اتحادوقت کی ضرورت
حامداومصلیا
جس نازک دور سے امت مسلمہ گزررہی ہے اور جن مصائب وآلام کاسامناہے کیسے کیسےبھیانک چیلنج درپیش ہےوہ اہل دانش وخرد پرمخفی نہیں ہے روزانہ کی بنیادپر مسلمانوں کےخلاف پوری دنیامیں جوسازشیں رچی اوررچائ جارہی ہےخصوصاہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جسقدر مسلمانوں کےخلاف ہندوتنظیمیں زہراگل کرمسلمانوں کوخوف زدہ کررہےہیں وہ بھی عیاں ہے ایسے نازک دورمیں ایسے پرفتن دورمیں جہاں مسلم مردومسلم خواتین کےساتھ زودکوب کاآۓدن کوئ نہ کوئ واقعہ خواب غفلت میں سوےہوےمسلمانوں کوجگانےکیلے کافی ہے جب صرف اسلام کےنام تبریزانصاری جنیداوران جیسےجوان کومارڈالنا لمحۂ فکریہ ہے یہودونصاری کفارومشرکین جب بھی کسی کلمہ گوکومارتےہیں تواس وقت اسکےذہن وگمان میں بھی نہیں ہوتاہے یہ وہابی ہےیہ سنی ہےیہ شیعہ ہےیہ دیوبندی ہےوغیرہ وغیرہ بس اسکےفکرمیں یہ بات ہےیہ مسلمان ہیں کلمہ گوہے ایسےنازک دورمیں عقائدنظریات کیلےایک دوسرےکےخلاف فتوی بازی کرکےاپنےمال کواپنی قوت کوخرچ کرناعقلمندی کےخلاف معلوم ہوتاہے ساتھ ہی اہلسنت کےلوگ جوبریلوی مکتب فکرکہلاتےہیں انکافروعی مسائل میں الجھےرہنااوربعض علماءخطباءفروعی مسائل کوبنیادبناکرایک دوسرےکے خلاف اشتہاربازی کرنالوگوں کواکسانایقیناجماعت اہلسنت کوکمزورکرناہے دورحاضرمیں وہابیہ دیابنہ سےکم اپنوں سے زیادہ سنیت کانقصان ہورہاہے ایک عالم دین کےزبان سےکوئ غلط جملہ نکل جاے یابھول سےہی سہی ہوناتویہی چاہیۓ براہ راست انسےملکرافہام وتفہیم کریں مگرایسانہ کرکےمنبرومحراب پرزہراگلنا پھراسکوسوشل میڈیا پہ وائرل کرناپھراس کوبنیادبناکرقومی اتحادکوپارہ پارہ کرنا کونساخدمت اسلام ہے صرف اپنےہی پیریااستادکی تعریف میں رطب اللسان رہتےہوےدوسرےکےپیراساتذہ کوبرابھلاکہناغیرمعاری جملےبکناکیایہ سب ازروےشرع درست ہوگاجبکہ اختلاف صرف نظریات کاہےعقائدمیں سارےاہلسنت چاروں امام ایک ہیں مجتہدین کرام میں تونمازروزےجیسےمسلےپرشدیداختلاف دیکھنےکوملتےہیں مگرکیاکسی نےدیکھاہےکہ ایک امام دوسرےامام پرکفرومرتدگمراہ کافتوی صادرکیاہو مگریہ کیساوقت کاالمیہ ہے فروعی مسائل کوبنیادبناکرایک دوسرےکی تضلیل وتفسیق کاماحول پیداکرکےجسقدرامت مرحوم کوآگ بگولہ کرکےمنافرت پھیلارہےہیں جسکی وجہ مسلمان کی اجتماعیت کا شیرازہ روزبروزبکھرتاجارہاہے اورمسلمان دن بدن کمزورسےکمزورترہوتےجارہےہیں اوراسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتےہوےکفاراسلام کےنام پربھیڑبکری کی طرح ہمکوکاٹ رہےہیں کبھی علماءکونشانہ بناتے ہیں کبھی عام مسلمانوں کوایسےناگفتہ بہ حالات میں اتحادکی کیسی شدیدضرورت ہے وہ اہل خرد سےمخفی نہیں سوشل میڈیاپہ چندتحریروائرل ہوی جس میں تمام مکاتب فکرکےلوگوں نےاپنےاپنےمسلک پہ قائم رہتےہوےکلمےکےنام پرمتحدہونےکااعلان کیایہ بہت خوش آئند بات ہے اسی طریقےسےخانقاہوں کےپیران طریقت جواثرورسوخ رکھتےہیں انکوچاہیۓ کہ ان بےلگام مقررین کےمنہ میں تالاڈالےجوفروعی مسائل کولیکراہلسنت کےتنظیمات پہ حملہ کرتےہیں کبھی انکےمبلغین کوبرابھلاکہتےہیں ابھی چنددن قبل کسی منہ پھٹ مولوی نےدعوت اسلامی کےرکن شوری حاجی عمران عطاری سلمہ الباری کی ایک تقریرکوبنیادبناکرجواول فول بکاہے اللہ کی پناہ ایک تحریرمیری نظرسےبھی گزری جوکسی جاہل مطلق کی معلوم ہوئ تھی جب امت میں خوف ہراس کاماحول پیداہےلوگ سہمےسہمےہیں ایسےنازک موڑپربجاےامت مسلم کی قیادت کی بات کرنےکےامت کوفروعی باتوں میں الجھادیناجس بات میں کوی دم بھی نہیں کیایہ مسلک اہلسنت کوتارتارکرنانہیں ہے ایسالگتاہےجب تک قوم مسلم مٹ نہ جاےان بےلگام مقررین محررین کوسکون نہیں ملےگامگریادرکھیں قوم مسلم اب بیدارہوچکی ہےڈھکوسلےبازی کوسمجھ رہےہیں آپ اپنےحلقےارادت میں چیخ چلاکراپنی بات توکہ لیتےہیں مگرکبھی ایسانہ ہوکسی درددل رکھنےوالےسنی کےہتھوں آپ چڑھ جائیں اورممبرپرہی کوٹائ شروع ہوجاےتین چارسال قبل ضلع بہرائچ شریف یوپی کےایک نواحی علاقے میں ایساہی واقعہ پیش آیا ایک مقررصاحب نام حکمتاچھپایاجارہاہےممبررسول کوہی اکھاڑہ سمجھکرخوب شوردارپرخارتقریرفرمارہےتھےاچانک ایک درددل رکھنےوالےعالم صاحب اٹھےاورگریبان پکڑکردےطماچہ دےگھونساپھرپبلک بھی جوسن سنکربورہوچکےتھےنہ آؤدیکھانہ تاؤ دےلات دےگھساکسی طرح جان بچاکربیچارےگنےکےکھیت میں رات بھرمحوخرام رہےنہ جانےکس حالت میں گھرتک پہونچے اسلیےمقررشعراءمحررین کوچاہیےکہ عوام کےجوبات سےنہ کھیلیں بلکہ منافرت کےبجاےملک کےموجودہ صورت حال سےعوام کواگاہ کرےاوراتحادکی طرف دعوت دےمسلمان بھائ بھائ ہےروایت کامفہوم کبھی کبھاربعض صحابہ کرام میں بھی کسی مسلےپرایسی بحث ہوجاتی کہ دیکھنےوالےکہتےکہ لگتااب یہ دونوں کبھی ایک دوسرےسےملاقات نہیں کریں گےبول چال بندرکھیں گےمگرجیسےہی مجلس بحث برخاست ہوتی پھرملتےتوایسالگتاکہ ان دونوں میں کچھ بھی نہیں ہواہے کیایہ کردارصحابہ ہمارےلیےنمونہ عمل نہیں ہے جسقدرانرجی ہم فضولیات سوچ وفکر میں خرچ کرتےہیں اےکاش کہ امت کےدردسننے میں کرےآج امت مسلمہ قائدین ملت کی تلاش میں ہیں مگر قائدین ملت کوفروعی مسائل پہ مناظرہ مباحثہ مجادلہ سےفرصت نہیں ہے اسلیےاس وقت اتحاد ملت ومسلک کی اشدضرورت ہے قوم میں تعلیمی معاشی فکری مہم پیداکرنےکی ضرورت ہے دینی ملی مذہبی تعلیمات سے روشناس کرانےکی ضرورت ہے اپنےجلسوں جلوسوں اعراسوں کوایسےمقررین سےپاک کرنےکی ضرورت ہےجوصرف انتشارامت فروعی مسائل پہ تقریرکرکےلوگوں کےجزبات سےکھیلتےہیں جوخطباءشعراء قوم میں اتحادتعلیم اورحالات حاظرہ پرخطاب کرےایسوں کودعوت دی جاے ایسوں کوسناجاےیہی لوگ مخلص ہیں ایسےکوہماراسلام ہے ہماری تحریرکاخلاصہ کلام یہی ہےجومنافرت پیداکرےیاکرواےایسوں کابائکاٹ ممبرسےلیکرسماج تک ہوجومحبت امن وشانتی کادرس دےجومحبت کارس گھولیں جنکی بات سنکرقوم راہ سنت ومسجد بنےایسےجلیل القدرعلماءصلحامبلغین کوفوکس کیاجاے ورنہ یادرکھیں فرمان حضورحافظ ملت اتحادزندگی ہےاوراختلاف موت اوراختلاف کرنےوالاکرانےوالادونوں شریعت کوناپسندہے کیونکہ وہ مسلمان مسلمان میں لڑواتاہے جنگ کرواتاہے ایسابندہ رب کوپسندنہیں فرمان الہی ہے ان الله لایحب المفسدین بیشک اللہ فسادبرپاکرنےکوپسندنہیں کرتافسادصرف یہی نہیں کہ کسی کی زمین پر قبضہ کرلیاجاےکسی کےدوکان گھربارجلاکرراکھ کردیاجاےبلکہ ہروہ بات فسادکےزمرےمیں داخل ہےجس سےمسلمان کوتکلیف پہونچے اورتکلیف صرف مارنےسےہی نہیں بلکہ بات چیت حرکات و سکنات سےبھی ہوتےہیں مثلاایک مسلمان پیرسےکجی ہےلنگڑاپن ہےاب اسکےسامنےایک تندرست انسان انکوچھڑھانےکیلےاسکی نقل اتارےیہ اذیت باالحرکات میں داخل ہے اسی طرح ایک مومن دوسرےمومن کی غیبت کرےیہ اذیت بالقول پہ دال ہےتین لوگ کھڑے ہیں یابیٹھےہیں ان میں سےایک کوچھوڑکردوآپس میں سرگوشی کرےیہ اذیت سکنات ہیں مسلمان کی حرمت کعبہ سےبڑھکرہےمسلمان کی عزت نفس سےکھیلنااذیت دیناحرام حرام اوراشدحرام ہے اللہ تعالیٰ ہمسبکواحترام مسلم اوراتحادمسلم کاجزبہ عطافرماےنظریات کےاختلاف کےباجودآپس میں سیروشکرہوکررہاجاسکتاہےاس تعلق سےہمارےسلف وصالحین کاکردارہی کافی ہے پھرآخرمیں حضورحافظ ملت کےقول کوبرکتاعرض کردیتاہوں
اتحادزندگی ہےاوراختلاف موت
کتبہ ۔۔۔شہاب الدین حنفی سمردہی جلیشورمہوتری نیپال مقیم حال الدولۃ السعودیہ
28.7.2019
عصر حاضر میں دیار ہند کے مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے ظلم و ستم سے نمٹنے کے لئے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے
Reviewed by Belal Barkati
on
10:06 PM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
10:06 PM
Rating:


No comments: