بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مدرسہ جیشیہ مسعود العلوم ہرینگر گاؤں پالیکا سنسری نیپال کا مختصر تعارف
ہرینگر گاؤں پالیکا 4 سنسری نیپال ایک میں واقع ایک عظیم دینی درسگاہ موجود ہے جو تقریبا پچاس سالوں سے قائم ہے اور تشنگان علوم کی تشنگی بجھا رہا ہے اور ہر خواص و عام اس سے مستفیض ہو رہے ہیں ، یہ ادارہ پہلے ایک مکتب کی شکل میں تھا جہاں قرآن کی ابتدائی تعلیم ہوتی تھی جس میں جہاں تک میری معلومات کا دائرہ ہے سب سے پہلے ہندوستان کے شعبہ بہار کے ضلع سیوان کے رہنے والے مفتی اعظم سیوان حضرت علامہ مولانا انیس عالم سیوانی رحمۃ اللہ علیہ امامت و خطابت کا کام انجام دے رہے تھے ، پھر ان کے چلے جانے کے بعد پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا محمد جمال الدین فریدی دیوانگنج سنسری نیپال نے یہ خدمت سنبھالی اور تادم حیات بحسن و خوبی امامت و خطابت کا کام انجام دیتے رہے اور عوام خواص ان سے مستفیض ہوتے رہے ، پھر ان کے وصال پر ملال کے بعد اور بھی کئی شخصیات تشریف لائے اور درس و تدریس کا کام انجام دیا ،
جب میں (بلال برکاتی نیپالی) مدرسہ جانے کے قابل ہوا تو میرے والد محترم نے مجھے مکتب میں لے جاکر داخلہ کروایا جہاں تک مجھے یاد ہے اس وقت حضرت مولانا محمد یوسف مرحوم رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبد الستار ، تعلیم دے رہے تھے ، میں اس وقت قاعدہ بغدادی ہی پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران شاگرد مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانا محمد سہراب صاحب رضوی دامت فیوضہم بھوٹہا 7 سنسری کو اہل محلہ نے منتخب کیا اور پھر حضرت علامہ مولانا محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ کی شاگردی میں میں تعلیم حاصل کرنے لگا،
حضرت نے چاہا کہ اب اس مکتب کو مدرسہ کی شکل دی جائے اس کے لئے ، سنہ 1415 ہجری مطابق 09 جون 1994ء کو بنام مدرسہ رضویہ جیشیہ مسعود العلوم کا قیام عمل میں آیا ،
مفتی اعظم نیپال پیر طریقت رہبر راہ شریعت مفکر اسلام حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ و قاری جیش محمد صدیقی البرکاتی المعروف بہ حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے جیشیہ ، نام رکھا گیا کیونکہ ہرینگر گاؤں پالیکا کے ساری عوام اہلسنت حضرت ہی کے مریدین میں سے ہیں ،
اور محترم المقام حاجی محمد مسعود صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ ، کی جانب نسبت کرتے ہوئے مسعود العلوم رکھا گیا ، وہ اس لئے لئے مدرسہ کے لئے جو زمین وقف کی وہ انہوں نے ہی وقف کی تھی اور آج بھی حاجی مسعود رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے صاحب زادے حضرت مولانا محمد یوسف مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کا مزار شریف مدرسہ کے احاطہ میں موجود ہے ،
حضرت علامہ مولانا محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ کی نظامت میں مدرسہ چلتا رہا اور روز افزوں ترقی کرتا رہا ، مدرسہ میں جتنی تعلیم ہو سکتی تھی انتی تعلیم دینے کے بعد جو بچے آگے پڑھنا چاہتے تھے انہیں اہلسنت کے دیگر اداروں میں بھیج دیا جاتا تھا یعنی مدرسہ ھذا سے نکلنے کے بعد اکثر بچوں کو جامعہ حنفیہ غوثیہ جنکپور دھنوشہ نیپال حضور شیر نیپال علیہ الرحمہ کے مدرسہ میں بھیج دیا جاتا تھا ،
حضرت علامہ محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ دامت فیوضہم کے قدموں کی برکت ہے کہ اس علاقے میں آج درجنوں علماء حفاظ موجود ہیں ، فاالحمدللہ علی ذلک،
حضرت علامہ مولانا سہراب صاحب قبلہ رضوی دامت برکاتہم المقدسیہ کی نظامت میں درجنوں مدرسین مدرسہ میں آئے اور گئے پر حضرت آج بھی نظامت سنبھالے ہوئے ہیں ،
حضرت ہی کی نظامت میں مجھ ناچیز (بلال برکاتی) کو بھی خدمت کا موقع ملا غالبا سنہ 2009ء میں استاذ العلماء ناظم اعلی حضرت علامہ مولانا محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ دامت فیوضہم کے حکم پر اہل محلہ نے مجھے منتخب کیا ، اور میرے ساتھ ایک ماسٹر جناب کلیم انصاری صاحب کو بھی رکھا گیا جن کی ذمہ داری بچوں کو عصری تعلیم سے روشناس کرانا تھا پھر میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد مدرسہ میں درجہ والا نظام جاری کیا جو بچے جس درجے کے لائق تھے انٹر ویو کے بعد انہیں اس درجہ میں رکھا گیا ، کچھ سالوں بعد ناظم اعلی حضرت علامہ مولانا محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ دامت فیوضہم نے اپنی جگہ اپنے چھوٹے صاحب زادہ حضرت مولانا قمر الزماں آسوی برکاتی صاحب کو منتخب فرمایا پر نظامت کی ذمہ داری اپنے ہی ہاتھوں میں رکھا، مدرسہ اپنے آب و تاب کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہوا ، پھر تقریبا دو سال کے بعد میں نے تین کمروں پر مشتمل ایک عمارت کی سنگ بنیاد رکھی جو الحمدللہ پوری ہوئی پھر اس کے کچھ سال بعد دو مزید کمروں کی بنیاد رکھی ، پر اس کا کام مکمل ہونے سے پہلے سنہ 2016ء میں میں مدرسہ کی ذمہ داری سے معزول ہوگیا (اب کیوں ہوا کیا وجوہات تھے اس کا ذکر یہاں مناسب نہیں) ، میرے معزول ہونے کے بعد حضرت علامہ مولانا محمد اعجاز احمد ضیائی برکاتی ، اور شہزادہ ناظم اعلی حافظ و قاری محمد سرفراز عالم صاحب قبلہ کو درس و تدریس کے لئے منتخب کیا گیا اور آج یہی دونوں حضرات مدرسہ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں پر نظامت کا عظیم منصب آج بھی ناظم اعلی حضرت علامہ مولانا محمد سہراب رضوی صاحب قبلہ دامت فیوضہم کے ہاتھوں میں ہی ہے ، اس وقت مدرسہ ھذا میں تقریبا آٹھ اسٹاف خدمت انجام دیے رہے ہیں اور مدرسہ کی اس وقت 5 کمروں پر مشتمل منزلہ عمارت مکمل ہو چکی ہے اور مدرسہ اپنے آب و تاب مے ساتھ جاری ہے ، ان شاءاللہ تعالیٰ عنقریب پروانچل نیپال کی مرکزی حیثیت حاصل ہوگی کیونکہ اس وقت پروانچل نیپال میں اس سے بہتر اور اعلی ادارہ موجود نہیں ہے ، یہ تھا مدرسہ رضویہ جیشیہ مسعود العلوم ہرینگر گاؤں پالیکا 4 سنسری نیپال کا مختصر تعارف ، جسے میں نے اپنی معلومات کے اعتبار سے قلمبند کیا ، اس میں کچھ کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے جسے احباب کے تبصرے کے بعد داخل و خارج کیا جا سکتا ہے اور پھر تازہ اپڈیٹ کے ساتھ شائع بھی کیا جائے گا ان شاءاللہ تعالیٰ ،
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہیکہ مولی اس ادارہ کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ،،
تحریر✍🏻: محمد بلال برکاتی نیپالی
16/05/2020
مدرسہ رضویہ جیشیہ مسعود العلوم ہرینگر گاؤں پالیکا سنسری نیپال ایک تعارف
Reviewed by Belal Barkati
on
6:06 AM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
6:06 AM
Rating:


واہ ماشاءاللہ بہت خوب
ReplyDeleteبہت اچھی معلومات کا انمول خزانہ دیا آپ نے
اللہ جزائے خیر عطا فرمائے آمین