چاند پر اعتراض کا احادیث سے ثبوت


چاند پر ہمارے چند اعتراضات کے جوابات

1۔ مفتی منیب الرحمن صاحب رات 11 بجے اعلان کرتے ہیں اور ہم تراویح بھی پڑھ چکے ہوتے ہیں۔
جواب:
سنن نسائی شریف حدیث نمبر1558
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ قَوْمًا رَأَوْا الْهِلَالَ،‏‏‏‏ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ،‏‏‏‏ وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ .

کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے  ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔
صحیح حدیث
-----------------------
2۔ ہم تو سعودیہ کے ساتھ روزہ رکھیں گے اور سعودیہ کے ساتھ عید کریں گے
جواب:
سنن نسائی شریف حدیث نمبر 2127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ .
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( ہی ) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، ( اسی طرح ) جب ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔ 

صحیح حدیث
-----------------------
3۔ سعودیہ میں تو چاند نظر آ گیا ہے۔ یہاں کیوں نہیں آیا؟
جواب:
صحیح مسلم حدیث نمبر 2528
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي

کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «‏‏‏‏نَكْتَفِى» ‏‏‏‏ کہا یا «‏‏‏‏تَكْتَفِى» ۔

صحیح حدیث
-----------------------
4۔ مولوی روزہ کھا گئے ہیں۔ آج پہلی کا نہیں بلکہ دوسری کا چاند ہے۔ یا آج دوسری کا نہیں بلکہ تیسری کا چاند ہے۔ دیکھنا اب عید 29 کی ہو گی،
جواب:
صحیح مسلم حدیث نمبر 2529
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالَ فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ»
۔ حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ، تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ،

صحیح حدیث
چاند پر اعتراض کا احادیث سے ثبوت چاند پر اعتراض کا احادیث سے ثبوت Reviewed by Belal Barkati on 10:25 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.