اسلام ، اہل اسلام اور علمائے کرام
آج اگر عالمی سطح پر اسلام اور اہل اسلام کی بات کی جائے تو عالمی دنیا میں باطل کے سینے میں سب سے زیادہ چبھنے والا مذہب اسلام ہے اور دنیا کا سب سے مظلوم اور بےبس طبقہ مسلمان ہے اور سب سے کمزور بزدل دنیا کے نشیب و فراز سے ناواقف بدلتے حالات سے بے خبر لیڈر علماء کی جماعت ہیں ، اول تو ہمارے علماء اسٹیجوں پر کبھی عالمی دنیا کی بات کرتے نہیں تاریخ اسلام کی بات کرتے نہیں ، اور اگر ایک آدھ علماء مقررین تاریخ اسلام کی بات کرتے بھی ہیں تو بس اتنا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں ستائس غزوات ہوئے ، حضرت خالد بن ولید نے ساٹھ لاکھ دشمن فوج کے مقابلے میں صرف ساٹھ لشکر لے کر گئے اور فتحیاب ہوکر لوٹے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے کبھی شکست نہیں کھائی سلیبیوں سے بیت المقدس آزاد کروایا ، ارتغرل غازی نے جہاد کرکے اسلام کو تین بر اعظموں میں پھیلا دیا ان کے بیٹے عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ قائم کرکے زمین کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنادیا ، ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی وغیرہ وغیرہ ،
یہ سب باتیں تو آپ سنیں گے یا سنے ہوں گے لیکن آج تک میں نے یہ نہیں سنا کہ مسلمانوں اٹھو اپنا حق لو ، اپنی قیادت سنبھالو ، دنیا پہ حکمرانی کیسے کی جائے اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرو ، دنیا میں ظلم وبربریت کے بازار گرم ہے اس کے خلاف محاذ کھولو نہیں قطعی نہیں ، بس اسلام امن کا درس دیتا ہے مسلمان امن پسند ہے ، ہم مذمت کرتے ہیں ہم اپنا دکھ جتاتے ہیں ، ہمارا سینہ حاضر ہے ، جتنے تمہارے بندوق میں گولی نہیں اتنے ہمارے پاس سینے ہیں وغیرہ وغیرہ ،
کل کے غازی اپنا حق لیتے تھے آج اپنا حق دیتے بھی ہیں پھر ظلم بھی سہتے ہیں اور کفریہ کلمات کافروں کی دھمکیوں سے بولتے بھی ہیں اور پھر قتل بھی کر دیے جاتے ہیں ، پر ہم امن پسند ہیں بس ،،،
ہمارے آج کے علماء سیاست کو حرام سمجھتے ہیں سیاسی ظالم حکمران کے خلاف بات کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں یا پھر خوف اس قدر حاوی ہے کہ منہ سے کچھ لفظ ادا ہی نہیں ہو پاتے ہیں ،
ہمارے علماء پچھلے ایک سو سالوں سے صرف مسلکی اختلاف میں مبتلا ہیں ، اس کے باوجود قوم مسلم کو وہابیت دیوبندیت رافضیت ، قادیانیت ، سے آزاد نہیں کروا سکے بلکہ گزشتہ کچھ سالوں کی بات کی جائے تو گاؤں کے گاؤں وہابیت دیوبندیت اختیار کر چکے ہیں ، پر کہیں ایسا نہیں دیکھا گیا یا سنا گیا کہ کوئی ایک گاؤں بھی وہابیت دیوبندیت سے توبہ کر کے اہلسنت والجماعت میں شمولیت اختیار کیا ہو ، دو چار لوگ کہیں توبہ کرکے آئے بھی ہیں میں ان کی نفی نہیں کررہا ، میں یہاں اجتماعیت کی بات کررہا ہوں ،
ہمارے علماء نہ تو اپنی غیروں تک اسلام کا پیغام پہونچا سکے اور نہ ہی اپنوں کو بچانے میں کامیاب ہوسکے ، تو پھر ہم کیسے کسی کو قائد مانیں کس کی پیروی کریں ،
ہندوستان میں جب بھی کہیں رسول اللہ صلی اللہ کی گستاخی ہوئی ہے احتجاج کے میدان میں کالج یونیورسٹی کے مسلم طلبہ ہی آئے ہیں کسی مدرسہ کے طلبہ کو سڑکوں پر احتجاج کرتے نہیں دیکھا گیا ، تسلیمہ نسرین نے گستاخی کی تو ممبئی میں کئی نوجوان احتجاج کرتے ہوئے شہید ہوگئے اس میں بھی مدرسہ کے طلبہ نہیں تھے ،
ہمارے علماء طلبہ کو ایسی تعلیم نہیں دے سکے جس سے وہ قوم کی رہنمائی کر سکے عالمی ستح پر نہیں تو کم از کم ملکی ستح پر ہی سہی پر نہیں ،
بلکہ آج ہمارے جلسوں کے اشتہاروں میں بڑے حرفوں میں نوٹ لگا کر لکھا ہوتا ہے کہ اس جلسہ کو سیاست حاضرہ سے کوئی تعلق نہیں ، آخر کا سے تعلق ہے پتہ نہیں ،
رسول کائنات سے لے کر حضرت اورنگزیب عالمگیر ، تک جتنے بھی لوگوں نے حکمرانی کی ہے دنیا پر کیا وہ آج کے ہمارے علماء سے کم پڑھے لکھے لوگ تھے؟ نہیں بلکہ حکومت کرنے والوں میں بڑے بڑے اللہ کے ولی گزرے ہیں ،
آخر ہمارے علماء قوم کو یہ شعور کیوں نہیں دیتے جس سے وہ دنیا پر حکمرانی کر سکے ،
کچھ سال قبل ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور مستقبل میں یہی عالم اسلامی کی رہنمائی کریں گے لیکن ، موجودہ صورت حال کو دیکھ کر یہ یقین ہوگیا کہ پاکستان اس کے اس کے اہل ہی نہیں ہے ، بلکہ اس کا اصل اہل ترکی ہے جس نے ماضی میں خلاف عثمانیہ قائم کرکے دنیا پر حکمرانی کی اور آج بھی ترکی اس جانب رواں دواں ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ یہ سعادت ترکیوں ہی کے نصیب میں ہے ، پھر سے خلافت کے قریب پہنچ چکا ہے ترکی ، اللہ انہیں اپنی مقصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین،
باتیں تو کافی ہے ہماری کمزوریوں پر لیکن لکھنے سے کیا فائدہ جب مسلمان سمجھ ہی نہ سکے ،،،، فقط والسلام
کتبہ✍🏻: محمد بلال برکاتی نیپالی
13/05/2020
اسلام اہل اسلام اور علماء کرام
Reviewed by Belal Barkati
on
4:50 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
4:50 AM
Rating:


No comments: