ہندوستان میں بڑھتا ہوا مابلنچنگ اور مسلمانوں کا احتجاج
اخلاق سے لیکر تبریز تک سیکڑوں نوجوان کو بھگوا دھاری بھیڑ نے ابتک موت کے گھاٹ اتار چکا ہے ، اور مزید اس میں تیزی ہی نظر آرہی ہے اور ہم احتجاج پہ احتجاج کئیے جارہے ہیں جس کا نہ تو بھگوا دھاری گنڈوں پر اس کا کچھ اثر نظر آتا ہے اور نہ ہی حکومت پر ، بلکہ تبریز انصاری کے قتل کے بعد تقریباً ہندوستان کے ہر بڑے چھوٹے شہروں میں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے کئیے ریلیاں نکالیں ، پر مابلنچنگ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ، مسلمان حیران و پریشان ہیں کہ آخر اس کا حل کس طرح نکالا جائے کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے ، اب تو یہ مابلنچنگ ، عام عوام سے نکل کر خواص تک پہنچ چکا ہے اب مسجدوں کے اماموں کو ان کے حجرے سے نکال کر مارا جارہا ہے مدرسہ کے طلبہ کو پکڑ کر مارا جارہا ہے ، یعنی بھگوا دھاری گنڈے اپنے کام میں مصروف عمل ہیں ، ان کی تحریک ہندوستان بھر میں متحرک ہے ، پر اب تک مسلمانوں نے اس پر کوئی لائحہ عمل بھی تیار نہیں کیا ہے ،
آج کفار و مشرکین ایک نہتھے مسلمان کو پکڑتا ہے پھر اسے مارتا ہے اور اس سے جے شری رام ، و جے ہنو مان کے نعرے لگواتا ہے ، نعرہ لگوانے کے بعد بھی اسے مار دیا جاتا ہے ، اب یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ جے شری رام اور جے ہنومان کا نعرہ لگاکر انسان مسلمان ہی رہا یا اسلام سے خارج ہوگیا ؟
اگر مسلمان ہی رہا اگرچہ کسی بھی تاویل و دلائل کی روشنی میں ہو تب تو خیر ہے ، اگر ان نعروں کی بنیاد پر اسلام سے خارج ہوگیا تو پھر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ایمان بھی نہ بچا اور جان بھی نہ بچی ،
اتنا کچھ دیکھنے سننے کے باوجود بھی امن امن کا درس دینے والا یا تو بزدل ہے یا پھر بیغیرت ہے ، اب امن کا درس دینے کا وقت نہیں رہا بلکہ ہتھیار اٹھاکر جہاد کا وقت آچکا ہے ،
اگر مسلمانوں کو موت سے اتنا ہی ڈر ہے اور جان پیاری ہے تو پھر اسلام سے کنارہ کش ہو جائے جان بچ جائے گی ورنہ جب کسی بھگوا دھاری بھیڑ کے ہتھے چڑھا تو جان تو جائے گی ہی ساتھ میں جے سری رام و جے ہنومان سے ایمان بھی چلا جائے گا ، پھر آپ اس شعر کے مصداق ٹھہریں گے کہ ،
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
ہندوستان جہاں تقریبا چالیس کروڑ مسلمان آباد ہیں وہاں افسوس کا مقام یہ ہیکہ کوئی رہنما نہیں ہے کوئی لیڈرنگ کرنے والا نہیں ہے ، اگر مسلمان ہتھیار اٹھا بھی لیتا ہے انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگاکر میدان عمل میں کود بھی جاتا ہے تو پھر اس کے آگے بھی تو کوئی لیڈر ہونی چاہیے جو اس انقلابی احتجاج میں مارا بھی جائے تو اس کا غم نہیں ہوگا ،
ہمارے علماء سے مسلمانوں کو سیاست سے اس قدر نفرت دلا چکے ہیں کہ لوگ اسے کفر سمجھنے لگے ہیں سیاست سے دوری کا نتیجہ ہے یہ جس ہندوستان پر آٹھ سو سال مسلمانوں نے حکمرانی کی آج اسی سرزمین پر مسمانوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے ، ایک بار تو لاکھوں قربانی دیکر پاکستان بنا پھر بنگلادیش بنا ، پر پاکستان اور بنگلادیش دونوں ملکوں کے حالات اس وقت یہود و نصاری کے ملکوں سے بھی بدتر ہے ان ملکوں میں مسلمان تو رہتے ہیں لیکن اسلام دن بدن مٹتا جارہا ہے بلکہ پاکستان کی موجودہ حکومت ہی قادیانی کی ہے جو وہاں کے عوام کو کرپشن کی آڑ میں اسلام کو ختم کرتا جارہا ہے اور عوام اس بات پر خوش ہیں کہ نواز شریف شہباز شریف ، زرداری وغیرہ جیل میں ہیں ، جبکہ ان لوگوں کا جیل میں ہونا اور جیل سے باہر ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے ، یہ لوگ جیل میں رہے یا باہر رہے عوام جو اس سے نہ تو روٹی ملے گی نہ کپڑا مکان ملے گا ، یہ بس من کو تسلی دینا ہے کہ فلاں جیل میں ہے فلاں جیل میں ہے وغیرہ وغیرہ ، خیر ،،
ہندی مسلمانوں جب تم کو مرنا ہی ہے تو فردا فردا جے سری رام جے ہنومان بول کر حالت کفر میں کیوں مرو متحد ہوکر میدان عمل میں آؤ جہاد کرو مرنے سے پہلے کچھ کافروں کو مارو تاکہ کہ قتل کے بعد تمہیں شہادت کا درجہ ملے ،
ہمارے پیران عظام ، خانقاہ کے سجادگان کو عرس چاہئے میلا چاہئے ہمارے شعراء مقررین کو جلسہ چاہئے تاکہ اس کے ذریعے پیسہ کمائے دولت جمع کرے ، عوام اگرچہ مابلنچنگ کق شکار ہو جائے انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا ،
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے پیارے حبیب کے صدقے عالم اسلام کے مسلمانوں کے جان ومال و ایمان کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم،
✍🏻: بلال برکاتی نیپالی
8/7/2019
ہندوستان میں بڑھتا ہوا مابلنچنگ اور مسلمانوں کا احتجاج
Reviewed by Belal Barkati
on
9:15 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
9:15 AM
Rating:


No comments: