ہمارے علماء اہلسنت کے غیر زمہ دارانہ بیان اور دین سنیت کا خسارہ
آج سوشل میڈیا میں دیکھا جارہا ہے کہ ایک دو لوگوں کی گواہی کو سن کر ہر ادارے والے اپنے اپنے لیٹر پیڈ پر اعلان شائع کردیتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو چاند دیکھا گیا لھذا فلاں تاریخ کو عید منائی جائے گی ، روزہ رکھا جائے گا حج کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ،
جبکہ اللہ کے رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد گرامی وقار ہے کہ ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو اگر آسمان ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو، (بخاری و مسلم)
اور مفکر اسلام علامہ سمش الدین احمد جعفری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "قانون شریعت حصہ اول کے صفحہ 167 پر فرماتے ہیں کہ ، تار ، ٹیلیفون ، ریڈیو ، سے چاند دیکھنا ثابت نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اگر انہیں ہر طرح صحیح مان بھی لیا جائے جب بھی یہ محض ایک خبر ہے شھادت نہیں اور محض ایک خبر سے چاند کا ثبوت نہیں ہوتا اور اسی طرح بازاری افواہ سے اور جنتریوں اور اخباروں میں چھپنے سے بھی چاند ہونا ثابت نہیں ہوسکتا، تو پھر ہم لوگ آخر کیوں ایسی باتیں شائع کرتے ہیں اس سے ہمارا کتنا فایدہ ہوسکتا ہے ؟
بعض احباب اس بات پر بضد ہیں کہ نئے ٹکنالوجی اور نئے ایجادات کا فایدہ اٹھانا چاہئے ، بیشک اٹھانا چاہئے لیکن چاند جیسے حساس مسئلے میں ہی کیوں ؟ ، بلکہ آج کے اس ٹکنالوجی کے زمانے میں ایسے ایسے وسائل بھی بآسانی مل جائیں گے کہ کسی کی آواز کو آسانی کے ساتھ تبدیل بھی کر سکتے ہیں ، پھر بھی احباب اس بات سے گریز نہیں کرتے ،
اگر کسی کو شھادت شرعی مل ہی گئی ہے تو وہ اپنے محلے قصبے ، اور شہروں کے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کروادیں بس ! یہ کیا بات ہوئی کہ دارالافتاء کے بغل میں رہنے والوں کو معلوم ہی نہیں اور خبر دنیا کے کونے کونے میں پہونچ جاتی ہے ،
آج جو لیٹر پیڈ پر اعلان شائع کیا جاتا ہے کیا اس پر عمل کرتے ہوئے ہم عید کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو کہا کہاں اور کس کس مقام پر ؟ کیونکہ اگر دیکھا جائے تو سعودی ، قطر ، دوبئی ، بحرین ، کویت ، عمان وغیرہ جیسے ممالک میں 21 اگست کو عید منائی جارہی ہے تو کیا بر صغیر کے رہنے والے حضرات شائع کردہ اعلان پر عمل کرتے ہوئے 22 اگست کو عید منائیں گے یا پھر 21 کو ؟
اگر ان اخبارات پر ہی عمل کرنا ہے اور وہ قابل قبول ہے تو پھر قانون شریعت کے اس مسئلے کو تبدیل کیوں نہیں کروادیتے یا علامہ شمس الدین احمد جعفری رحمۃ اللہ علیہ سے رابطہ کرکے اب چونکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کے مقدس میشن کو جو لوگ چلا رہے ہیں ان سے ہی رابطہ کرکے قانون شریعت کی نئی ایڈیشن سے اس مسئلے کو حذف کروا دیں یا پھر اتنا اضافہ ہی کروا دیں، چونکہ اب ہمارے پاس کافی وسائل مہیا ہوچکی ہیں لھذا مذکورہ مسئلہ پر عمل کرنا ضروری نہ رہا
اور حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے بھی اپنے خیالات کا اظہار فرمادیں ،
خیر میں اہلسنت وجماعت کے زمہ داران علماء و مشائخ سے اپیل ہے کہ خدا کے واسطے اس طرح کے غیر ضروری اقدامات سے پرہیز فرمائیں اور دین و سنیت کو خسارے میں نہ ڈالیں ،
اللہ ہم سب کو درست مسئلہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ،
کتبہ : بلال برکاتی نیپالی
موبائل : ٩٧٤٣١٤١٨٧٣١+
١٣/٨/٢٠١٨
رویت ہلال کے تعلق سے علماء اہلسنت کا غیر ذمہ داران بیان اور دین و سنیت کا خسارہ
Reviewed by Belal Barkati
on
11:28 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
11:28 AM
Rating:


No comments: