پیری مریدی کا ایک ماحول عروج پر

پیری مریدی کا ایک ماحول عروج پر

پیارے اسلامی بھائیوں آج میں آپ کے سامنے کچھ ایسی باتیں بیان کروں گا جن سے آپ کو ضرور تکلیف ہوگی لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھیں گے تو ۱۰۰ فیصدی درست پائیں گے
آج ہمارے معاشرہ میں پیری مریدی کا ایک ماحول عروج پر ہے مرید ہونا اچھی بات ہے لیکن مرید کا جذبات میں آکر حد سے تجاوز کرنا یہ غلط بات ہے ہر مرید چاہتا ہے میرا پیر سب سے بلند ہو میرے پیر کی شان بہت بلند ہو لیکن جہاں تک شریعت اجازت دے وہیں تک اسے محدود رکھا جاے اچانک کوئی بھی بات صادر ہوجاے تو اسے کرامت کا لیبل نہ لگایا جاے بعض اوقات پیر کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مجھ سے کوئی بات صادر ہوئی ہے اور مرید اس کو کرامت سے منسوب کردیتے ہیں اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو اولیاء اللہ کی کرامتیں جو حق ہیں ان پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جاے گا.اس کی تفصیل میں نہ جائیں تو بہتر ہوگا.
اگر علماے کرام کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو اور جبکہ وہ مسئلہ.فرعی ہوں تو حق یہ ہےکہ کسی کو  بھی سب وشتم نہ کیا جاے اور دشمنی اختیار  نہ کی جاے. لیکن آج معاملہ اس کےبر عکس ہے ٹرین کے مسئلہ پر جب مفتی نظام الدین صاحب نے ایک جدید تحقیق پیش کی تو اس کی وجہ سے بہت سے لوگوِں کے حواس باختہ ہوگیے اور ایسی دشمنی پر اتر آئے کہ اشرفیہ کو صلح کلی کا مرکز قراردیا اس کے رد میں کتابیں لکھنے لگے اگرچہ اس کے پیچھے دوسرے اسباب بھی ہوسکتے ہیں لیکن اصل وجہ اختلاف عروج پر آنے کی یہی یے ان کو یہ احساس ہونے لگا کہ ان کی تحقیق کو ماننا خود کی توہین ہے اس لیے اپنی انا کو بچانےکے لیے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا اور نہ ایک ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ میں بات چیت کی بلکہ سنیت کو دو حصوں میں تقسیم کردیا
مفتی جب فتوی دیتا ہے تو پہلے خود اس پر عمل کرتا ہے بلکہ شبہ والی چیزوں سے بھی بچتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا نے مسجد میں مٹی کا تیل جلانے کے متعلق فرمایا یے اور اپنے تقوی کا بھی ثبوت دیا یے
ایک زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ بلا ضرورت فوٹو کا استعمال ناجائز ہے مگر اس مسئلہ کی جب گہرائی میں جاتے ییں تو معلوم ہوتا ہے کہ خود وہ حضرات جو تقوی اور علم کے سردار مانے جاتے ہیں وہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں ہم نے آج تک یہ پڑھا ہے کہ حج فرض کے لیے صرف فوٹو کی اجازت ہے نفل حج یا عمرہ کے لیے فوٹو کی اجازت نہیں ہے تو پھر آج علم وعمل کے شہسوار بار بار حج یا عمرہ کو کیوں جارہے ہیں بار بار دوسرے ملکوں کے دورے کیوں کر ریے ہیں یہ جواز اپنی کونسی کتاب سے نکال رہے ییں کسی حرام کا ارتکاب کرکے نفل کا حصول درست نہیں ہوتا یے شاید اس وقت یہ قاعدہ بنا لیتے ہوں گے کہ فتوی دینا ہمارا کام یے عمل کرنا یہ عوام کا کام ہے. ہم اس سے بے نیاز ہیں.
دوسری بات ٹی وی  اور ویڈیوں کا استعمال حرام ہے لیکن مسائل بھی تو حالات کے اعتبار سے تبدیل ہوتے ہیں جب چاروں طرف ویڈیوں اور ٹی وی کا دور دورہ ہے اور حالات دن بدن  برے ہوتے جارہے ہیں بد مذہب طرح طرح کے چینل کے ذریعہ لوگوں کے ایمان وعقیدہ کو خراب کر ریے ہیں تو لوگوں کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کے لیے اس کا کوئی متبادل پیش کریں گے یایونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہیں گے اور کہتے رہیں گے کہ ٹی وی اور ویڈیو حرام ہے  کم سے کم آڈیو چینل کو ہندوستانی مسلمانوں کے گھروِں میں پہنچا دیں  ساری دنیا کی بات تو بعد کی ہے  ہاں ٹی وی ضرور حرام یے لیکن حالات کو دیکھ کر کیا اسلامی چینل کے جواز کا فتوی نہیں دیا جاسکتا جبکہ خود ان کے گھر اور قرب وجوار کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے نہ گھر اور پڑوس اس ویڈیو کی آفت سے محفوظ ہے میری معلومات کے مطابق امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کے مزار مقدس اور جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا ہے گھر کے افراد کے حالات دیکھیں تو اکثر کے پاس انڈرائڈ موبائیل نظر آتا ہے بلکہ بعض حضرات کے موبائیل میں  تصاویر اور ویڈیو بھی دیکھنے کو ملتی ہیں گھر کے افراد میں اختلاف ہے.گھر والے افراد آپ سے متفق نہیں ہیں  تو کون ہوگا ایک طرف مولانا توقیررضاصاحب توسیاست میں بھی ہیں ان کی تصاویر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں. دوسری طرف حضرت مولانا الحاج منانی میاں کو دیکھیں تووہ بھی آپ سے متفق نہیں بلکہ دعوت اسلامی کی تائید میں اپنا تاثر دیتے ہیں اور عرس رضوی کے موقع پر دعوت اسلامی کو ایک دن کے لیے اپنا ادارہ  جامعہ نوریہ باقر گنج بریلی شریف پروگرام کرنے کےلیے پیش کردیتے ہیں یہ تو گھر کا حال.ہے جب گھر والے متفق نہیں تو دوسرے افراد کی بات کیا کی جاسکتی ہے
اے چشم شعلہ بار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو.
ایک زمانہ تھا کہ.رضوی ہونا پختہ سنی ہونےکی علامت تھا اور آج جب کسی کے سامنے رضوی کا نام آجاے تو متشدد اور کٹر انسان سمجھ میں آتا یے ایسا شخص جو اپنی انا کے لیے کچھ بھی کر سکتا یے.
حضرت کی بارگاہ کے خدام ایسے بد اخلاق ہیں کہ کبھی ملاقات کی غرض سے جانا ہو یا تو دروازہ بند کردیتے ہیں یا اگر آنے کی اجازت دیتے ہیں تو چہرہ دیکھ کر اندر بلاتے ہیں یا بہت جلدی واپس کر دیتے ہیں.اسی طرح کا ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا
میں باھر کھڑا تھا اور اندر حضرت سے ملنے کا ارادہ کر رہا تھا لیکن خادم بار بار منع کردیتا تھا چہرہ دیکھ کر اندر داخل کررہا تھا یا جو لحیم وشحیم ہوتا اسے اندر بلالیتا. اسی درمیان میرےایک قریبی ساتھی جو مرکزی درسگاہ جامعہ الرضا بریلی شریف کے ایک ماہر استاذ ہیں اچانک تشریف لے آئے جب وہ اندر جانے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ وہ مجھے بھی اندر لے چلیں اس طرح ان کے ذریعہ مجھے اندر جانے کی اجازت.ملی
ایک خادم کی بد اخلاقی کا واقعہ بیان کرتا ہوں جس کا میں خود چشم دید گواہ ہوں دعوت اسلامی کے کچھ اسلامی بھائی حضور ازھری میاں صاحب قبلہ سے ملاقات کی خاطر بریلی شریف آئے ان کے سروں پر سبز رنگ کا عمامہ شریف سجا تھا کسی طرح وہ حضرت کے اس کمرے میں پہنچ گیے جس میں حضرت لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں وہ بیٹھے ہوے حضرت کا دیدار کرریے تھے تو اچانک ایک خادم آیا اور فورا ان سے یہ کہنے لگا اتارو ان ہرے عماموں کو نکلو یہاں سے ایک طرف تو حضرت کی بارگاہ میں آتے ہو اور دوسری طرف ٹی وی چلاتے ہو حضرت کو بدنام کرتے ہو اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ ہاتھ بڑھا کر ان کے عمامے اتارنے لگا جب میں اس کی یہ عادتیں دیکھیں تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا اور میں نے اسے کسی طرح عمامے اتارنے سے روک دیا لیکن حاضرین میں سے کسی سے کچھ نہ کہا گویا کہ انھیں سانپ سونکھ گیا ہو آخر کار اس بد اخلاق خادم نےان اسلامی بھائیوں کو کمرے سے باہر نکال دیا.
