انڈیا میں بڑھتے ہوئے ماب لانچنگ اور اس کا حل

اے میری قوم! کسی کی فتح و کامیابی سے فریب کھا جانا یا شکست و ریخت سے گھبرا جانا مومن کی شان نہیں ہے بلکہ تم تو دنیا کی وہ عظیم ترین قوم ہو جس نے موجوں کا کلیجہ چھلنی کیا تھا، پہاڑوں کی بلندیوں کو اپنے پیروں تلے روندا تھا، لیکن یہ بھی ایک بڑی دلخراش اور روح فرسا حقیقت ہے کہ مرور زمانہ سے اس امت میں افتراق و انتشار کا دروازہ کھل گیا جسے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کا حکم دیا گیا تھا،  قیصر و کسریٰ کے تخت کو زمین بوس کرنے والے آج نان جویں تک کے محتاج نظر آتے ہیں،جو قوم کبھی رشک آسمان تھی اور اس کا ہر نوجوان رشک شمش و قمر تھا وہی آج بے حیثیت و بے وقعت ہو کر رہ گئی کیونکہ ہم کوشش و سعی سے کام لینا نہیں چاہتے،ہر مشکل و مصیبت سے بچنا ہمارا وطیرہ بن گیا ہے مجموعی طور پر ہم سہل پسند قوم بن چکے ہیں آرام طلبی ہماری رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے 

اب جبکہ برہمنی استبداد کی عمارت کھڑی ہو چکی ہے اور مسلمانان ہند پر ہو رہے مظالم دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں اگر ایسے نازک وقت میں بھی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور اپنے حواریوں کی ہڈیوں پر عشرت کدے تعمیر کرنے میں ہی مصروف رہے تو یقین کر لو آنے والی نسلیں نہ صرف یہ کہ ہمیں کوسیں گی بلکہ ہمارے نام کا مرثیہ پڑھیں گی اور ہماری تساہلی اور بزدلی کا ماتم کریں گی اور ذلت و رسوائی دائمی مقدر بن کر رہ جائے گی 

کیا ہماری پریشانیوں کا واحد حل یہی ہے کہ دشمن پر تبراء پڑھ لیں یا اپنی قسمت برگشتہ پر آہ و فغاں کر لیں؟ نہیں بلکہ وقت متقاضی ہے جذبوں اور ولولوں کو زندہ رکھ کر مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے اور منصوبہ بند طریقوں سے کام کرنے کا، زمینی کام کو لازمی بنانا ہوگا، بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوگا، اپنی کوئی پارٹی تشکیل دینا ہوگا جو خالص سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ  ہر ملت و مذہب اور مسلک و مشرب کے لوگوں کو ساتھ لیکر چل سکے مطلب صاف ہے کہ سیاست میں اب ہمیں بھی حصہ دار بننا ہوگا

 موجودہ حکومت کا کھلے بندوں ہمارے خلاف سازشوں اور ستم رانیوں میں مصروف ہونا کسی پر مخفی نہیں اور ان مصائب و آلام سے نجات اسی صورت ممکن ہے جبکہ مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق اور باہمی تعاون و مدد کا مزاج پیدا ہو، اگر ایسا ہوا تو انکے اندر مہتاب کے نور اور نجوم کی درخشانی جیسی یکجہتی رہے گی اور وه ایک لازوال اور بے مثال قوت بن کر اپنے ہر دشمن کا مقابلہ کر سکیں گے ورنہ مسلمانوں کی حالت تاروں کے کفن پہنتی شام،آتی جاتی رتوں کی بدبختی کی لکیروں سے بھی ابتر ہو کر رہ جاےگی

 ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
 خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
 عبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں
 تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟


عبیداللہ خان مصباحی
انڈیا میں بڑھتے ہوئے ماب لانچنگ اور اس کا حل انڈیا میں بڑھتے ہوئے ماب لانچنگ اور اس کا حل Reviewed by Belal Barkati on 8:24 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.