ہمارے ملک نیپال میں قومی زبان کی اہمیت آخر کیوں نہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حامداً و مصلیاً

ہمارے ملک نیپال میں قومی زبان کی اہمیت آخر کیوں نہیں

ہم جس ملک میں رہتے ہیں یعنی ملک نیپال جہاں کی قومی اور ملکی زبان (Longuage) نیپالی ہے لیکن اس کی اہمیت ہمارے ہی ملک میں کتنی ہے یہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ، کیونکہ آج ایک انسان اچھا خاصہ نیپالی زبان لکھنا پڑھنا بولنا سب جانتا ہے اس کے پاس سرکاری شرٹی فیکٹس بھی موجود ہے اس کے باوجود ہمیں ملک نیپال میں کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے ، اور یہ معاملہ صرف ہمارے ملک نیپال میں ہی نہیں ہے بلکہ بر صغیر کے تقریبا ہر ملک میں ہے یعنی انڈیا ، پاکستان ، بنغلادیش، سریلنکا ، بھوٹان وغیرہ ہر جگہ یہی حال ہے ، لیکن آپ اگر بر صغیر سے نکل کر عرب ممالک کا جائزہ لیں تو یہاں کا حال بالکل مختلف ہے ہمارے نیپال ہندوستان پاکستان وغیرہ کے مقابلے میں تعلیم ایجوکیشن ملک قطر وغیرہ میں 30٪ فیصد بھی نہیں ہے وہاں جن کو تھوڑا بہت عربی پڑھنا لکھنا معلوم ہوگیا اس کے لئے سرکاری و غیر سرکاری کمپنیوں میں خاص وہاں کے باشندوں کے لئے روزگار تلاشنا کوئی مشکل کام نہیں ہے بالکل آسانی کے ساتھ اچھی خاصی تنخواہ والی جاب مل جاتی ہے ، بلکہ قطر وغیرہ ملک کے سرکاری دفاتر وغیرہ میں تو صرف سیلکٹ ہوجا ہی کافی ہے باقی کام کی تعلیم و ٹریننگ خود دفاتر میں دیے جاتے ہیں ، لیکن وہیں ہمارے ملک نیپال میں اور پڑوسی ملک انڈیا وغیرہ میں کافی تعلیم ایکسپرینس ہونے کے باوجود جاب کا ملنا نہایت ہی مشکل جب کہ بندہ کے پاس قومی زبان کے علاوہ انکلش وغیرہ کی بھی اچھی خاصی ڈگری ہوتی ہے ، 
خاص کر ہم بات کریں اپنے ملک نیپال کی تو یہاں کی زبان کے لحاظ سے ہونی تو یہ چاہئے تھی کہ یہاں دفاتر وغیرہ میں نیپالی زبان میں کام ہو اور جو لوگ اس زبان میں مہارت رکھتے ہیں انہیں بآسانی کام مل جائے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے دفاتر وغیرہ میں بھی سارا کام غیر ملکی زبان انگلش میں ہی ہوتی ہے اور اسی کو ترجیح بھی دی جاتی ہے ، 

اور ہمارے یہاں جو حضرات دینی مدرسوں سے تعلیم حاصل کئے ہوں ان کے لئے تو امامت و تدریس کے علاوہ پورے ملک میں کوئی کام ہی نہیں ہے لیکن جب وہی دینی مدرسہ کے پڑھے ہوئے حضرات عرب دیسوں کا سفر کرتے ہیں تو الحمدللہ عربی جاننے والوں کے لئے بآسانی اچھی خاصی تنخواہ والی جاب مل ہی جاتی ہے اگرچہ بمشکل ہی کیوں نہ ہو ، 
میں دینی ادارہ سے تعلیم یافتہ ہوں اور اس وقت عرب کے ملک قطر میں ذریعۂ معاش کے لئے مقیم ہوں یہاں اگرچہ عربی جاننے والوں کو بمشکل اچھی جاب مل جاتی ہے but یہاں تعلیم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے یہاں اکثر دیکھا گیا ہے بلکہ مشاہدے کی بات بتاؤں تو جنہیں پڑھنا لکھنا معلوم نہیں وہ کمپیوٹر چلاتے ہیں اور جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ چائے بناتے ہیں جھاڑو پوچھا لگاتے ہیں بلکہ اگر حقیقت بات کی جائے تو ملک قطر میں جو خارجی عرب ممالک کے مقیم ہیں ان میں سے چند کو میں نے دیکھا کہ تعلیم کے معاملے میں زیرو 0 ہیں انہیں نہ تو ا ب ت ث آتا ہے اور نہ ہی A b c d  لیکن وہ کمپنی میں انجنیئر کے پوسٹ پہ کام کررہا ہے کیسے کررہا ہے واللہ اعلم کیونکہ ان کی زبان عربی ہے اور یہاں عربی زبان بول لینا ہی بہت بڑی شرٹیفیکیٹ ہے ، خیر ، کیونکہ ان عرب ممالک میں یہ قومی زبان کی اہمیت ہے ورنہ ایسے لوگ برصغیر میں بھوکے مر جائیں گے،

اور ہمارے ملک میں بندہ SLC کیا ہوا ہے بلکہ +1 - +2 کیا ہوا بندہ روزگار کی تلاش میں در در بھٹک رہا ہے لیکن اسے نوکری نہیں مل رہی ہے،

میں اب اپنے ملک کے موجودہ دور کی بات کرنے لگا ہوں کہ الحمدللہ ہمارا ملک نیپال میں صدیوں  بعد جمہوریت ( Democracy) آئی ہے اب یہاں ہر قوم و قبیلے کو اس کا حق ادھیکار دیا گیا ہے لیکن چونکہ اس وقت ملک نیپال دیگر ممالک سے کافی پیچھے ہے پاپولیشن کے اعتبار سے اگر ہمارے دیس کو ایماندار اور دیانت دار لیڈر مل جائے تو یہ دیس اتنا ترقی کرےگا کہ ہمیں غیروں کے ملک میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے، یہ تو ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جو الحمدللہ کسی کا غلام نہیں بنا لیکن یہاں کے لوگ دیار غیر میں جاکر دوسروں کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں ،

ہمارے ملک نیپال کو اللہ  نے ہر چیز سے نوازا ہے اگر محنت اور لگن سے ترقیاتی کام کیا جائے اور معیشت کو ٹھیک کیا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ باہر سے لوگ ہمارے ملک میں روزگار کے لئے آئیں گے ، ہم امید رکھتے ہیں گورمنٹ آف نیپال سے کہ وہ ایمانداری اور دیانتداری سے کام کریں گے اور ملک نیپال کو عروج پر پہونچائیں گے ،
ہمارا اندازہ جہاں تک کہتا ہے کہ اگر ملک نیپال میں حکومت ہر پانچ سال میں بھی کم از کم 30لاکھ نوکریاں دے تو ان شاءاللہ تعالیٰ آنے والے ایک دہائی میں ملک نیپال کا کوئی بھی فرد دوسروں کے ملک میں جاکر ان کی غلامی نہیں کریں گے بلکہ اپنے ملک میں رہ کر روزی روٹی کمائیں گے اور اچھی گزر بسر ہوگی ،
اللہ ہمارے ملک نیپال کو عروج عطا فرمائے آمین ثم آمین

کتبہ : محمد بلال برکاتی نیپالی
21/8/2019
ہمارے ملک نیپال میں قومی زبان کی اہمیت آخر کیوں نہیں؟ ہمارے ملک نیپال میں قومی زبان کی اہمیت آخر کیوں نہیں؟ Reviewed by Belal Barkati on 4:41 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.