میرا یہ پیغام ان تمام خدام کے لیے ہے کہ ہر آنے سے اخلاق حسنہ سے پیش آئیں اور اپنا پیٹ پالنا چھوڑ دیں ان جیسے بد اخلاق خدام کی وجہ سے بھی آج حضرت کی ذات مجروح ہو رہی ہے
ان تمام لوگوں سے بھی گزارش یے کہ زیادہ جذبات میں نہ بہیں حق کو حق کہیں اور جو سچ ہو اس کو ہی سچ کہیں بلاوجہ حضرت کی ذات کو بلند کرنے کے لیے کوئی جھوٹی بات منسوب نہ کریں کل تمہیں مرکر خدا کو منھ دگھانا یے جاہ و مرتبہ کے لیے اختلافی تقاریر و کتابوں وغیرہ سے بچیں
حضور مفتی اعظم ہند کی نماز جنازہ پڑھانے کا مسئلہ یہ بھی محل غور یے  مصنف کتاب مولانا شھاب الدین کی طرف سے حضور ازھری میاں کی طرف  یہ منسوب کرنا کہ آپ نے مفتی اعظم کی نماز جنازہ پڑھائی ہے بھول ہے یا مقام ومرتبہ میں اضافے کے لیے اس طرح لکھ دیا یے جبکہ دوسری طرف  جنازہ میں موجود  بہت سارے  لوگوں کے اقوال حضور مختار اشرف کچھوچھوی کے بارے. میں ہیں کہ آپ نے نماز پڑھائی ہے بحر حال جو بھی ہو یہ بھی کہیں نہ کہیں اسی لیے کہا گیا ہے نسبت سے مرتبہ بڑھ جاے مرتبہ تو اس آیت ان اکرمکم.عند اللہ اتقاکم. پر عمل کرنے سے بڑھتا ہے اللہ بہتر جانتا یے کیا حق ہے.
جتنے بھی فتنہ پھیلانے والے لوگ ہیں یہ لوگ آج حضرت سے کہتے ہیں کہ آج اس موضوع پر بیان ہوجاے فلاں موضوع پر بیان ہوجاے جیسی ہوا دیکھتے ہیں ویسے ہی چل دیتے ہیں آج ان بد خوا ہ لوگوں کی وجہ سے اتنا نقصان ہوا کہ بریلی شریف جو سب کا مرکز تھا سب سے کٹتا جارہا ہے بالکل اکیلا ہوگیا ہے آج اس کا اختلاف دعوت اسلامی سنی دعوت اسلامی سے ہے الجامعہ الاشرفیہ سے ہے خانقاہ برکاتیہ سے ہے خانقاہ حشمتیہ سے ہے خانقاہ حشمتیہ تو خود حد سے تجاوز کر گئی ہے سید سراواں احسان اللہ صفوی سے ہے خانقاہ کچھوچھہ سے ہے خانقاہ بدایوں سے ہے باقی اس کے  علاوہ وہ خانقاہیں بچتی ہیں جو یا تو گمنام ہیں یا ہاں میں ہاں.ملانے والی ہیں ...
یہ اختلاف جھگڑے اور مار پیٹ کی حد تک پہنچ گیا ہے ناگ پور میں مفتی غلام محمد صاحب تھے کچھ سال پہلے ان کا وصال ہوگیا حضور ازھری میاں سے کسی شخص کے متعلق کفر اور عدم کفر میں ان کا اختلاف تھا اور مفتی غلام محمد پر ان کے فتوی کی وجہ سے کفر عائد ہوتا تھا انھوں نے علانیہ توبہ نہیں کی تھی کہ اسی درمیان ان کا انتقال ہوگیا اب اس فتوی کی وجہ.سے سنی دو گروپ میں تقسیم ہوگیے اب ہر سال کچھ لوگ ان کا عرس مناتے ییں تو کچھ لوگ منع کرتے ہیں کہ آپ عرس نہ  منائیں کہ انھوں نے اپنے کفر سے توبہ نہیں کی تھی اس سال اختلاف اس قدر بڑھا کہ جب جلسہ شروع ہوا تو دوسرے فریق کے لوگ آگیے اور مار پیٹ شروع ہوگئی اور کئی عالموں کو جیل بھی جانا پڑا.
 اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ اختلاف اب کب تک چلے گا .
حضرت کے بیانات میں اتنی تضاد بیانی پائی جاتی ہے کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ دعوت اسلامی تبلیغی جماعت کی شاخ ہے کبھی سنی جماعت بتاتے ہیں کبھی کہتے ہیں مسلک اعلی کی مبلغ نہیں یے ان تضاد بیانی کی وجہ سے ان کے خود کے مریدین حیرت میں ییں کہ کس بیان کو آخری مانا جاے آئے دن ایک.نیا اپڈیٹ ہوتا رہتا ہے
اس اختلاف کی ایک ضرب مجھے بھی لگی ہوا
یوں کہ میں نے رمضان میں تراویح کے لیے گوا میں بات کی تھی میری رکاڈنگ بھی لے کر سنی اور پورا کام مکمل ہوگیا اور صدر مسجد نے ہاں بھی کردی اچانک انہوں نے پوچھ لیا کہ وہ ابھی کیا کرتے ہیں تو میرے ساتھی نے بتایا کہ وہ دعوت اسلامی کے جامعہ المدینہ میں پڑھاتے ہیں بس اتنا سننا تھا کہ صدر نے کہا کہ ہم دعوت اسلامی کے کسی بھی شخص کو تراویح پڑھانے نہیں دیں گے جبکہ میرے ساتھی نے کہا کہ وہ بھی حضور ازھری میاں کے مرید ہیں لیکن وہ نہ مانے اس واقعہ سے یہ سونچیں کہ  اسی وجہ سے غصہ میں آکر میں لکھ رہا ہوں.
یہ تو ایک مثال.ہے ورنہ آئے دن کتنے واقعات پیش آتے ہوں گے.
میری ان خیر خواہ اور حضرت سے قرب رکھنے  والے مریدوں سے گزارش ہے کہ حضرت سے کسی اختلافی مسئلہ پر بیان نہ کروائیں نہ کسی تحریک کا رد کرائیں قوم کو ایک اچھی بات کا پیغام پہچائیں ورنہ حالات اتنے ابتر ہوچکے ہیں کہ اب رضویوں کی تعداد کم ہوتی جارہیی ہے میرا اکثر وقت باہر گزرتا ہے اس لیے مجھے اس کا تجربہ ہے قریبی لوگ حضرت کی ذات مجروح بھی کر سکتے ہیں اور بلند بھی کرسکتے ییں
آج میں یہ سب اس لیے لکھ رہا ہوں کہ میں خود بریلی شریف سے تعلق رکھتا ہوں جب میں اس طرح کی باتیں سنتا ہوں تو میرے دل کو ایک تکلیف پہنچتی ہے کہ میرے مرکز کا کیا حال ہو رہا یے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی روح مبارک ہم سے سوال.کر ریی ہے کہ اے لوگوں میں نے کتنی محنت سے چمن اسلام کی آبیاری کی تھی اور تم اسے اجاڑ رہے ہو
میرےپیارے بھائیوں آج حضرت کی ذات ہمارے درمیان موجود ہے آج اختلافی مسائل کا باب بند نہ  ہوا تو حضرت کے بعد حضرت کی ذات بھی مجروح ہوگی اور یہ سلسلہ کبھی بند نہ ہوسکے گا لہذا آج بھی وقت ہے کہ حضرت کے ذریعہ اپنی تمام سنی جماعتوں سے گلہ شکوہ دور کرلیں اور چمن اسلام.میں بہار لے آئیں اور اس شعر سے درس لیں.
متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
لکھنا تو بہت کچھ تھا لیکن یہ کہ کر اپنے موضوع کو ختم کررہا ہوں دوبوند ہی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں
اگر میرے لکھنے میں کچھ شرعی غلطی ہوگئی ہو تو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں استغفر اللہ ربی من کل ذنب.

محمد گل ریز مصباحی بریلی شریف یوپی. ۸.۳.۲۰۱۷ 

پیری مریدی کا ایک ماحول عروج پر پیری مریدی کا ایک ماحول عروج پر Reviewed by Belal Barkati on 2:38 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.