آصفہ رائیگاں نہ جائے گا لہو تمہارا


آصفہ رائیگاں نہ جائے گا لہو تمہارا

آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے

آج سے تقریبا تین مہینہ پہلے 10جنوری 2018 کو کشمیر کے کٹھوہ علاقے ایک آٹھ سال کی معصوم پھول آصفہ بانو کو اس وقت کچھ آر ایس ایس کے درندے اگوا کر کے لے گئے جب وہ معصوم بچی اپنے ہی گاؤں کے میدانی علاقے میں گھوڑا چَرانے گئی تھی گنڈے اس کو اٹھا کر ایک مندر جہاں ہندو پوجا پارٹ کرتے ہیں اور اس کو دنیا کی سب سے پوتر (پاک) جگہ سمجھتی ہیں اس مندر میں اس معصوم کو آٹھ دن تک بنا دانہ پانی کے رکھا اور پانچ لوگ مل کر گنگ ریپ کرتے رہے جس میں قوم کا لیڈر BJP کا ایک نیتا بھی شامل تھا قوم کی عزت کا رکھوالا جس پر جنتا بھروسہ کرتی ہے یعنی sp دیپک کھجوریا جو کہ پولیس کانسٹیبل ہے اور چچا بھتیجہ شامل ہے اور ایک شخص انسانیت پر دھبہ جو کہ میرٹھ سے فون کرتا ہے کہ ابھی مت مارنا مجھے بھی ریپ کرنا ہے اور آکر وہ بھی ریپ کرتا ہے 
آٹھ دن تک ڈرکس دیکر اس کے ساتھ ساموہک بلات کار کرتے رہے یہ درندے اور پھر ہوس پوری کرنے کے بعد گلہ دبا کر زمین پہ بھینک دیا اور پھر پتھر سے سر کچل دیا معصوم پری چینختی رہی چلاتی رہی رحم کی بھیک مانگتی رہی لیکن ان ظالموں کے دل میں رحم ہو تو آئے ، 

سوشل ۔یڈیا پر وائرل
یہ خبر تب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جب کشمیر کی ایک وکیلہ خاتون دیپیکا راجاراؤت اس کیس کی زمہ داری لی اور بغیر کسی فیس کے لڑنے کا مکمل ارادہ کرلیا تو اس کے ویرودھ میں BJP کے کئی نیتا اور ضمیر فروش وکیل کھل کر سامنے آئے اور اس کیس کو ختم کرنے کی کوشش میں زور و شور سے لگ گئے کیسے لوگ ہیں یہ کیا ان کے گھر میں ماں بہن بیٹی نہیں ہے کیا کس منہ سے اس زانی درندے کی حمایت میں اتر پڑے اللہ اکبر لیکن لیکن جب s.i.t نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر ان سب درندوں پر فرد جرم عائد کیا تو ہندوستان کا بےباک صحافی جناب رویش کمار اس جارٹشٹ کو میڈیا میں وائرل کیا پھر دیکھتے دیکھتے ABP نیوز نے بھی اس مدے کو زور و شور سے اٹھایا اور پھر آج تک نیوز چینل جوکہ ایسے معاملے من ی ہمیشہ سوئی رہتی تھی وہ بھی اس وقت اس مدے پہ آواز اٹھائی جب ہندوستان کے مشہور نیتا راہول گاندھی انڈیا گیٹ پر ہزاروں لوگوں کے ہمراہ کنڈل احتجاج کے لئے نکلے خیر اب امید کی کرن جاگی ہے کہ آصفہ کو انصاف ملے ، 

اب آصفہ کا معاملہ صرف ہندوستان تک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیل گیا پاکستان بنگلادیش میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی اور انٹرنیشنل میڈیا پہ بھی یہ خبر سرخی بن گئی یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں ایک صحافی اس واقعہ کو بیان کرتے کرتے آصفہ کا نام زبان پر آتے ہی اس کی ہچکی بندھ گئی 

میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا دردناک اور بھیانک حادثہ نہ کبھی دیکھا تھا اور نہ سنا تھا ہائے رے انڈیا ، 

ہندو دھرم کے لوگ اگر یہ سوچ کر آواز نہیں اٹھاتے ہیں کہ آصفہ ایک مسلمان لڑکی ہے تو کم از کم اس لئے تو آواز اٹھائے کہ انتا گندا اور گھناؤنا کام ایک پوتر (پاک) استھان مندر میں ہوا وہ اپنے 
مندر کے لئے تو کم سے کم آواز اٹھائے ، 

ہمارا نوجوان طبقہ
بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ ایسے معاملے میں بھی ہمارے نوجوان طبقے کی آنکھ نہیں کھل رہی ہے ہمارے قوم کے رہنما دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں مصروف ہیں جس سے نہ دین بچ رہا ہے اور نہ خود کی حفاظت ہورہی ہے جو ایک معصوم سی بچی آصفہ کو نہ بچا سکی وہ قوم آج دیش بچانے کی بات کررہی ہے حیرت ہوتی ہے ایسی بات سن کر ، ہمارے علماء کانفرنس کرنے کروانے میں مصروف عمل ہیں اور ہماری قوم کے پھول کو درندے نوچ کر کھارہے ہیں ، 
نوجوانوں اب وقت آگیا ہے ہے اٹھنے کا اور ہتھیار اٹھانے کا کیونکہ اب ہمارے دیس میں کوئی بھروسہ کے لائق نہیں بچا جو عدلیہ خود اپنی قانون کا فالو نہ کرے وہ آپ کو کیا انصاف دلائے گا اور جو پولیس والا خود ایک ریپیسٹ اور بلاتکاری اور دنیا کا سب سے بڑا درندہ ہو اس سے آپ کس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں ، 
اب آپ کی کوئی مدد نہیں کرےگا اب خود اٹھیں اور اپنی آواز بلند کریں اب انصاف کوئی دےگا نہیں خود چھین کر لینا پڑےگا ،

ہائے اللہ جب خیال آتا ہے پھول سی آصفہ کا تو کھانا اندر نہیں جاتا آنسو نہیں رکتے کیسے مارا ہوگا ظالموں نے کس طرح وہ بچی آٹھ دن تک ظلم سہی ہوگی آٹھ سال کی معصوم بچی کا کیا حال ہوا ہوگا کتنی روئی ہوگی کتنی تڑپی ہوگی ، 
آپ کے گھر میں آٹھ سال کی بچی ہو تو ذرا اس کو سامنے رکھ کر تصور کریں کہ آپ کی بچی کو اگر کوئی آپ سے چھین کر لے جائے تو آپ پر کیا بیتے گی ، لیکن یہاں آصفہ کو صرف لے نہی گیا بلکہ اس کے ساتھ جو ظلم ہوا شاید چشم فلک نے ایسا منظر نہیں دیکھا ہوگا ، 

آصفہ کے والد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بچی کو ہر جگہ تلاشا لیکن مندر میں نہیں تلاشا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ پوتر (پاک) جگہ ہے یہاں کیسے کوئی ایسا کر سکتا ہے لیکن واہ رے ہندتو ، 
لعنت بھیجنا چاہئے ایسے دھرم پہ 
فیسبک پر ایک میسج دیکھا تھا جس کا پروفائل تھا (my Hindu hun) اور اس پر لکھا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اور کریں گے ریپ تمہاری بہن بیٹیوں کے ساتھ یہ پڑھ کر کچھ دیر کے لئے میں سکتے میں آگیا لیکن پھر احساس ہوا کہ وہ تو کافر ہے اور کافر کافر ہی ہوتا ہے ،

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

اب ایسے نہیں چلے گا ہمیں بھی منظم ہونا ہوگا ہمیں بھی ایک تنظیم بنانی ہوگی ہمیں بھی اس کا جواب دینا ہوگا ہمیں اب میدان میں آنا ہوگا ، 
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

اخیر میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہیکہ اللہ آصفہ کو جنت کے پھولوں میں سے ایک پھول بنائے اور ان کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین،
اور عالم اسلام کے جملہ مسلمانوں کے جان و مال آل و اولاد دین و ایمان عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین،

{کتبہ : بلال برکاتی نیپالی}

١٥/٤/٢٠١٨
آصفہ رائیگاں نہ جائے گا لہو تمہارا آصفہ رائیگاں نہ جائے گا لہو تمہارا Reviewed by Belal Barkati on 5:36 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.