بھارت میں مسلمانوں پر ایسا پریشان کن وقت کیسے آیا؟

بھارت میں مسلمانوں پہ ایسا پریشان کن وقت یوں ہی آگیا؟

تحریر و پیش کش 
نوشاد عالم چشتی علیگ 

تقسیم ہند کے بعد بھارت کے مسلمان اب تک اس حالت میں کیسے پہنچے؟ کیا کبھی اس بات پہ آپ نے غور و فکر کیا؟ آزادی کے بعد ہی سے آر ایس ایس کے مفکرین نے مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لیے سوچنا اور منصوبہ سازی شروع کر دیا تھا. انتہائی خاموشی اور صبر و سکون کے ساتھ پہلے کانگریسی حکومت میں اپنے ایجنڈے پہ گامزن  رہتے ہوئے ماحول کو اپنے حق میں سازگار بنانے کے لیے کام کرتے رہے. یہ ایک طویل مدت پہ مشتمل منصوبہ تھا 
1910  اور اس کے بعد تقسیم ہند تک کی مختلف مسلم فرقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف لکھے گئے تحریروں کو، اور بطور خاص ہندو مسلم اتحاد کے مخالف و موافق تحریروں کو ان ہندو مفکرین نے خوب پڑھا 
نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں یعنی علما کی تحریروں کا ہندی میں ترجمہ کیا گیا. ہندو مہا سبھا، آر ایس ایس اور آریہ سماجیوں اردو دانشوروں نے اس ترجمہ کے ایجنڈے پہ مشترکہ کام کیا. یہ کام دہلی، اجمیر اور امرتسر میں ان کے آفس میں ہوا. ہندو رائٹرس فورم نے اس ترجمہ شدہ مواد کو اپنے پلیٹ فارم سے ہندی اور علاقائی زبانوں میں ہندو عوام کے سامنے پیش کیا. آر ایس ایس والوں نے اس مواد کے خلاصے کو زبانی طور پر اپنے آر ایس ایس کی شاخاؤں میں آنے والے ہندو نوجوان کے دماغ میں ڈالا. 
مسلمانوں کے ہر فرقے کے علما و مشائخ اور دانشوروں کا طبقہ اپنے اپنے دور میں اس سازش کا ادراک نہیں کر سکا . یہ لوگ گائے و بھینس کے گوشت، بریانی اور مغل چیکن چنگیزی میں مست رہے. ایک دوسرے کے خلاف فرقہ وارانہ اسٹیج سجا کر آپسی تفرقہ بازی کا بازار سرگرم رکھا. مناظرہ بازی کے اکھاڑے میں خم ٹھونک کر ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور گستاخ رسول بنانے کا ڈرامہ جاری رہا. مخالفین بھارت سے مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی طویل مدتی سازش میں لگے ہوئے تھے اور اسی دوران مسلمانوں کے علما آپسی تفرقہ بازی کے فروغ کے لئے ملک کے مختلف شہروں میں کانفرنس کے نام پہ مذہبی اسٹیج سجا کر ایک دوسرے کو چیلنج دیتے رہے. بھارتی مسلمانوں کو آج کے اس بدترین حالات میں پہچانے کے لیے سارے فرقے برابر کے حصدار ہیں. وہابی سلفی دیوبندی بریلوی سنی شیعہ تبلیغی جماعتی اور تمام دیگر فرقے، کوئی کسی سے کم نہیں ہے. اور اب بھی ایک دوسرے کے خلاف اس مشغلے کو جاری رکھنے ہوئے ہیں 
سنگھ پریوار کے مفکرین جب تک بھارت میں کانگریس کی حکومت کو جاری رہنا مناسب جانا تب تک اپنے منصوبے کے تحت اس کو جاری رکھا مگر جب ان کو محسوس ہوگیا کہ اب ہمارے ایجنڈے کو خفیہ رکھنے کے بجائے ظاہر کرنے کا وقت آگیا ہے تو انہوں نے بھارتی ہندو عوام کو مسلمانوں کے خلاف بظاہر ورغلانہ شروع کر دیا کبھی رتھ یاترا کے ذریعہ کبھی گاؤکشی کے نام پر کبھی مندر مسجد قضیہ کو ابھار کر اور کبھی ہندو اکثریت میں ہیں ان کے اس جذبے کو  بیدار کرکے . چوں کہ مسلم قوم مذہبی جماعتوں کے تغلبانہ نفسیات کی وجہ سے مطالبہ وقت کا شعور و ادراک نہیں رکھتی ہے اس لیے آج بھارت میں مسلمان تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں. میں فی الحال صرف بھارت کے پس منظر میں بات کر رہا ہوں ورنہ پوری دنیا میں مسلمان اسی لیے مغلوب ہے کہ وہ اصل دین کے روح کو چھوڑ چکا ہے اور مطالبہ وقت کا شعور و ادراک نہیں رکھتا ہے اور انہیں کے متعلق کسی نے کہا کہ 
یہ ناداں گر گئے سجدہ میں جب وقت قیام آیا 
مسلمانوں وقت کے مطالبے اور شعور زمانہ کا ادراک کی صلاحیت پیدا کرو جب تک سیر پہ سوا سیر نہیں بنو گے پوری دنیا میں اپنے سے اعلی صلاحیت والی قوم کے سامنے غلام ہی بن کر رہو گے. اب تم کو سوچنا چاہیے کہ غلام بن کر رہو گے؟ یا دنیا کی قیادت کرو گے؟اگر قیادت کرنا ہے تو اسلام کے اصل روحانی تشخص کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے برتر خود کو دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہوگا. چشتی
بھارت میں مسلمانوں پر ایسا پریشان کن وقت کیسے آیا؟ بھارت میں مسلمانوں پر ایسا پریشان کن وقت کیسے آیا؟ Reviewed by Belal Barkati on 9:46 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.