اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کی بارگاہ
میں خراج عقیدت
الحمدلله رب العالمين خالق السموات والارضين
والصلاة و السلام على من كان نبياووآدم بين الماءوالطین اجمل الاجملین اكمل الاكملين افضل الانبياءوالمرسلين وخاتم النبين الى يوم الدين سيدناومولانامحمدن المصطفی والمجتبی والمرتضى صاحب الكوثرورحمةاللعلمين وعلى آله واصحابه واهل بيته واولياءامته وعلماءملته اجمعين امابعد
فاعوذبالله من الشيطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم قال الله تعالى جل و علافى القرآن المجيد والفرقان الحميد انمايخشى الله من عباده العلماءصدق الله مولى الكريم وبلغنارسوله المبين
تمام حمد وشکرہےاس خالق كل كا جسنےاپنےقدرت كامله سےاس بزم عالم کوسجایااورتمام مخلوق پربنی آدم کوفائق کیاتمام عبادات بدنی ومالی قیام رکوع وسجودوتسبيحات ہےاسی خالق کیلےجسنےہمکواشرف المخلوقات میی پیداکیااوراپنادین دین کامل اسلام سےسرفرازکیااوراپنےکرم سےدل تاریک کومنورومجلی کیااپنےسجدےکی توفیق دی اوراپنےسب سےپیارےنبی جوباعث تخلیق ارض وسماعرش وکرسی بنےجوزینت لامکاں بنےجوتخت نشین عرش بنےجومسندشفاعت کےدولھابنےجنکی نوری کرن سے تمام ابحارواشجارشمس وقمرٹمٹماتی ستارے کورونق ملی جنکادامن کرم میرےہاتھ میں دیاان گنت صلاۃ وسلام ہواسی سیدالبشروخیرالبشرداورشفیع محشرپہ جوراتوں کوہم پاپی وبد کاروں کیلےتاحیات ظاہری نہ بسترےپہ چین سےسوسکےنہ شکم سیری سےلقۂ ترکھایاجوکبھی سجدےمیں پوری رات گزارتے ہیں توکبھی قیام ورکوع میں رب کےحضورگزارتےہیں جوکبھی طائف کی وادی میں بچوں سے پتھر کھا کربھی دعاءدلنوازسےنوازتےہیں جوکبھی کفاران مکہ کی ظلم وبربریت وسفاقیت وحیوانت کے باجوددعاءکرتےہیں اے میرے معبود یہ مجھے پہچانتے نہیں انکو ہدایت دیکران کوجنت کا حقدار بنا وہی نبئ محتشم وہی خیرالامم جوجام کوثرلیےحوض کوثر پر غلاموں کوپلارہےہونگےجوکبھی میزان وپلصراط پہ رب ھبلی امتی رب ھبلی امتی کہکراپنےکریم رب سےہم سیہ کارکیلےپروانۂ جنت سنارہےہونگےاےمیرےرب رحمت نازل کر انکی ذات پر بارش کےقطرےسےزیادہ ریت کے ذرات سے زیادہ اشجارکےپتےسےزیادہ جتنےتیرےمخلوقات ہیں ان سے زیادہ اوربروزجزاوسزاانکےدامن میں جگہ عطا فرمااورانکےتصدق سےانکےعاشق صادق کاتذکرہ جوہم کرنےجارہےہیں اسکوپایہ تکمیل تک پہونچااغثنی یارسول ہاشمی المددیانبی المختارصلی اللہ علیہ وسلم
کلک رضاہےخنجرخونخواربرق بار
اعداءسےکہدوخیرمناےنہ شرکریں
وادی رضاکی کوہ ہمالہ رضاکاہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
ڈالدی قلب میں عظمت مصطفی
سیدی اعلی حضرت پہ لاکھوں سلام
دس شوال المکرم کوعیدجیسی سماہےدنیابھرمیں ایک ہی نعرہ ہےیوم رضایوم رضادنیاکےمختلف بولی بولنے والے رضا رضا کے مدھور شیرین اوردلفریف لنگویز میں بس ایک ہی نغمہ سنجی کررہاہے ایک ہی نام کامالاجپ رہاہے میں عالم حیرانگی میں ان بولی بولنےوالےسےپوچھاارےبھائ یہ رضارضاکیاہےکس لیےیہ نام تیرےزبان پہ جاری ہے جواب ملتاہےمیاں یہ نام ہم ویسےہی نہیں لےرہےہیں بلکہ اس نام سےہماری پہچان ہے اسی نام سےہماری جان ہے اسی نام پہ ہماری عقیدت کےجبین خم ہےاسی نام پہ دل شیداہےمیراتجسس مزیدبڑھتاگیامحوحیرت میں غوطہ زن رہاکہ یہی نام ایک ہندستانی لےتوبات سمجھنے میں دشواری نہیں یہی نام ایک پاکستانی لے بندہ حیرت زدہ نہ ہو کیونکہ یہ نام پاک وہندایشیاوالےکیلےسمجھناکچھ دشوار نہیں مگرجب یہی نام ایک امریکن لےیہی نام ایک افریکن لےیہی نام ایک جرمن لےیہی نام ایک فرانسی لےیہی نام ایک کورین لےیہی نام ایک ترکی لےیہی نام ایک عربی لے غرضکہ مشارق ومغارب کےہرخطےمیں بسنےوالےجب یہی نام لےتوتعجب میں پڑناکوی بعیدنہیں انسان سوچ وبچارکےگہرےسمندرمیں محوہوجاتاہےکہ آخراس نام میں ایساکونساجادوہے کونسی کشش ہیکہ ہربولی بولنےوالابس یہی گنگناتانظرآرہاہےرضارضارضارضامیرےرضاپیارےرضااچھےرضامیٹھےرضادل کےنگینےرضاقرارقلب ونظررضادل کی دھڑکن رضامیری شان رضامیری جان رضامیری پہچان رضاہرکوی یہی کہےمیرارضامیرارضااب میرےسوال کاجواب مل گیامیری جوحیرت تھی ازخودختم ہوگئ کیونکہ میرےسوال کاجواب اسی دواشعارمیں موجود ہے
ڈالدی قلب میں عظمت مصطفی
سیدی اعلی حضرت پہ لاکھوں سلام
وادی رضاکی کوہ ہمالہ رضاکاہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضاکاہے
جب دونوں اشعارکی گہرای میں جھانکردیکھاتومیرےسارےسوالات کےجواب مل چکےتھےکہ میرے آقاے نعمت دریاےکرامت بحر غواص معرفت پیکرر شد و ہدایت حامی سنت ماحئ بدعت وضلالت قاطع کفروگمرہیت ونجدیت وسلفیت وقادیانیت ونچیریت ومودودیت عالم ربانی امام الفقہاء امام المحدثین امام المفسرین امام المترجمین امام المنطق امام النحوامام الصرف امام البلاغت امام الفصاحت امام المصنفین امام المدبرین امام المفکرین امام العاشقین نائب بوحنیفہ ومالکی وشافعی وحنبلی مظھرغزالی پرتوےامام رازی وبخاری و بوصری ہم شبیہ غوث صمدانی قطب ربانی مریدشیخ عبد القادر جیلانی الشیخ الاسلام والسلمین مجدداعظم نائب رسول محتشم العالم الحافظ القاری المفتی المجدد الامام الشاہ امام احمد رضا خان البرکاتی النوری البریلوی رحمۃ اللہ الولی نےکچھ ایساجام عشق رسالت پلایا ہیکہ پینےوالےنےکچھ ایساپیا جام رضاکےپینےوالاکوی پیکرصدرالشریعہ بدرالطریقہ بنتےہیں کوی صدرالافاضل بنتےہیں کوی شیربیشہ اہلسنت بنتےہیں کوی ملک العلماءبنتےہیں کوی مفتی اعظم بنتےہیں کوی حجۃ الاسلام بنتےہیں کوی محدث اعظم بنتےہیں کوی مفسراعظم بنتےہیں اورجب یہی جام رضاعرب وعجم دنیاےچہارکونہ میں پہونچتاہے اورایک عام مسلمان پیتاہےتوسچاپکاشیدای رسول بنکروفادارصحابہ واہلبیت بنکرغلامان اولیاءبنکرٹناٹن سنی بنتاہے پھرکیسے نہ کہےمیرارضامیرارضامیرارضاہےیہی وجہ ہیکہ شاعر کہتاہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضاکاہے
میرےامام کی کن کن اوصاف جمیلہ پہ گفتگوکیجاےجس فن میں دیکھوامام ہی نہیں امام اعظم نظرآتے ہیں میرےامام نےکس فن پہ قلم نہیں چلایاہرفن آپکےتبحرعلمی سےمستفیض ہواہمارےدل میں عشق رسول کی تپش بڑھانےکیلےحدایق بخشش کاانعام دیااللہ کےمقدس کلام سمجھنےکیلےکنزالایمان دیاشریعت وطریقت کی پہچان کیلےفتاوی رضویہ شریف دیا بدین اوربدمذہب سےبچنےکیلےالدولۃ المکیہ حسام الحرمین اورتمہیدایمان کاتحفہ دیاوہ کیاہےجومیرےرضانےنہیں دیاپھرہم کس لیے نہیں کہیں
میرارضامیرارضامیرارضا
اچھےرضاپیارےرضامیٹھےرضا
تونےباطل کومٹایااےامام احمدرضا
دین کاڈنکابجایااےامام احمدرضا
بلاشبہ میرےاعلی حضرت کی ذات ایک عظیم عبقری شخصیت ہیں ایسی ہستی ہیں کہ سوسال سےزائدہوچکےپیداہوےمگرآج بھی دنیاکےہرخطےمیں عشاقان رضاجشن یوم ولادت رضامناتےہیں اوران شاءاللہ مناتےرہیں گےکیو نکہ جوجام عشق رسول پیکرمست ہوے بھلاوہ مستانے اپنےاس محسن کوکیسےبھول سکتاہےجسنےیہ جام پلاکرمدہوش عشق رسول کیامیرےاعلی حضرت جامع الکلام بھی ہیں اورانکاکلام امام الکلام بھی ہیں انکی زندگی میں شریعت وطریقت بھی ہےتورشدوہدایت بھی ہے وہ حامئ سنت بھی ہیں توماحئ بدعت بھی ہیں وہ بیک وقت قائد بھی ہیں توبیک وقت مصلح بھی ہیں احقاق حق وابطال باطل میں آنے والی ہررکاوٹ بنبےوالی درودیوارکومسماربھی کرتےہیں تومیدان حق وصداقت کےعلمبرداربھی ہیں قتیل راہ عشق رسول بھی ہیں توکشورحکمت کےشہنشاہ بھی ہیں جب لکھنےپہ آتےہیں تووقت کےکہنہ مشق محررکی ٹوپی میرےامام کےتحریرکےسامنےگرتی نظرآتی ہے جب بولنےپہ آتےہیں تووقت کے فصحاوبلغاکی زبان میرےامام کےسامنےگنگ نظرآتی ہے جب شاعری کرتےہیں توداغ دہلی میرخسروجیسےشعراءکےکلام بھی داددیئے بنانہی رہ سکتے ہیں جب شاہان زمانہ کی اصلاح کرتےہیں توکچھ یوں لب کوواکرتےہیں اورقلم کوجنبش دیتے ہیں
کروں مدح اہل دول رضاپڑےاس بلامیں میری بلا
میں گداہوں اپنےکریم کامیرادین پارۂ ناں نہیں
جب دشمن رسول اورگستاخ رسول کی گوشمالی کرنےپہ آتےہیں توبناکسی لوم لائم کےپکاراٹھتےہیں
دشمن احمدپہ شدت کیجے
ملحدوں کی کیامروت کیجے
غیض میں جل جاےبےدینوکےدل
یارسول اللہ کی کثرت کیجے
میرےامام کواللہ جل شانہ نےبہت سارےخوبی کاشاہکاربنایاہرخوبی ہروصف پرخامہ رسای کیجاےتوقلم کی توانائ جواب دےدےلکھنےوالاجوانی سےبوڑھاہوجاےمگرمیرےامام کےایک بھی وصف کاکماحقہ حق ادا نہیں ہوسکتابندہ کم علم نےاپنی کم علمی کےباجودصرف روح رضاکوخراج عقیدت پیش کرنےکیلےچندسطرلکھکراپنابھی نام ان قلمکارکےقدموں میں جگہ بنانے کی کوشش کی ہےجوامسال اپنےامام کی شان میی ہدیہ تبریک بموقعہ جشن یوم ولادت اعلی حضرت منارہےہیں میری تحریرسےکوی خاص شان تو بیان نہ ہوسکےمگربازاریوسف میں دھاگےکاایک سوت بھی بدام نہیں رہتاہم جیسےکج فہم کم علم رفعت رضاکوکیسےمکمل احاطۂ قرطاس کرسکتاہےبس جزبۂ عشق رضانے رہنمای کی اورعشق رضامیں چندسطورلکھ گیئے بس آرزویہی ہےمیرےامام اپنےولادت کی خوشی میں اپنےبارگاہ پروقارمیں قبول فرمالیں تویہی مجھ جیسے نکمےکیلےکافی ہے
ہرقارئین کرام سےدست بستہ عرض ہے بہت محنت ومشقت اورلگن سےناچیزنےیہ چندسطورقلمبندکیاہےاسکوصرف پڑھکراپنےتک نہ رکھیں بلکہ دیگردوست کوشئرکریں اورہوسکےتواپنی دعاؤں سےنوازدیں توعین نوازش ہوگی اوراگرکوی خامی نظرآتے توگروپ میں ملامت اورطنزکرنےکےپرسنل پہ میری اصلاح فرمائیں مجھےمشکورپایئں گےان شاءاللہ القدیرالعزیز
کفش بردارعلماءاہلسنت ۔۔محمدشھاب الدین حنفی عفی عنہ سمردہی ٹولہ پوشٹ جلیشورجنکپورنیپال
فون نمبر00966571187672
14٫6٫2019
بروزجمعۃ المبارکہ
اعلی حضرت کی بارگاہ میں خراج عقیدت ، منجانب : شہاب الدین حنفی سمردہی نیپال
Reviewed by Belal Barkati
on
4:56 PM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
4:56 PM
Rating:


No comments: