ہم مسلمان کہاں ہیں؟

"ہم  مسلمان کہاں ہیں ؟"
1_جب گوگل،یوٹیوب ،یاہو وغیرہ انٹرنیٹ پر معلومات کا ذخیرہ جمع ہو گیا تھا اور غیر ان سے فائدہ اٹھا رہے تھے تو ہم سیمینار کر رہے تھے کہ ان کا استعمال کرنا کیسا ہے 2_جب ہندو تنظیم آر ایس ایس کے لوگ سادھو اور اپنے مذہبی لوگوں کو سیاست میں اتار کر اپنا قائد مان چکے تھے اور ان کی ہر بات پر لبیک کہتے ہوئے نظر آ رہے تھے اور سیاست میں اپنے مذہبی رہنماؤں کی قیادت و رہنمائی میں کامیابی سے ہمکنار ہو چکے تھے تو ہم مسلمان یہ پتہ لگا رہے تھے کہ علماء و مشائخ کو سیاست میں آنا چاہیے کہ نہیں؟!
3_جب قادیانی بنام احمدیہ ٹی وی چینل  کے ذریعے یورپ،عرب، ایشیا ،افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ ممالک اور بر اعظموں میں نیشنل اور انٹرنیشنل زبانوں میں "فتنہ قادیانیت "کی ترویج و اشاعت میں لگے ہوئے تھے اور تیزی کے ساتھ لوگ ارتداد کے شکار ہو رہے تھے اور دنیا کو یہ باور کرا رہے تھے کہ ہم اسلام کے حقیقی ترجمان ہیں اس وقت ہم یہ بحث کر رہے تھے کہ تصویر جائز ہے یا ناجائز ہے اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کرنا چاہیے کہ نہیں کرنا چاہیے !
4_جب عیسائی اور یہودی دنیا متعدد ممالک میں ورلڈ بینک قائم کرکے پوری دنیا کی معیشت اور کاروبار پر قبضہ کر لی تھی اور اپنے ہم مذہب لوگوں کو زندگی کے ہر شعبے میں ترقی و بلندی اور خوشحالی پر پہنچا دی تھی تو اس وقت ہم یہ ریسرچ کر رہے تھے کہ " بینک "کھولنا کیسا ہے اور اس سے آمدنی سود ہے یا نہیں ہے۔
5_جب خلیجی ممالک میں پٹرول،تیل اور گیس کا انکشاف ہوا تو ہم اس میں لگے ہوئے تھے کہ ان  کو استعمال کے لائق کیسا بنایا جائے  تو اس وقت مغربی ممالک کے لوگ فلٹر کرنے کے لیے مشین ایجاد کرکے مشین نصب کرنے کے لئے معاہدہ کر رہے تھے!
6_جب ہندوستان میں  کچھ مذاہب اور برادری کے لوگ اپنی اپنی پارٹیاں بناکر سیاسی میدان میں اتر چکے تھے اس وقت ہم اپنے قائد کی تلاش میں لگے ہوئے تھے !
7_ جب یورپی ممالک نے یورپی یونین بناکر سرحدی قید و بند کو ختم کر دیا تھا اگر کوئی ایک یورپی ملک میں چلا گیا تو دوسرے یورپی ملک میں بآسانی جا سکتا ہے تو اس وقت خلیجی ممالک میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لیے ویزے کے سخت قوانین مرتب کیے جا رہے تھے! اور "جامعة الدول العربية" بنانے کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے!
8_ جب عیسائی اور یہودی برسوں کی پرانی دشمنی بھلا کر اولڈ ڈیسٹامنٹ اور نیو ڈیسٹامنڈ یعنی توریت و انجیل کو ایک ساتھ شائع کر رہے تھے اور متحد ہو چکے تھے اور اسی طرح برہمن اور دلت برسوں کی پرانی دشمنی بھلا کر ہندتو کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تھے اور یہ سب  الكفر ملة واحدة کا پیغام دے رہے تھے اس وقت پوری دنیا کے مسلمان یہ بحث کر رہے تھے کہ اتحاد و اتفاق کے لیے ایک جگہ جمع ہونا کیسا ہے اور کن کن چیزوں پر اتحاد کرنی چاہیے!
 قارئین کرام!
آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہ ہے ، شام ،لیبیا ،عراق ،یمن اور بورما وغیرہ  ممالک میں مسلمانوں کے حالات دیکھنے کے بعد کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے، اگر پوری دنیا میں کہیں بھی  کسی عیسائی یا یہودی وغیرہ پر  کوئی ظلم و زیادتی کرتا ہے تو پوری عیسائی اور یہودی دنیا اور اقوام متحدہ اور عالمی عدالت اور سربراہان ممالک وغیرہ حرکت میں آ جاتے ہیں،اور فوری طور پر کاروائی ہوتی ہے لیکن اگر مسلم ہے تو کوئی کچھ نہیں بولتا ہے بلکہ مسلم ممالک خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں اور آس پاس کے مسلمان خاموش تماشائی بنے رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں! اگر کوئی یہودی غربت سے  بدحال ہے  ،تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہے تو یہودی تنظیموں فوری طور پر مدد کے لیے سامنے آتی ہیں لیکن مسلمانوں میں کاغذی ویلفیئر اور فلاحی تنظیمیں اور ٹرسٹ کی تعداد بے شمار ہیں لیکن اکثر تنظیمیں زکوۃ ،صدقات،امداد اور خیرات وصولنے کے لیے ہیں !یہودی کے یہودی اگر کوئی یہودی کسی فن میں ماہر ہے تو دوسری یہودیوں کو بھی ماہر بنانے کے لیے انتھک کوشش کرتا ہے لیکن ہمارے یہاں ماہر فن یہ نہیں چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا اس فن میں ماہر ہو! قادیانیوں کا رئیس جب کسی قادیانی کو تعلیم مکمل کرنے میں قاصر دیکھتا ہے تو اس کے لیے فنڈ مختص کرتا ہے تاکہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرے لیکن ہمارے کچھ مشائخ،قائدین نہیں چاہتے ہیں کوئی زیادہ تعلیم حاصل کرے ورنہ وہ ہماری آواز پر لبیک نہیں کہے گا!غیر مسلموں کے یہاں اگر کوئی ذہین ہے یا متحرک و فعال ہے یا انقلابی ذہینت اور سوچ و فکر کا حامل ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس کا حسب استطاعت تعاون کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں اس سے حسد کریں گے ،خوبیوں کے بجائے خامیوں کو تلاش کریں گے اور کسی طرح اس کو ڈاؤن کرنے کی کوشش کریں گے ، آج ہم دینی ،مذہبی ،تعلیمی، ملی ،سیاسی ،فکری ،فلاحی ،رفاہی، تہذیبی ،تمدنی ،اجتماعی،عائلی وغیرہ تمام میدانوں میں پسماندہ ہیں!
اب وقت آگیا ہے کہ  مسلمان دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بجائے آئینہ میں اپنی شکل و صورت ،عادت و اطوار ،کردار و عمل اور اپنے افعال و اعمال کا بغور جائزہ لیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ کہاں ہیں ؟

تحریر: محمد عباس الازہری

ہم مسلمان کہاں ہیں؟ ہم مسلمان کہاں ہیں؟ Reviewed by Belal Barkati on 4:57 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.