مختصر تبصرہ
قاضی القضات فی الھند علامہ عسجد رضا خان صاحب قبلہ فرما رہے ہیں کہ ابھی ملک کے حالات اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں کہ ہم ملی اتحاد کریں ،
لیکن اگر تاریخ اٹھاکر دیکھا جائے تو ایک مظلومہ کی فریاد پر حجاج بن یوسف نے نے پورا ہند و سندھ فتح کرکے ہی دم لیا تھا ،
یہاں تو ابتک سیکڑوں مسلمان مرد و عورت بوڑھے بچے مابلنچنک کے شکار ہوکر موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں ،
چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ ہم ملی اتحاد نہیں کریں گے لیکن کیا ہم اہلسنت والجماعت کے درمیان جو دوریاں ، منافرت ، ہے اسے بھی متحد نہیں کر سکتے ؟
کیا ہم اہلسنت وجماعت مسلک اعلی حضرت کے پیر و کار دیار ہند میں بدعقیدوں سے کم ہیں ؟ جواب آئے گا کہ نہیں بالکل نہیں بلکہ ہم ان سے کئی گنا زیادہ اور ہماری اکثریت ہے تو پھر ملی اتحاد چھوڑیں اور اہلسنت کے درمیان جو اختلاف ہے اسی کو پس پشت ڈال کر متحد ہو جائیں ،
میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ہمیں کسی بھی مکتبۂ فکر سے اتحاد کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی گی ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل کے گنڈوں کے لئے نوجوانان اہلسنت ہی کافی ہوں
ہے الحمدللہ ،
بلال برکاتی نیپالی
اضی القضات فی الھند علامہ عسجد رضا خان بریلوی صاحب کے بیان پر مختصر تبصرہ
Reviewed by Belal Barkati
on
2:00 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
2:00 AM
Rating:


No comments: