لیکن وہ اختلاف بطور انتشار نہیں ہے وہ الگ میٹر ہے جس پہ میں کبھی تفصیل سے بات کروں گا اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ورنہ اس کی بھی ضرورت نہیں ہے
جہاں تک میری ادراک ہے کہ اگر ملک نیپال کے شہر جنکپور اور اس کے مضافات میں جو علماء اہلسنت ہیں اگر ان کے درمیان اتحاد ہو جائے تو پھر ملک نیپال میں سنیت کا ہی بول بالا ہوگا ان شاءاللہ اور ایسا کرنے کے لئے علماء قدیم کو بالائے طاق رکھ کر جدید علماء ملکر  تحریک کو آگے بڑھائے تو ان شاءاللہ ذات باری تعالٰی سے ہمیں پورا یقین ہے کہ نیپال میں بہار ہی بہار ہوگی پھر
دوسری بات یہ کہ اس وقت جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم لوگ اپنی اپنی باتیں ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں یہ ایک بہت ہی اچھا ذریعہ ہے اور اس وقت نیپال میں جو علماء حضرات مساجد و مدارس میں خدمت دین میں مصروف عمل ہیں شاید سب کے پاس اینڈرائڈ فون ہوگا تو ان سب کے نمبرات حاصل کرکے ان سب کو اس گروپ میں شامل کیا جائے تاکہ سب تک یہ بات پہونچے اور وہ اپنے تئیں کوشش کریں اور پھر اس کے بعد اتحاد کی جو لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا متفقہ رائے سے ایک رائے پاس ہو اور پھر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے  اور چند روز قبل حضرت مولانا محمد عتیق ضیائی بھائی نے بھی ایک تحریر ڈالا تھا اس پر بھی اپنی اپنی رائے پیش کریں
متحد ہوتو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہوتو مرو شور مچاتے کیوں ہو
میں اپنی بات یہیں ختم کرتا ہوں میری باتوں سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو مجھے معاف فرمائیں گے اور میں آپ سب کے نیک مشورے کا منتظر رہوں گا
شکریہ جزاکم اللہ خیر  - - ----  کتبہ ۔ بلال برکاتی سنسری نیپال

ملک نیپال میں حالات حاضرہ پر ایک نظر ملک نیپال میں حالات حاضرہ پر ایک نظر Reviewed by Belal Barkati on 11:47 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.