طالبات علوم نبویہ نیپال اور ان کے سرپرست سے ایک اہم اپیل
از قلم ۔۔۔شہاب الدین حنفی ۔۔۔۔
بڑوسی ملک ہندوستان سےبلاشبہ ہمارے ملک کی اچھی دوستی تھی اور رہے گی، دونوں ملکوں کے بیچ حق پڑوسی ادا کرنے میں کوئ کمی بھی نہیں ،صدیوں سے اس کی دوستی ضرب المثل ہے ،ایک دوسرے کے مابین گہرے سیاسی، سماجی ،تجارتی ،تعلیمی ،مراسم ہے ، یہی وجہ ہیکہ ہندستانی قوم نیپال میں اور نیپالی قوم ہندوستان میں اپنے گھر کی طرح رہتے ہیں، لین دین شادی بیاہ کرتے ہیں ان دونوں ملکوں کے بیچ سفری پابندی نہیں ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ آتے ہیں ،اور جاتے ہیں ،مگر گزشتہ چند سالوں سے،ہندوستان اور نیپال کے مابین سیاسی رشتے کافی خراب ہورہے ہیں، اور مستقبل میں نہ جانے کیا صورت حال ہو ،ادھر ہندوستان میں جب سے بی، جے،پی ،برسراقتدار ہوئ ہے،تب سے مسلمانوں کے خلاف جتنی ہندو دھشت گرد تنظیمیں ہیں،جیسے آر،یس یس،ہندویوواواہنی،بجرنگ دل ،شیو سینا،ودیگر ہندوتنظیم ہر طرف سے مسلمانوں کی زندگی کو جہنم بنارہی ہے یہی وجہ ہیکہ گاۓ کے نام پر، کبھی جے شیری رام کے نام پر ،قتل وغارت کررہے ہیں،اور یہ سب حکومت کے ایما واشارے پر ہورہاہے ،جگہ جگہ دنگے فساد کرنا مساجد کو جلانا مسلم مسافرین کو ٹرین میں موت کے گھاٹ اتارنا ،علماء وداڑھی والے کو تشدد کا نشانہ بنا ،وغیرہ وغیرہ اور اب کرونا کے نام پہ مسلم منافرت تحریک چلانا یہ سب اس بات دال ہیکہ وہاں مسلمانوں کی جان عزت وآبرو سخت خطرے میں ہے ،ایسی صورت حال میں نیپالی طالبہ کو حصول علم کیلے ہندوستانی مدارس کی طرف جانا سخت تشویش ناک بات ہے ،جبکہ فی الحال نیپال اور ہندوستان کے مابین سیاسی جنگ بھی عروج پر ہے ہندوستان جبرا چاہ رہاہے ،کہ نیپالی سرزمین پر قبضہ جماے اور ہڑپ کرجاے ،ظاہر سی بات ہے اگر ہندوستان جبرا ایسا کرتا ہے تو نیپال بھی خاموش نہیں رہےگا ،عالمی عدالت میں کیس دائر ہوگا پھر دونوں ممالک کے مابین بہت شدید سیاسی، سماجی ،تجارتی معاشرتی ،خرابی پیدا ہوسکتی ہے ،اسپر بھی مستضاد ہندوستانی میڈیا کا دوغلہ پنی والا کردار آپ سب کے سامنے ہے،یہ تو چاہے گا کہ کب جنگ کروادے چاہے نیپال برباد ہوجاے مگر یہ اس کی بھول ہے اگر چہ نیپال ہندوستان کا ایک کونہ بھی نہیں ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ بہت کمزور ہے ،میں دعاء کرونگا کہ ایسا کچھ نہ ہو مگر ہندوستانی میڈیا جو شتر بے مہار کی طرح آزاد ہے جس نے ہندوستان کی ناک عالمی طور پہ کٹوادی ہے اتناکچھ ہونےکے باوجودبےبس مودی اسپر لگام نہیں لگا رہاہے ،خیر یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے ،ہم اپنے ہم وطن طالبان علوم نبوی وطالبات ،اور ان کے سرپرستوں سے کہیں گے ،کہ آپ کیلے بہتر یہی ہیکہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہندوستانی مدارس کا رخ نہ کریں ،طلباء اگر جاتے بھی ہیں ،تو ان کیلے زیادہ خطرے کی بات نہیں ہے،جبکہ ہماری بہنیں طالبات کیلے شدید خطرے کی بات ہے بھلے ہی وہ گارجین کے ساتھ جاے ابھی لاک ڈاؤن نے ہم کو سبق سیکھادیا ہے نہ جانے کتنے طلبہ وطالبات ومعلمات کہاں کہاں پھنس گئ تھی ،چاہ کر بھی وہ نہیں جاسکتی تھی اسلیے میرے ملک کے غیور مسلمانوں آپ کی بھلائ ہماری بھلائ اسی میں ہیکہ آپ اپنی بچیوں کو فی الحال ہندوستانی مدارس میں نہ بھیجیں ،الحمدللہ ہمارے نیپال میں بھی کئ مدارس بنات قائم ہیں ،آپ اپنی بچیوں کو وہاں داخلہ کروائیں ،میں کسی بھی مدارس کا نام خاص نہیں کرتا آپ جہاں چاہیں داخلہ کروائیں،مگر اپنے ہی ملک میں کروائیں ،ساتھ ہی مدارس بنات کے مہتمم صاحبان سے عرض ہیکہ آپ سب بھی اپنے اپنے مدارس کو فعال بنائیں،مقصد حصول زر نہیں ،اصول دین ہو فروغ دین متین ہو،جتنے بنات کے مدارس ہیں سب کے مہتمم صاحبان کا ایک بوڑڈ ہو سب کا نصاب ایک ہو،تاکہ جو بچی جس مدرسہ میں جاے اس کو ایک ہی نصاب ملے نصاب تعلیم کا کورس صرف پانچ سالہ ہو تاکہ کم وقت میں زیادہ کچھ سیکھ کر ہماری قوم کی بیٹیاں گھر گرہستی بھی سنبھالیں اور معاشرے میں اہم دینی کردار ادا کریں ،ہر مدارس بنات والے اچھے سے اچھے سہولت فراہم کریں ،اخلاقیات پہ زیادہ زور دیں ،اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری باتیں میرے پیش نظر ہے فی الحال انہیں چند باتوں پر اپنی بات کو ختم کرتاہوں ،ان شاءاللہ قسط دوم میں دیگر امور پہ تبادلہ خیال کرونگاان شاءاللہ المستعان ۔۔۔۔۔
نوٹ۔۔۔۔یہ چند باتیں میں نے صرف آپ کی بھلائ خیر خواہی کے جزبے کے تحت کی ہے یہ سب باتیں مشورے ہیں حکم نہیں باقی عمل کرنا نہ کرنا قارئین پر ہے اور نیپالی عوام پر ہے یہی وجہ ہیکہ ہم نے کسی مدرسے کا نام استعمال نہیں کیا نہ ہندوستانی مدرسے کا نہ نیپالی مدرسے کا تاکہ کوئ یہ نہ سمجھیں کہ یہ اپنے مدرسے کی طرف راغب کرنا چاہتا ہے الدین نصیحہ پر عمل ہے خدا حافظ ۔۔۔
کتبہ ۔۔۔شہاب الدین حنفی سمردہی جلیشور مہوتری نیپال
مقیم حال الدولۃ السعودیہ
27,5,2020
طالبان علومِ دینیہ نیپال اور ان کے سرپرست سے ایک اہم اپیل
Reviewed by Belal Barkati
on
8:10 PM
Rating:
Reviewed by Belal Barkati
on
8:10 PM
Rating:


Bahut Khoob,Zaroori hai K Hum Pane Bachon K Liye Zaroor Rasta Nikalen
ReplyDelete