شب قدر کی فضیلت و اہمیت

تحفۂ شبِ قدر
 شب قدر کی فضیلت و اہمیت اور اس کے نوافل            
      رمضان المبارک کے بابرکت شب و روز میں ایک  بافیض رات لیلۃالقدر ہے جس میں ربِ ذوالمنن اپنے  بندوں کو مخاطب فرماکر ارشاد فرماتا ہے کہ بندو ہم سے  مانگو عطا ہوگی - اسی شبِ قدر کی بخششوں سے متعلق حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اس رات ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا رحمتِ خدا وندی سے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں - نیز حضرتِ انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور تاجدارِ رسالت مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا لیلۃ القدر میں حضرتِ جبریلِ امین فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور ہر اس مردِ مومن پر رحمت برساتے اور اسکی بخشش کی دعائیں کرتے ہیں جو کھڑے یا بیٹھکر اللہ تعالٰی کی تسبیح وتقدیس بیان کرتے رہتے ہیں اور ام المؤمنین حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ امام الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء نے فرمایا جس کسی نے شبِ قدر بیدار ہوکر گزاری اور دو رکعت نماز ادا کی پھر بخشش کاطلبگارہوا تو اللہ رب العزت اسے بخش دیا اسے اپنی رحمت میں جگہ دیتاہے اور جبریلِ امین علیہ السلام اسکےسرپر اپنے پر پھیرے اور جبریل جس کے سرپر پر پھیریں وہ جنت میں داخل ہوا -اس رات کے اوراد و وظائف بکثرت دیوانہاے صوفیاء میں مسطور ہیں جن میں سے چند یہاں موردِ تحریر میں لائے جارہے ہیں صاحبِ ذوقِ رضائے الٰہی ان میں سے ہرایک یا حسبِ توفیق بعض پر عمل پیرا ہو کر اپنا نصیبِ خفتہ بیدار کر سکتے ہیں اس لئے کہ آقائے کائنات علیہ افضل الصلوات واکرم التسلیمات کا ارشادِ گرامی ہے جو اس رات کی برکتوں سے محروم رہا وہ محروم ہی ہے -حضرتِ شیرِ خدا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں جس کسی نے شبِ قدر میں سات بار سورۂ قدر کی تلاوت کی اللہ جل جلالہ اس کو ہر بلا سے محفوظ و مامون فرمادیتا ہے اس شخص کی جنت کے لئے ستر ہزار ملائکہ دعا کرتے ہیں - سبحان اللہ کیا شان ہے لیلۃ القدر کی اور کیا عنایات ہیں میرے ربِ کریم کے - ساتھ ہی اس رات کی مسنون دعا یہ ہے اللھم انک عفو تحبُ العفوَ فاعف عنی -علاوہ ازیں زیادہ سے زیادہ وردِ درود شریف اور استغفار کی کثرت - کتبِ معتبرہ میں نوافل کے تعلق سے بہت تفصیل کے ساتھ بیانات آئے ہیں جنھیں یہاں سمیٹنا کارِ دشوار ہے لھٰذا کچھ نوافل اورانکے ادا کرنے کے طریقے تحریر کئے جاتے ہیں -(1)ستائیسویں شب کو بارہ رکعت نماز تین سلام کے ساتھ اس طرح ادا کرے کہ ہررکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد ایک بار سورۂ قدر اور پندرہ پندرہ بار سورۂ اخلاص پڑھے -اسطرح بارہ رکعت نفل پڑھنے والے کو انبیائے کرام کی عبادت کا ثواب ملیگا -(2) یہ بھی منقول ہے کہ اس رات دو رکعت نفل اس طریقہ سے پڑھے سورۂ فاتحہ کے بعد تین تین بار سورۂ قدر اور ستائیس ستائیس بار سورۂ اخلاص - بعدِ نماز مغفرت کی دعا کرے ان شاء اللہ اسکے پچھلے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے -(3) چاررکعت نماز دو سلام کے ساتھ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ تکاثر ایک بار اور سورۂ اخلاص تین تین بار- اس نفل کے پڑھنے والے پر موت کی سختی آسان ہو جائے گی (4) ستائیسویں شب کے لئے یہ بھی ایک جامع نفل ہے کہ دو رکعت نماز  یوں اداکرے کہ ہر دو رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص سات سات بار تلاوت کرے -سلام کے بعد درجِ ذیل تسبیح ستر بار پڑھے اس کا پڑھنے والا مصلیٰ سے اٹھنے بھی نہیں پائے گا کہ اس کے اوراسکے ماں باپ کے گناہوں کو اللہ غفور رحیم معاف فرمادےگا -تسبیح یہ ہے استغفرُ اللہَ العظیمَ الذی لا الٰہَ الا ھو الحیُ القیومُ واتوبُ الیہ (5) اس رات کیلئے یہ بھی بہت مجرب ہے کہ چار رکعت نمازِنفل اسطرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر تین تین بار اور سورۂ اخلاص پچاس پچاس بار ورد کرے  پھر سلام کے بعد سجدے میں سر رکھکر ستّر مرتبہ ان کلمات کا ورد کرے اسکے جو بھی دینی یا دنیاوی حاجت ہوگی ان شاء اللہ العزیز پوری ہوگی -وہ کلمات حسب ذیل ہیں : سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر -
شب قدر کی فضیلت و اہمیت شب قدر کی فضیلت و اہمیت Reviewed by Belal Barkati on 9:23 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.