مرے مصطفے کی سخاوت برابر برستی ہے ان کی عنایت برابر بلال حزیں پہ نبی کا کرم ہے ہماری بھی ہوگی سماعت برابر
بزم طرز سخن کے طرحی نشست میں کہا گیا ادنی کاوش احباب کے نظر
_____________________
مرے مصطفے کی سخاوت برابر
برستی ہے ان کی عـــنایت برابر
رخ مصطفے پہ میں قربان جاؤں
مجھے مل رہی ہے عنایت برابر
جو گستاخ شاہ دوعالم ہیں واللہ
انہیں مــــــل رہی ہے ذلالت برابر
قیامت میں واللہ فریاد ان کو
کئے جـــارہی ہے یہ امت برابر
زمین و زماں اور مکین و مکاں میں
آقـــــــــــا کی ہوتی ہے مدحت برابر
اگر دل میں رکھتے ہو الفت نبی سے
دعــــــــــــا ہے رہو تم سلامت برابر
ہے چشتی کلر میرے خواجہ پیا کا
چـــــڑھائے رہو ان کی رنگت برابر
چھپا لیجئے اپنے چادر میں آقا
قیامت میں ہے اب تمازت برابر
لبوں پر درودوں کی ڈالی سجاکر
طلب کررہا ہوں میں جنت برابر
بلا لیجئے اب مــــــدینے میں آقا
رلاتی ہے مجھ کو یہ فرقت برابر
خـــــدایا عطا ہو مجھے اتنی توفیق
کروں مصطفے کی میں مدحت برابر
نسیم سحر چھو کے گنبد چلی ہے
گلــوں کی بڑھے گی نزاکت برابر
یہاں فیصلے حق پہ ہوتے ہیں ہر پل
عمر کی ہے بیشک عدالت برابر
بلال حزیں پہ نبی کا کرم ہے
ہماری بھی ہوگی سماعت برابر
______________________
طالب دعا: محمد بلال برکاتی نیپالی
مرے مصطفے کی سخاوت برابر برستی ہے ان کی عنایت برابر بلال حزیں پہ نبی کا کرم ہے ہماری بھی ہوگی سماعت برابر
Reviewed by Belal Barkati
on
8:26 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
8:26 AM
Rating:


زبردست کلام
ReplyDelete