آصفہ رائیگاں نہ جائے گا لہو تمہارا ان شاءاللہ تعالیٰ
_________
کس طرح درد سہتی رہی آصفہ
باغ جنت کی تھی اک کلی آصفہ
آنکھ سب کی یہاں ہے نمی آصفہ
تیرے جانے پہ سب ہیں دکھی آصفہ
اپنے رب سے کروں گی شکایت تری
کہتے کہتے یہی چل بسی آصفہ
پھولنے سے قبل ہی وہ مرجھا گئی
تھی جو معصوم سی اک کلی آصفہ
رب نے شہرت جو بخشی ہے کیا خوب ہے
ســاری دنیــا میں ہے چھا گئی آصفہ
ڈھونڈھتے ڈھونڈتے تھک گئے والدین
پر کہیں بھی نہیں مل سکی آصفہ
ظلم کے قید میں خون بہتے رہے
ظلم سہتی ہوئی مرگئی آصفہ
تیرے قاتل سبھی اب بھی آزاد ہیں
معاف کرنا مجھے اے مری آصفہ
بچ نہ پائیں گے رب کی پکڑ سے کبھی
قاتلاں مجرماں آپ کی آصفہ
ہے بلال حزیں کی دعا بس یہی
عدل تم کو ملے اے مری آصفہ
_______
طالب دعا ۔ محمد بلال برکاتی نیپالی
کس طرح درد سہتی رہی آسفہ ، باغ جنت کی تھی اک کلی آسفہ
Reviewed by Belal Barkati
on
5:50 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
5:50 AM
Rating:


No comments: