فروغ اسلام میں خواتین کا کردار ، از قلم علامہ شہاب الدین حنفی عطاری عفی عنہ

العنوان۔ ۔۔۔فروغ اسلام میں خواتین کا کردار

لک الحمدیا الله والصلاۃ والسلام علی رسول الله صلی الله علیه واله واصحابه اجمعین 

قارئین ذی محتشم یہ بات تو اظہر من الشمس ہیکہ دینی یا دنیاوی میدان میں جہاں مردوں کا بڑا اہم رول رہا ہے, وہ جنگوں میں شامل ہوکر فروغ دین کیلے اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں, وہی پہ اگر تاریخ کتب کا مطالعہ کیا جاے تو خواتین بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہی ہیں, بظاہر انکو جنگ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں تھی مگر انکی یہ قربانیاں کیا کم ہیکہ وہ اپنے باپ کو کبھی شوہر کو کبھی بچے کو میدان جہاد میں فروغ اسلام کیلے دل پہ ہزاروں من کا پتھر رکھ کر بھیجتی رہی کیا یہ انکی قربانیاں کم ہے کہ کبھی سایہ پیدری سے محروم ہوئ تو کبھی اپنے سرسے اپنے سرتاج کی شفقت کو لٹوادیا اور بیوہ ہوکر اسلام کی خدمت کی تو کبھی اپنے نازوں کے پالوں دل کے سرور لخت جگر کو قربان کرکے فروغ اسلام میں حصہ لیا فروغ اسلام میں خواتین کا اتنا بڑا کردار ہے کہ جسکی حقیقت سے کسی اہل خرد کو انکار نہیں ہوسکتا بعض صحابیات اور اولیات اور صالحات کے حالات زندگی کو اگر بنظر عمیق مطالعہ کیا جاے تو مردوں سے بھی زیادہ انکی دینی خدمات نظر آتی ہے اور کبھی سماجی خدمات نظر آتی ہے اب آئیے دوررسالت میں صحابیات کی کچھ دینی خدمات پہ روشنی ڈالتے ہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو تاریخ گواہ ہے اپنے بھی غیر ہوے اور جوتکالیف اذیت اپکو اس راہ میں پہونچی اس تعلق سے خود فرماتے ہیں اسلام کی راہ میں جسقدر میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئ نہیں ستایا گیا مگر کیا آپ جانتے ہیں جب پورے دن تبلیغ وحدت ورسالت کے بدلے میں طعن و تشنیع اور کفار مکہ ظلم کرتے اور جب تھک کر گھر تشریف لاتے تو آپکی تسلی اپکو صبر اور ہمت دینے والی شخصیت کون ہیں جی وہ خاتون ہے ایسی خاتون جو سارے مسلمانوں کی ماں ہیں ام المومنین سیدہ طاہرہ عابدہ زاہدہ راکعہ ساجدہ میری پیاری امی جان حضرت خدیجۃ الکبری ہے جو آپکو صبرو ہمت دیتی اور کہتی اےمیرے ہمسفر اے میرے سرتاج کفار جو اپکو اذیت دے رہےہیں اسپر آپکا رب اپکو صبر دےگا یقینا یہ سب کے سب آپکے قدموں میں گریں گے آپ راہ اسلام میں آنے والے مصائب پہ صبر فرمائیں ہم آپکے ساتھ ہیں یہی وجہ ہیکہ جب کئ کئ دن تک آپ صلی الله علیه وسلم غار حراء میں عبادت الہی میں مصروف رہتے تو پیاری امی جان سیدہ خدیجہ کھانا بنا بناکر اپکو پہونچاتی تھی کفار اپکو طعنہ دیتے اے خدیجہ کیا تمکو مکہ میں کوئ اور مرد نہیں ملا جو تمنے محمد جیسے مجنون پاگل اور دیوانہ کو اپنا شوہر بنالیا نعوذبااللہ من ذلک اسپر سیدہ صبر فرماتی یہی وجہ ہیکہ نبئ دوعالم تاحیات جبتک سیدہ ام المومنین خدیجہ حیات رہی آپ نے اپنی زوجیت میں کسی اور خاتون کو نہیں لیا آپکے وصال پہ اپ بےحد غمگین رہتے اور آپکی تعریف کرتے دیگر امہات المومنین کہتی یارسول اللہ اسقدر آپ خدیجہ کی تعریف کیونکر کرتے ہیں فرماتے ہیں خدیجہ نے میرا اس وقت ساتھ دیا جب کفار مجھے جھٹلارہےتھے اور مجھے اذیت پہونچاتے تھے اور پھر دیگر ازواج مطہرات حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری پہ رشک کرنے لگتی یہ سارے واقعات کو اگر ایمانداری کی نگاہ سے دیکھیں تو بلاشبہ یہ فروغ اسلام میں بہت بڑا کردار سیدہ خدیجۃ الکبری کاہے بعدہ بانئ اسلام نے متعدد اوقات میں متعدد خواتین کوشرف زوجیت سے سرفراز فرمایا اور بیک وقت حریم ناز میں کئ کئ ازواج مطہرات جلوہ فگن رہی اور حضور کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہوتی رہی اور ان سب مقدس خواتین کو یہ اعزاز ملا کہ وہ مسلمانوں کی مائیں کہلائ ان مقدس خواتین میں ہر عمر کے خواتین شامل تھیں جن میں سب سے چھوٹی سیدہ طاہرہ عابدہ زاہدہ مفتیہ مجتہدہ محبوبہ محبوب خدا حضرت عائشہ بنت صدیق اکبر تھی جنکی شادی کی عمر مختلف روایات سے چھ سال نو سال بارہ سال مرقوم ہے بعض مورخ لکھتے ہیں بوقت نکاح چھ سال اور رخصتی نوسال بعض بارہ سال رخصتی کا قول کیاہے یہ متفق روایت ہیکہ بوقت وصال نبوی آپکی عمر سترہ سال کی تھی آپ نے بھی درباررسالت سے بہت حصہ اجہتاد اور علم فقہ کا پایا یہی وجہ ہیکہ صحابہ کرام مسائل شرعیہ جاننے کیلے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے آپ سے بہت ساری احادیث مروی ہے آپ کو یہ اعزاز حاصل ہیکہ آپ حضور صلی اللہ وسلم کی خدمت میں اسوقت حاضر تھی جسوقت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس دارفانی سے ظاہری پردہ فرمایا اور سرنبوت اپکے گود میں تھا ۔۔۔۔ایک اعتراض اور اسکا جواب بعض کفار ناہنجار اور یہود ونصاری آج بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت زوجیت پہ بہت گندے اعتراض کرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں کہ نعوذباللہ زبان پہ لانا بھی یاصفحۂ قرطاس کرنا بھی گوار نہیں ہوتا معاذاللہ کفار کہتے ہیں اسکے آگے کے اعتراض کو اہل فہم سمجھ جائیں ہمت نہیں ہوتی ہیکہ اعتراض نقل کیا جاے بس جواب سے سمجھیں کہ کثرت ازواج میں کیا راز مضمر ہے جسکو یہ کفار ابتک نہیں سمجھ سکے کثرت زوجیت کی نفیس حکمت  ہیکہ پیغمبر اسلام راز دار خدا تھے آپ شریعت کے بانی ہیں اور آپ پر ضروری تھا کہ آپ امت تک پیغام توحید کے ساتھ زندگی کے ہر مسائل کو پہونچائیں اور آپ نے پہونچایا بھی یہ بات ہر اہل فہم پہ واضح ہیکہ خواتین مسائل شرعیہ پوچھنے میں آج بھی بہت حیاء کرتی ہیں پھر اس دور میں کتنی حیا کرتی رہی ہونگی جو حیاء کا دور تھا جب اسلام کا چراغ افق عالم پہ جگمگارہاتھااور اسکی شعائیں اکناف عالم میں تیزی سے پھیل رہاتھا ظاہر سی بات ہے مرد صحابہ براہ راست اپنی زندگی اور اسکے متعلقہ مسائل بانئ اسلام سے پوچھتے تھے مگر خواتین صحابیات شرم و حیاء کی بنیاد پہ اپنے متعلقہ  مسائل نہیں پوچھ پاتی تھی تو وہ اپنے مسائل کو ازواج مطہرات سے پوچھتی تھی اور ازواج مطہرات حضور سے پوچھ کر صحابیات کو بتلاتی تھی چونکہ دوررسالت میں مختلف قبائل مختلف ممالک میں اسلام پھیل رہاتھا جنکو دین سیکھانے کیلے ضرورت تھی کہ مرد کو مرد سیکھاے اور عورت کو عورت سیکھاے یہی وجہ ہیکہ بانئ اسلام نے مختلف قبائل کے خواتین مختلف عمر کے خاتون سے نکاح فرمایا تاکہ ہر عمر کے خواتین ہر عمرکے ازواج سے مسائل پوچھ سکے آپ نے دیکھا ہوگا بڑی عمر کی خاتون کم عمر کی خاتون سے مسلہ پوچھنے میں شرماتی ہے ایک کم عمر کی لڑکی کم عمر کی لڑکی سے کھلکر مسلہ پوچھ لیتی ہیں اسی طریقے سے اپنے اپنے ہم عمر کے لوگ باآسانی مسائل کوپوچھ لیتے ہیں یہی وجہ ہیکہ دربار رسالت میں مختلف وقتوں میں مختلف ازواج نے شرف زوجیت پائ اور اسطرح فروغ اسلام میں امہات المومنین کا اہم کردار رہا ہے یہ حکمت کثرت زوجیت جس کے فہم سے آج بھی کفار عاجز وقاصر ہیں  مضمون کی طوالت کافی ہورہی ہے بہت کوشش کررہاہوں کہ اپنے اصل عنوان کی طرف عود کروں مگر یہ عنوان اسقدر وسیع ہیکہ کن گوشوں کو رقم کروں کس کو چھوڑدیاجاے فروغ اسلام میں خواتین کا بہت اہم کردار رہاہے یہ عنوان کافی طویل ہے جسپر ہزاروں صفحات کم پڑجائیں بس ایک واقعہ ذکر کرکے اصل عنوان پہ آتے ہیں صحابیات کا جہاں اہم کردار ہے وہی صالحات مومنات کی بھی بہت لمبی خدمات ہے دین محمدی کیلے فروغ اسلام اور خدمت دین کا جزبہ ہرادوار میں اسلام کی مقدس خاتون میں پائ گئ ہے حضرت سیدہ زبیدہ جو ہارون رشید کی نیک بخت زوجہ تھی اہل اللہ تھی اولیات میں شمار ہوتی ہیں اپکا فروغ اسلام میں ایک بہت نماں خدمت یہ بھی ہے جب آپ حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ زادشرفہ وتعظیمہ پہونچی تو دیھکتی ہیں مکہ میں پانی کی بڑی قلت ہے جس کی وجہ سے حجاج کرام کو بڑی دقت درپیش ہے آپ جب بغداد لوٹی تو آپ نے ہارون رشید سے مشورہ کرکے ہزاروں مزدورکو معاوضہ دیکر بغداد سے لیکر مکہ مکرمہ تک ایک طویل نالہ بنوایا جسکے ذریعہ سے حجاج کرام کیلے پانی فراہم ہو اس نالہ کے کھودنے والے ہزاروں مزدور نے بڑی محنت اور مشقت سے تیار کیا اور اسطرح فروغ اسلام اور خدمت دین میں آپکا اتنابڑا کردار آج بھی تاریخ میں ذریں حروف سے لکھا ہواہے اور آج بھی آپکی سیرت میں یہ نایاب واقعہ اسلامی بہنوں کیلے درس ہے جودین سے دور ہیں ان اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ وہ صالحات اولیات کے تواریخ کا مطالعہ کرے مگر آج بھی خواتین دین سے غافل ہوں یہ ضروری نہیں آج بھی ہماری ماؤں بہنوں میں خدمت دین کا جزبہ پایا جاتاہے یہی تو وجہ ہیکہ اج مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی کلیات میں کوئ عالمہ بن رہی ہے کوئ قاریہ بن رہی ہے کوئ مفتیہ بن رہی ہے اور یہ سب فیضان امہات المومنین وفیضان صالحات اور اولیات ہے آپ غور کریں کوئ بھی تحریک تنظیم یاشخصیت نہیں ہے جنکے عروج وارتقاء میں کسی خواتین کا اہم کردار نہ رہاہو اگر آج کوئ وزیر اعظم ہے یاپروفیسر ہے ڈاکٹر ہے یادینی اعتبار سے دیکھیں عالم ہیں فاضل ہیں مفتی ہیں قاری ہیں قاضی ہیں محدث ہیں مفکر ہیں ان سب کے عروج اور بلندی میں اہم کردار انکے گھر کے خاتون کاہے چاہے وہ کسی رول میں ہو ماں ہزاروں قربانی دیتی ہیں بیوی لاکھوں جدائ سہتی ہیں بہن کڑوروں پیار بھائ کیلے قربان کرتی ہیں تو دنیا میں کوئ وزیر اعظم بنتاہے تو کومنسٹر بنتاہے تو کوئ ڈاکٹر بنتاہے علی ہذالقیاس ۔۔۔۔۔

قارئین کرام مضمون کافی طویل ہوچکا ہوسکتاہے آپ پڑھ پڑھکر تھک چکے ہونگے اسلیے اب اخیر میں جس بات کو بیان کرنے کیلے اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پیش آئی اسکی طرف چلتے ہیں اگر راقم چاہتا تو دولفظوں میں بیان کردیتا مگر نیت یہ بھی تھی کہ جو بیان کرنا ہے اس سے پہلے صالحات اولیات کے ذکر کے اپنےدل کو پرنور کرلوں تاکہ انکے فیضان سے مجھے بھی کچھ حصہ مل جاے آپ نے کچھ دن  قبل راقم السطور کے ایک مضمون کو ضرور پڑھا ہوگا جسکا عنوان تھا ۔۔۔۔نیپال مسلم فلاح تنظیم کیاہے؟ اس تنظیم کے تعلق سے کچھ اہم گوشوں پر روشنی ڈالی گئ تھی اور مقاصد کو بیان کیا گیا تھا مگر کچھ باتیں رہ گئ تھی تاکہ قارئین پڑھنے میں ثقالت محسوس نہ کریں ساتھ ہی اسکے ممبران کے نام بھی رہ گیۓ تھے مگر اب سوچاکہ آپ تک ممبران کے نام کو پہونچاؤں جن میں آٹھ مرد ہیں تو ان صف میں ہماری تین اسلامی بہنیں بھی ہیں جو فروغ اسلام وخدمت دین وخدمت ملک وملت میں شانہ بشانہ چل رہی ہے جنکے حوصلے صالحات اولیات کے برکات سے بہت بلند ہیں مگر انکا نام بطور حکمت ہم شامل نہیں کریں گے کیونکہ اسکی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں ایک شرعی وجہ یہ بھی ہیکہ حیاء کا تقاضہ ہیکہ بلاضرورت خواتین کا نام مردوں کے گروپ میں شئر نہ ہوتو بہت اچھاہے تاکہ نفس کے غلام مردوں کے ذہن وافکار میں شیطانی ہلچل نہ مچے عقلمندارااشارہ کافی است  یاد رہے یہ خواتین پردوں رہکر خواتین تک پیغام پہونچاتی ہیں مرد کی مجلس سے الگ ہوکر پردے میں رہکر مشورے یاتنظیم کے تحت کام کرتی ہیں 

نیپال مسلم فلاح تنظیم کے وہ گیارہ ممبران جنکو آپ جاننا چاہتے ہیں وہ یہ ہیں 

١۔ حضور قاضئ نیپال مجودہ مفتئ اعظم نیپال مفتی عثمان برکاتی صاحب قبلہ۔۔
٢۔ سعیدالحق صاحب۔۔
٣۔ محمودعالم صاحب ۔۔
٤۔ محمدظاہر صاحب۔۔
٥۔ صلاح الدین صاحب
٦۔  جان محمد صاحب۔۔
٧۔ منٹوشیخ صاحب ۔۔
٨۔ امتیاز احمد صاحب ۔۔
٩۔ اسلامی بہن ۔۔
١٠۔۔ اسلامی بہن ۔
١١۔ اسلامی بہن ۔۔

فروغ اسلام وسنیت وخدمت دین حنیف وملک وملت کیلے یہ مختصر سا قافلہ میدان عمل میں ہیں آپ سب دعاء فرمائیں ان سب کی قربانی کو رب متعال قبول فرماٸیں اور فیضان صحابہ و صحابیات واولیاء واولیات وصالحین وصالحات سے دونوں عالم میں سرخروعطافرماے آمین بجاہ سیدالمرسلین وخاتم النبین 

نوٹ ۔۔۔  کسی قارئین کو کچھ کمی نظر أٸے تو خدارا گروپ میں لعن طعن وتنقید کے بجاے پرسنل پہ اصلاح فرمائیں کسقدر محنت اور کتنے وقت کے صرفے سے ایک مضمون تیار ہوتاہے وہ اہل قلم پہ مخفی نہیں مگر تنقید کرکے انکے حوصلے توڑنا بڑا آسان ہے پلیز کمی کو نظر انداز فرمائیں اور نیت محمود کے ساتھ پرسنل پہ رابطہ فرمائیں مجھے مشکور پائیں گے شرعی غلطی پہ توبہ ورجوع کرتا پائیں گے  ان شاءاللہ المستعان 

کتبہ ۔۔۔شہاب الدین حنفی سمردہی جلیشور مہوتری جنکپور نیپال مقیم حال 

الدولۃ السعودیہ عربیہ
موباٸل نمبر 0536090224 

2..2..2020
شائع کردہ ۔۔۔نیپال مسلم فلاح تنظیم ۔۔ونیپال کا مستقبل گروپ سوشل میڈیا
فروغ اسلام میں خواتین کا کردار ، از قلم علامہ شہاب الدین حنفی عطاری عفی عنہ فروغ اسلام میں خواتین کا کردار ، از قلم علامہ شہاب الدین حنفی عطاری عفی عنہ Reviewed by Belal Barkati on 7:02 AM Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.